بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

علاماتِ‌قیامت

یاجوج‌ماجوج‌اور‌دَابۃ‌الارض‌کی‌حقیقت

سوال:۔

آپ نے اپنے صفحہ ’’اقرأ‘‘ میں ایک حدیث شائع کی تھی اور اس میں قیامت کی نشانیاں بتائی گئی تھیں، جن میں دجال کا آنا، دابۃ الارض اور یاجوج ماجوج کا آنا وغیرہ شامل ہیں۔ برائے مہربانی یہ بتائیں کہ یاجوج ماجوج، دابۃ الارض سے کیا مراد ہے؟ اور آیا کہ یہ نشانی پوری ہوگئی؟

جواب:۔

دجال کے بارے میں ایک دُوسرے سوال کے جواب میں لکھ چکا ہوں، اس کو ملاحظہ فرمالیا جائے۔

یاجوج ماجوج کے خروج کا ذکر قرآنِ کریم میں دو جگہ آیا ہے، ایک سورۂ انبیاء کی آیت:۹۶ میں، جس میں فرمایا گیا ہے:

’’یہاں تک کہ جب کھول دئیے جائیں گے یاجوج ماجوج اور وہ ہر اونچان سے دوڑتے ہوئے آئیں گے اور قریب آن لگا سچا وعدہ (یعنی وعدۂ قیامت) پس اچانک پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی آنکھیں منکروں کی، ہائے افسوس! ہم تو اس سے غفلت میں تھے، بلکہ ہم ظالم تھے۔‘‘(۱)

اور دُوسرے سورۂ کہف کے آخری سے پہلے رُکوع میں جہاں ذُوالقرنین کی خدمت میں یاجوج ماجوج کے فتنہ و فساد برپا کرنے اور ان کے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنانے کا ذکر آتا ہے، وہاں فرمایا گیا ہے کہ حضرت ذُوالقرنین نے دیوار کی تعمیر کے بعد فرمایا:

’’یہ میرے رَبّ کی رحمت ہے، پس جب میرے رَبّ کا وعدہ (وعدۂ قیامت) آئے گا تو اس کو چور چور کردے گا، اور میرے رَبّ کا وعدہ سچ ہے۔ (آگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) اور ہم اس دن ان کو اس حال میں چھوڑ دیں گے کہ ان میں سے بعض بعض میں ٹھاٹھیں مارتے ہوں گے۔‘‘(۲)

ان آیاتِ کریمہ سے واضح ہے کہ یاجوج ماجوج کا آخری زمانے میں نکلنا علمِ اِلٰہی میں طے شدہ ہے اور یہ کہ ان کا خروج قیامت کی نشانی کے طور پر قربِ قیامت میں ہوگا۔ اسی بنا پر حدیثِ نبوی میں ان کے خروج کو قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں شمار کیا گیا ہے، اور بہت سی احادیث میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ان کا خروج سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ہوگا۔ احادیثِ طیبہ کا مختصر خاکہ پیش خدمت ہے۔

ایک حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دجال کو قتل کرنے کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہے:

’’پھر عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں کے پاس جائیں گے جن کو اللہ تعالیٰ نے دجال کے فتنے سے محفوظ رکھا ہوگا اور گرد و غبار سے ان کے چہرے صاف کریں گے اور جنت میں ان کے جو درجات ہیں، وہ ان کو بتائیں گے۔ ابھی وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ اتنے میں اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجے گا کہ میں نے اپنے ایسے بندوں کو خروج کی اجازت دی ہے جن کے مقابلے کی کسی کو طاقت نہیں، پس آپ میرے بندوں کو کوہِ طور پر لے جائیے۔

اور اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ہر بلندی سے تیزی سے پھسلتے ہوئے اُتریں گے، پس ان کے دستے بحیرۂ طبریہ پر گزریں گے تو اس کا سارا پانی صاف کردیں گے اور ان کے پچھلے لوگ آئیں گے تو کہیں گے کہ کسی زمانے میں اس میں پانی ہوتا تھا۔ اور وہ چلیں گے یہاں تک کہ جب جبلِ خمر تک جو بیت المقدس کا پہاڑ ہے، پہنچیں گے تو کہیں گے کہ زمین والوں کو تو ہم قتل کرچکے، اب آسمان والوں کو قتل کریں۔ پس وہ آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے تیر خون سے رنگے ہوئے واپس لوٹادے گا۔

اور اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے رُفقاء کوہِ طور پر محصور ہوں گے اور اس محاصرے کی وجہ سے ان کو ایسی تنگی پیش آئے گی کہ ان کے لئے گائے کا سر تمہارے آج کے سو درہم سے بہتر ہوگا۔ پس اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے رُفقاء اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دُعا کریں گے، پس اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کی گردنوں میں کیڑا پیدا کردے گا، جس سے وہ ایک آن میں ہلاک ہوجائیں گے۔ پھر اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے رُفقاء کوہِ طور سے زمین پر اُتریں گے تو ایک بالشت زمین بھی خالی نہیں ملے گی جو ان کی لاشوں اور بدبو سے بھری ہوئی نہ ہو، پس اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے رُفقاء اللہ سے دُعا کریں گے، تب اللہ تعالیٰ بختی اُونٹوں کی گردنوں کے مثل پرندے بھیجے گا، جو ان کی لاشوں کو اُٹھاکر جہاں اللہ کو منظور ہوگا پھینک دیں گے۔

پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا کہ اس سے کوئی خیمہ اور کوئی مکان چھپا نہیں رہے گا، پس وہ بارش زمین کو دھوکر شیشے کی طرح صاف کردے گی (آگے مزید قربِ قیامت کے حالات مذکور ہیں)۔‘‘

(صحیح مسلم، مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، مستدرک حاکم، کنز العمال، بحوالہ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۱۸ تا ۱۲۵)(۳)

۲:۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ وہ پرندے یاجوج ماجوج کی لاشوں کو نہبل میں لے جاکر پھینکیں گے اور مسلمان ان کے تیر کمان اور ترکشوں کو سات برس بطور ایندھن استعمال کریں گے (مشکوٰۃ ص:۴۷۴)۔(۴)

۳:۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ معراج کی رات میری ملاقات حضرت ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ہوئی، قیامت کا تذکرہ آیا، تو سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا، انہوں نے فرمایا کہ: مجھے اس کا علم نہیں۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، انہوں نے بھی یہی جواب دیا، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال ہوا، انہوں نے فرمایا: قیامت کے وقوع کا وقت تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں، البتہ میرے رَبّ عزّ وجل کا مجھ سے ایک وعدہ ہے اور وہ یہ کہ دجالِ اکبر خروج کرے گا تو اس کو قتل کرنے کے لئے میں اُتروں گا، وہ مجھے دیکھتے ہی رانگ کی طرح پگھلنا شروع ہوگا، پس اللہ تعالیٰ اسے میرے ہاتھ سے ہلاک کردیں گے۔ یہاں تک کہ شجر و حجر پکار اُٹھیں گے کہ: اے مؤمن! میرے پیچھے کافر چھپا ہوا ہے، اسے قتل کر! پس میں دجال کو قتل کردوں گا اور دجال کی فوج کو اللہ تعالیٰ ہلاک کردے گا۔

پھر لوگ اپنے علاقوں اور وطنوں کو لوٹ جائیں گے۔ تب یاجوج ماجوج نکلیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑے ہوئے آئیں گے، وہ مسلمانوں کے علاقوں کو روند ڈالیں گے، جس چیز پر سے گزریں گے اسے تباہ کردیں گے، جس پانی پر سے گزریں گے اسے صاف کردیں گے، لوگ مجھ سے ان کے فتنہ و فساد کی شکایت کریں گے، میں اللہ تعالیٰ سے دُعا کروں گا، پس اللہ تعالیٰ انہیں موت سے ہلاک کردے گا، یہاں تک کہ ان کی بدبو سے زمین میں تعفن پھیل جائے گا، پس اللہ تعالیٰ بارش بھیجے گا جو ان کو بہاکر سمندر میں ڈال دے گی۔

بس میرے رَبّ عزّ وجل کا مجھ سے جو وعدہ ہے، اس میں فرمایا کہ جب یہ واقعات ہوں گے تو قیامت کی مثال اس پورے دنوں کی حاملہ کی ہوگی جس کے بارے میں اس کے مالکوں کو کچھ خبر نہیں ہوگی کہ رات یا دن کب، اچانک اس کے وضع حمل کا وقت آجائے(مسند احمد، ابن ماجہ، ابن جریر، مستدرک حاکم، فتح الباری، درمنثور، التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۵۸، ۱۵۹)۔(۵)

یاجوج ماجوج کے بارے میں اور بھی متعدّد اَحادیث ہیں، جن میں کم و بیش یہی تفصیلات ارشاد فرمائی گئی ہیں، مگر میں انہی تین احادیث پر اِکتفا کرتے ہوئے یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں کہ آیا یہ نشانی پوری ہوچکی ہے یا ابھی اس کا پورا ہونا باقی ہے؟ فرمائیے! آپ کی عقل خداداد کیا فیصلہ کرتی ہے۔۔۔؟

رہا دابۃ الارض! تو اس کا ذکر قرآنِ کریم کی سورۃ النمل آیت:۸۲ میں آیا ہے، چنانچہ ارشاد ہے:

’’اور جب آن پڑے گی ان پر بات (یعنی وعدۂ قیامت کے پورا ہونے کا وقت قریب آلگے گا) تو ہم نکالیں گے ان کے لئے ایک چوپایہ زمین سے جو ان سے باتیں کرے گا کہ لوگ ہماری نشانیوں پر یقین نہیں لاتے تھے۔‘‘(۶)

جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دابۃ الارض کا خروج بھی قیامت کی بڑی علامتوں میں سے ہے اور ارشاداتِ نبویہ میں بھی اس کو علاماتِ کبریٰ میں شامل کیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ چھ چیزوں سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو، دخان، دجال، دابۃ الارض، مغرب سے آفتاب کا طلوع ہونا، عام فتنہ اور ہر شخص سے متعلق خاص فتنہ (مشکوٰۃ ص:۴۷۲)۔(۷)

ایک اور حدیث میں ہے کہ: قیامت کی پہلی علامت جو لوگوں کے سامنے ظاہر ہوگی، وہ آفتاب کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت لوگوں کے سامنے دابۃ الارض کا نکلنا ہے، ان میں سے جو پہلے ہو دُوسری اس کے بعد متصل ہوگی(مشکوٰۃ، صحیح مسلم)۔(۸)

ایک اور حدیث میں ہے کہ: تین چیزیں جب ظہور پذیر ہوجائیں گی تو کسی نفس کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو، یا اس نے ایمان کی حالت میں کوئی نیکی نہ کی ہو، آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال کا ظاہر ہونا اور دابۃ الارض کا نکلنا (مشکوٰۃ، صحیح مسلم)۔(۹)

ایسا لگتا ہے کہ اس دُنیا کے لئے آفتاب کے طلوع و غروب کا نظام ایسا ہے جیسے انسان کی نبض کی رفتار ہے۔ جب سے انسان پیدا ہوا ہے اس کی نبض باقاعدہ چلتی رہتی ہے، لیکن نزع کے وقت پہلے نبض میں بے قاعدگی آجاتی ہے اور کچھ دیر بعد وہ بالکل ٹھہر جاتی ہے، اسی طرح جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے، سورج کے طلوع و غروب کے نظام میں کبھی خلل نہیں آیا، لیکن قیامت سے کچھ دیر پہلے اس عالم پر نزع کی کیفیت طاری ہوجائے گی اور اس کی نبض بے قاعدہ ہوجائے گی، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ: آفتاب کو ہر دِن مشرق سے طلوع ہونے کا اِذن ملتا ہے، ایک دن اسے مشرق کے بجائے مغرب کی جانب سے طلوع ہونے کا حکم ہوگا (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔(۱۰)

پس جس طرح نزع کی حالت میں ایمان قبول نہیں ہوتا، اسی طرح آفتاب کے مغرب کی جانب سے طلوع ہونے کے بعد (جو اس عالم کی نزع کا وقت ہوگا) توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا، اس وقت ایمان لانا مفید نہ ہوگا، نہ ایسے ایمان کا اعتبار ہوگا، اور توبہ کا دروازہ بند ہونے کے بعد بے ایمانوں کو رُسوا کرنے اور ان کے غلط دعویٔ ایمان کا راستہ بند کرنے کے لئے مؤمن و کافر پر الگ الگ نشان لگادیا جائے گا۔

’’دابۃ الارض جب نکلے گا تو اس کے پاس موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور سلیمان علیہ السلام کی انگشتری ہوگی، وہ انگشتری سے مؤمن کے چہرے پر مہر لگادے گا، جس سے اس کا چہرہ چمک اُٹھے گا، اور کافر کی ناک پر موسیٰ علیہ السلام کے عصا سے مہر لگادے گا۔ (جس کی وجہ سے دِل کے کفر کی سیاہی اس کے منہ پر چھا جائے گی) جس سے مؤمن و کافر کے درمیان ایسا امتیاز ہوجائے گا کہ مجلس میں مؤمن و کافر الگ الگ پہچانے جائیں گے۔‘‘(۱۱)

’’دابۃ الارض کے تھوڑے عرصہ بعد ایک پاکیزہ ہوا چلے گی، جس سے تمام اہلِ ایمان کا انتقال ہوجائے گا اور صرف شریر لوگ رہ جائیں گے، چوپاؤں کی طرح سڑکوں پر شہوت رانی کریں گے، ان پر قیامت واقع ہوگی۔‘‘(۱۲) (مشکوٰۃ)

جدید تحقیقات اور علاماتِ قیامت

مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں جناب ڈاکٹر عرفان محمود صاحب کے نظریات ہمارے ایک کرم فرما نے حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ العالی کی خدمت میں بغرض تحقیق بھیجے، جن کا جواب افادۂ عام کے لئے نذرِ قارئین کیا جاتا ہے۔ ۔۔۔(ادارہ)

۱:۔اہرامِ مصر:

اہرام مصر پر ثبت تحریروں کا ترجمہ مصر کے ایک ڈاکٹر نے کیا ہے، جس کے مطابق یہ تصویر نما تحریریں دراصل گزشتہ پانچ ہزار سال کی پیش گوئیاں ہیں، جو درست ثابت ہو رہی ہیں، انہی تحریروں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بیسویں صدی عیسوی کے آخر تک یہ کائنات تباہ ہوجائے گی، جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا، اور نئے سرے سے انسانیت وجود میں آئے گی۔

۲:۔زمین کی گردش:

ناسا (NASA) کے حوالے سے گزشتہ دنوں روزنامہ جنگ میں یہ خبر چھپی کہ زمین کی گردش کی رفتار کم ہو رہی ہے، تو یہ پیشنگوئی کی گئی ہے کہ اگر اسی حساب سے رفتار کم ہوتی رہی تو ٹھیک تین سال کے بعد گردش تھم جائے گی۔

۳:۔ستارہ:

اسی امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (ناسا) کے حوالے سے ایک اور خبر روزنامہ جنگ میں شائع ہوئی کہ کوئی (Commet) زمین کی سمت سفر کر رہا ہے، اور جس رفتار سے یہ سفر کر رہا ہے ٹھیک تین سال کے بعد یہ زمین سے ٹکرا جائے گا۔

نمبر ۲ اور ۳ کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ گردش کے رکنے اور ستارے کے ٹکرانے کا وقت ایک ہے، گویا زمین کی گردش رکنے کا مطلب یہ ہے کہ کشش ثقل ختم ہوجائے گی، اور اگر کشش ثقل ختم ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر چیز فضا میں بکھر جائے گی، پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح بکھر جائیں گے، جو کہ قیامت کی گھڑی ہوگی، لیکن ایسا ہے کہ قیامت نہیں بلکہ ’’ایک بڑا عذاب‘‘ آنے والا ہے، زمین کی یہ گردش جب رکنے کو ہوگی تو وہ سیارچہ (Commet) زمین سے ٹکرا جائے گا اور یہ گردش دوبارہ بحال ہوجائے گی، یعنی جاری ہوجائے گی، لیکن اس وقت تک زلزلوں کی وجہ سے بہت تباہی آچکی ہوگی، اور نئے سرے سے انسانیت کا آغاز ہوگا۔

۱:۔اس نئی انسانیت (New Civilization) یعنی پتھر اور تلوار کے زمانے کا تصور بھی اسلام سے ہمیں ملتا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کی جامع مسجد پر آسمان سے اتریں گے تو ان کے ہاتھ میں ’’تلوار‘‘ ہوگی، جس سے وہ مسیح دجال کا سر قلم کریں گے، آج تو کلاشنکوف کا دور ہے، کلاشنکوف سے اس معیار کے دشمن کا خاتمہ ناممکن ہے۔

۲:۔جہاں تک سیارے کے زمین سے ٹکرانے کی بات ہے، تو مجھے قرآن نے یہ رہنمائی دی، جب میں نے قرآن سے اپنے خاص انداز سے رہنمائی چاہی، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ﵟ وَإِن يَرَوۡاْ كِسۡفٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ سَاقِطٗا يَقُولُواْ سَحَابٞ مَّرۡكُومٞ ٤٤ فَذَرۡهُمۡ حَتَّىٰ يُلَٰقُواْ يَوۡمَهُمُ ٱلَّذِي فِيهِ يُصۡعَقُونَ ٤٥ ﵞ(الطور٤٤ و ٤٥)

ترجمہ:۔’’اور جب وہ اپنے اوپر آسمان کے ایک بڑے ٹکڑے کو گرتا ہوا (ساقط) دیکھیں گے تو وہ یہ کہیں گے کہ یہ تو کوئی بادل ہے، تہہ بہ تہہ، پس انہیں اس دن تک چھوڑدے جس میں ان پر (ایسا عذاب ہوگا کہ) غنودگی طاری ہوگی۔‘‘

میرے اس آیت کے پڑھنے کے دوسرے ہی روز کرم ایجنسی میں زلزلہ آگیا، روزنامہ پاکستان کی شہ سرخی تھی: ’’زمین پھٹی، چھ گاؤں زمین بوس ہوگئے۔‘‘ اور اس جگہ پر کوئی بدبو وغیرہ نہیں ہے، لیکن جب اس جگہ کے قریب کوئی جائے تو اس پر غنودگی طاری ہوتی ہے، تو میرے لئے یقینا یہ اس آیت مبارکہ کا مصداق تھا، جس میں کہا گیا کہ ان پر ایسا عذاب ہوگا کہ ان پر غنودگی طاری ہوگی۔

نتیجہ:۔نتیجہ یہ نکلا کہ قریب ہی اس امت پر ایک بڑا عذاب آنے والا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو تصور (Concept) عام ہے کہ امت مسلمہ پر اس قسم کا بڑا عذاب، جیسا کہ دوسری قوموں یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم وغیرہ پر آیا، نہیں آئے گا، چونکہ ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں، تو عرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ترجمہ:۔’’اور اللہ کا عذاب ظالموں سے دُور نہیں ہے۔‘‘

اور سب سے بڑا ظالم کون ہے؟ اور عذاب کے لئے جو شرط رکھی گئی ہے وہ شرک ہے، تو ہمارے آج کے معاشرے کو دیکھا جائے تو شرک عام ہے، اور تینوں اقسام کا شرک یعنی اللہ کی ذات میں شرک، اس کی صفات میں شرک اور اللہ کے احکامات میں شرک۔ اللہ نے کہا کہ جھوٹ نہیں بولنا، رشوت نہیں لینا، زنا نہیں کرنا، ہم جھوٹ بھی بول جاتے ہیں، زنا بھی کرتے ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ گناہ یعنی شرک فی احکام اللہ تو ہر دور میں رہا ہے، لیکن آج سے کچھ عرصہ پہلے بندہ زنا کر بیٹھتا تھا، یا جھوٹ بولتا تھا، یا سود کھاتا تھا تو اسے یہ احساس ضرور ہوتا تھا کہ میں نے گناہ کیا ہے، یعنی اسے گناہ سمجھا ہی نہیں جاتا۔

علاوہ ازیں ہم روزانہ عذاب کے لئے، جو کافروں پر ہوگا، بددعا بھی کرتے ہیں، یعنی وتر میں: ’’إِنَّ عَذَابَك بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ‘‘ یقیناً تیرا عذاب کافروں سے ملنے والا ہے، یعنی آنے والا ہے، یعنی قریب ہے۔

جواب:۔

جناب ڈاکٹر عرفان محمود صاحب کے نظریات پر مشتمل گرامی نامہ موصول ہوا، انہوں نے اہرام مصر، گردش زمین اور سیارہ کے بارے میں اپنی تحقیقات ذکر فرمائی ہیں، اور یہ بتایا ہے کہ ٹھیک تین سال کے بعد یہ حوادث رونما ہوں گے اور اس کے بعد نئے سرے سے انسانیت کا آغاز ہوگا۔

جیسا کہ آنجناب کو معلوم ہے، سائنسی تحقیقات سے مجھے زیادہ دلچسپی بھی نہیں، اور ان کو چنداں لائق اعتماد بھی نہیں سمجھتا، لیکن مجھے پروفیسر صاحب کے بیانات سے دو باتوں میں اتفاق ہے:

اوّل:۔ یہ کہ اس دُنیا کے خاتمے کا وقت قریب آن لگا ہے، یہ تو کہنا مشکل ہے کہ یہ دُنیا کب تک اور کتنے سال قائم رہے گی؟ لیکن آثار و قرائن بتاتے ہیں کہ وقت زیادہ دُور نہیں، اس لئے کہ دُنیا میں شر و فساد (جس کی طرف آپ نے بھی اشارہ کیا ہے) کی اصلاح کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، لوگ اکیسویں صدی کی زبردست تیاریاں کر رہے ہیں، لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ ان کی اکیسویں صدی ان کے لئے موت کا پیغام لائے گی۔

دوم:۔مجھے پروفیسر صاحب کی اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ موجودہ ترقیات کا زمانہ نہیں ہوگا، بلکہ دُنیا تیغ و تفنگ کی طرف لوٹ جائے گی۔

لیکن پروفیسر صاحب کے اس نظریے سے مجھے اتفاق نہیں کہ جس طرح طوفانِ نوح کے بعد دُنیا نئے سرے سے آباد ہوئی، اسی طرح نزولِ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد بھی دُنیا کی یہی حالت رہے گی۔

عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زمانہ، جیسا کہ احادیث صحیحہ میں وارِد ہے، بالکل آخری زمانہ ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں خیر و برکت اپنے عروج پر ہوگی، گویا زمین اپنے تمام خزانے اُگل دے گی، اور عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد ان کا جانشین سات سال رہے گا، اس کا زمانہ بھی قریب قریب عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے کے مشابہ ہوگا، اس کی وفات کے بعد دُنیا میں شر کا طوفان آجائے گا اور اہلِ ایمان یکبارگی اُٹھالئے جائیں گے، اور تمام کے تمام فسادی لوگ باقی رہ جائیں گے، ان پر قیامت واقع ہوگی، اور یہ زمانہ قریباً ایک صدی کا ہوگا، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ!

(۱) ﵟ حَتَّىٰٓ إِذَا فُتِحَتۡ يَأۡجُوجُ وَمَأۡجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٖ يَنسِلُونَ ٩٦ وَٱقۡتَرَبَ ٱلۡوَعۡدُ ٱلۡحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَٰخِصَةٌ أَبۡصَٰرُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَٰوَيۡلَنَا قَدۡ كُنَّا فِي غَفۡلَةٖ مِّنۡ هَٰذَا بَلۡ كُنَّا ظَٰلِمِينَ ٩٧ ﵞ الأنبياء ٩٦، ٩٧۔

(۲) ﵟ قَالَ هَٰذَا رَحۡمَةٞ مِّن رَّبِّيۖ فَإِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّي جَعَلَهُۥ دَكَّآءَۖ وَكَانَ وَعۡدُ رَبِّي حَقّٗا ٩٨ وَتَرَكۡنَا بَعۡضَهُمۡ يَوۡمَئِذٖ يَمُوجُ فِي بَعۡضٖۖ وَنُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَجَمَعۡنَٰهُمۡ جَمۡعٗا ٩٩ ﵞ الكهف ٩٨، ٩٩۔

(۳) ثم یأتی عیسٰی قوم قد عصمھم اللہ منہ، فیمسح عن وجوھھم ویحدّثھم بدرجاتھم فی الجنّۃ فبینما ھو كذالك إذ أوحی اللہ إلٰی عیسٰی علیہ السلام أنّی قد أخرجت عبادًا لی لَا یدان لأحد بقتالھم فحرّز عبادی إلی الطور۔ ویبعث اللہ یأجوج ومأجوج وھم من کل حدب ینسلون، فمرّ أوائلھم علٰی بحیرۃ طبریّۃ فیشربون ما فیھا ویمرّ آخرھم فیقولون: لقد کان بھٰذہ مرّۃ ماء۔ ویحصر نبی اللہ عیسٰی علیہ السلام وأصحابہ حتّٰی یکون رأس الثور لأحدھم خیرًا من مائۃ دینار لأحدكم الیوم، فیرغب نبی اللہ عیسٰی علیہ السلام وأصحابہ إلی اللہ تعالٰی فیرسل اللہ علیھم النغف فی رقابھم مصحون فرسی كموت نفس واحدۃ۔ ثم یھبط نبی اللہ عیسٰی علیہ السلام وأصحابہ إلی الأرض فلا یجدون فی الأرض موضع شبر إلّا ملأہ زھمھم ونتنھم فیرغب نبی اللہ عیسٰی علیہ السلام وأصحابہ إلی اللہ فیرسل اللہ طیرًا کأعناق البخت فتحملھم فتطرحھم حیث شاء اللہ۔ ثم یرسل اللہ مطرًا لَا یكنّ من بیت مدر ولَا وبر فیغسل الأرض حتّٰی یترکھا کالزّلفۃ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۱۸تا۱۲۵)۔

(۴) عن النواس بن سمعان ۔۔۔ فیرسل اللہ طیرًا ۔۔۔ تطرحھم بالنھبل ویستوقد المسلمون من قسیھم ونشابھم وجعابھم سبع سنین ۔۔۔الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۴، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال)۔

(۵) عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لقیت لیلۃ أسری بی إبراھیم وموسٰی وعیسٰی، قال: فتذاکروا أمر الساعۃ، فردوا أمرھم إلٰی إبراھیم فقال: لَا علم لی بھا، فرّدوا الأمر إلٰی موسٰی، فقال: لَا علم لی بھا، فردّوا الأمر إلٰی عیسٰی، فقال: أمّا وجبتھا فلا یعلمھا أحد إلّا اللہ تعالٰی، ذالك وفیما عھد إلیّ ربّی عزّ وجلّ أن الدّجّال خارج، قال: ومعی قضیبان فإذا رآنی ذاب كما یذوب الرصاس قال: فیھلکہ اللہ، حتّٰی إن الحجر والشجر لیقول: یا مسلم إنّ تحتی کافرًا فتعال فاقتلہ، قال: فیھلکھم اللہ تعالٰی۔ ثم یرجع الناس إلٰی بلادھم وأوطانھم، قال: فعند ذالك یخرج یأجوج ومأجوج وھم من کل حدب ینسلون، فیطأون بلادھم، لَا یأتون علٰی شیء إلّا أھلکوہ ولَا یمرون علٰی ماء إلّا شربوہ ثم یرجع الناس إلیّ فیشکونھم فأدعو اللہ علیھم فیھلکھم اللہ تعالٰی ویمیتھم حتّٰی تجوی الأرض من نتن ریحھم قال: فینزل اللہ عزّ وجلّ المطر فیجرف أجسادھم حتّٰی یقذفھم فی البحر ۔۔۔ ففیما عھد إلیّ ربّی عزّ وجلّ أن ذالك إذا کان كذالك فإن الساعۃ کالحامل المتمّ التی لَا یدری أھلھا متٰی تفجأھم بولَادھا لیلًا أو نھارًا۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۵۸ تا ۱۶۰)۔

(۶) ﵟ وَإِذَا وَقَعَ ٱلۡقَوۡلُ عَلَيۡهِمۡ أَخۡرَجۡنَا لَهُمۡ دَآبَّةٗ مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ تُكَلِّمُهُمۡ أَنَّ ٱلنَّاسَ كَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا لَا يُوقِنُونَ ٨٢ ﵞ النمل ٨٢۔

(۷) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی ا ﷲ علیہ وسلم: بادروا بالأعمال ستًّا: الدُّخان والدَّجَّال ودابّۃ الأرض وطلوع الشمس من مغربھا وأمر العامّۃ وخویصۃ أحدكم۔ (مشكٰوۃ ص:۴۷۲، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال)۔

(۸) عن عبداللہ بن عمرو قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ان اوّل الآیات خروجًا طلوع الشمس من مغربھا وخروج الدابّۃ علی الناس ضحًی وایّھما ما کانت قبل صاحبتھا فالاُخریٰ علٰی أثرھا قریبًا۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۲، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال)۔

(۹) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ثلاث اذا خرجن لَا ینفع نفسًا ایمانھا لم تكن آمنت من قبل أو كسبت فی ایمانھا خیرًا: طلوع الشمس من مغربھا والدّجّال ودابّۃ الأرض۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص: ۴۷۲)

(۱۰) عن أبی ذرّ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: حین غربت الشمس أتدری أین تذھب ھٰذہ؟ قلت: اللہ ورسولہ أعلم! قال: فانھا تذھب حتّٰی تسجد تحت العرش فتستأذن، فیؤذن لھا ویوشك أن تسجد ولَا تقبل منھا، وتستأذن فلا یؤذن لھا، ویقال لھا: ارجعی من حیث جئت! فتطلع من مغربھا فذٰلك قولہ تعالٰی: والشمس تجری لمستقر لھا، قال: مستقرھا تحت العرش۔ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۲، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال)۔

(۱۱) عن أبی ھریرۃ رضی ا ﷲ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تخرج دابۃ الأرض ومعھا عصا موسیٰ وخاتم سلیمان علیھما السلام، فتخطم أنف الکافر بالعصا، وتجلٰی وجہ المؤمن بالخاتم، حتّٰی یجتمع الناس علی الخُوان یعرف المؤمن من الکافر۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۴ ص:۶۸۴، المستدرك للحاكم ج:۴ ص:۴۸۵، طبع بیروت)۔

(۱۲) اذ بعث اللہ ریحًا طیبۃً فتأخذھم تحت اٰباطھم فیقبض روح کل مؤمن وكل مسلم، ویبقٰی شرار الناس یتھارجون فیھا تھارج الحمر فعلیھم تقوم الساعۃ۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۴، باب العلامات بین یدی الساعۃ)۔