علاماتِقیامت
دجالکاخروجاوراسکےفتنہفسادکیتفصیل
’’جنگ‘‘ اخبار میں آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی کے بارے میں حدیث کے حوالہ سے ’’ان کا حلیہ اور وہ آکر کیا کریں گے‘‘ لکھا تھا، اب مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات بھی لکھ دیں تو مہربانی ہوگی۔
سوال۱:۔
خرِ دجال کا حلیہ حدیث کے حوالے سے (کیونکہ ہم نے لوگوں سے سنا ہے کہ وہ بہت تیز چلے گا، اس کی آواز کرخت ہوگی وغیرہ وغیرہ)۔
سوال۲:۔
کانا دجال جو اس پر سواری کرے گا، اس کا حلیہ۔
جواب:۔
دجال کے گدھے کا حلیہ زیادہ تفصیل سے نہیں ملتا، مسند احمد اور مستدرک حاکم کی حدیث میں صرف اتنا ذکر ہے کہ اس کے دونوں کانوں کے درمیان کا فاصلہ چالیس ہاتھ ہوگا(۱) اور مشکوٰۃ شریف میں بیہقی کی روایت سے نقل کیا ہے کہ اس کا رنگ سفید ہوگا۔(۲)
دجال کے بارے میں بہت سی احادیث وارِد ہوئی ہیں، جن میں اس کے حلیہ، اس کے دعویٰ اور اس کے فتنہ و فساد پھیلانے کی تفصیل ذکر کی گئی ہے، چند اَحادیث کا خلاصہ درج ذیل ہے:
۱:۔ رنگ سرخ، جسم بھاری بھرکم، قد پستہ، سر کے بال نہایت خمیدہ اُلجھے ہوئے، ایک آنکھ بالکل سپاٹ، دُوسری عیب دار،(۳) پیشانی پر ’’ک، ف، ر‘‘ یعنی ’’کافر‘‘ کا لفظ لکھا ہوگا، جسے ہر خواندہ و ناخواندہ مؤمن پڑھ سکے گا۔(۴)
۲:۔ پہلے نبوّت کا دعویٰ کرے گا اور پھر ترقی کرکے خدائی کا مدعی ہوگا۔(۵)
۳:۔ اس کا ابتدائی خروج اصفہان خراسان سے ہوگا اور عراق و شام کے درمیان راستے میں اعلانیہ دعوت دے گا۔(۶)
۴:۔ گدھے پر سوار ہوگا، ستر ہزار یہودی اس کی فوج میں ہوں گے۔(۷)
۵:۔ آندھی کی طرح چلے گا اور مکہ مکرّمہ، مدینہ طیبہ اور بیت المقدس کے علاوہ ساری زمین میں گھومے پھرے گا۔(۸)
۶:۔ مدینہ میں جانے کی غرض سے اُحد پہاڑ کے پیچھے ڈیرہ ڈالے گا، مگر خدا کے فرشتے اسے مدینہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے، وہاں سے ملکِ شام کا رُخ کرے گا اور وہاں جاکر ہلاک ہوگا۔(۹)
۷:۔ اس دوران مدینہ طیبہ میں تین زلزلے آئیں گے اور مدینہ طیبہ میں جتنے منافق ہوں گے وہ گھبراکر باہر نکلیں گے اور دجال سے جاملیں گے۔(۱۰)
۸:۔ جب بیت المقدس کے قریب پہنچے گا تو اہلِ اسلام اس کے مقابلے میں نکلیں گے اور دجال کی فوج ان کا محاصرہ کرلے گی۔(۱۱)
۹:۔ مسلمان بیت المقدس میں محصور ہوجائیں گے اور اس محاصرے میں ان کو سخت اِبتلا پیش آئے گا۔(۱۲)
۱۰:۔ ایک دن صبح کے وقت آواز آئے گی: ’’تمہارے پاس مدد آپہنچی!‘‘ مسلمان یہ آواز سن کر کہیں گے کہ: ’’مدد کہاں سے آسکتی ہے؟ یہ کسی پیٹ بھرے کی آواز ہے‘‘۔(۱۳)
۱۱:۔ عین اس وقت جبکہ فجر کی نماز کی اِقامت ہوچکی ہوگی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیت المقدس کے شرقی منارہ کے پاس نزول فرمائیں گے۔(۱۴)
۱۲:۔ ان کی تشریف آوری پر اِمام مہدیؓ (جو مصلّے پر جاچکے ہوں گے) پیچھے ہٹ جائیں گے اور ان سے اِمامت کی درخواست کریں گے، مگر آپ اِمام مہدیؓ کو حکم فرمائیں گے کہ نماز پڑھائیں، کیونکہ اس نماز کی اِقامت آپ کے لئے ہوئی ہے۔(۱۵)
۱۳:۔ نماز سے فارغ ہوکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دروازہ کھولنے کا حکم دیں گے، آپ کے ہاتھ میں اس وقت ایک چھوٹا سا نیزہ ہوگا، دجال آپ کو دیکھتے ہی اس طرح پگھلنے لگے گا جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔ آپ اس سے فرمائیں گے کہ: اللہ تعالیٰ نے میری ایک ضرب تیرے لئے لکھ رکھی ہے، جس سے تو بچ نہیں سکتا! دجال بھاگنے لگے گا، مگر آپ ’’بابِ لُدّ‘‘ کے پاس اس کو جالیں گے اور نیزے سے اس کو ہلاک کردیں گے اور اس کا نیزے پر لگا ہوا خون مسلمانوں کو دِکھائیں گے۔(۱۶)
۱۴:۔ اس وقت اہلِ اسلام اور دجال کی فوج میں مقابلہ ہوگا، دجالی فوج تہہ تیغ ہوجائے گی اور شجر و حجر پکار اُٹھیں گے کہ: ’’اے مؤمن! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، اس کو قتل کر۔‘‘(۱۷)
یہ دجال کا مختصر سا احوال ہے، احادیث شریفہ میں اس کی بہت سی تفصیلات بیان فرمائی گئی ہیں۔
- (۱) عن جابر بن عبداللہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ۔۔۔ ولہ حمار یركبہ عرض مابین اذنیہ أربعون ذراعًا۔ (مستدرك حاكم مع التلخیص ج:۴ ص:۵۳۰، کتاب الفتن، مسند احمد ج:۳ ص:۳۶۷)۔
- (۲) عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: یخرج الدَّجَّال علٰی حمار أقمر ۔۔۔ الخ۔ رواہ البیھقی۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۷، باب العلامات بین الساعۃ وذکر الدجال، طبع قدیمی کتب خانہ)۔
- (۳) عن النواس بن سمعان رضی اللہ عنہ قال: ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الدجال ذات غداۃ ۔۔۔ انہ شاب قطط ۔۔۔ عینہ طافئۃ ۔۔۔ قلنا: یا رسول اللہ! وما لبثہ فی الأرض؟ قال: أربعون یومًا ۔۔۔ قلنا: یا رسول اللہ! وما اِسراعہ فی الأرض؟ قال: کالغیث استدبرتہ الریح ۔۔۔ فبینما ھو كذٰلك اِذ بعث اللہ المسیح ابن مریم، فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقیّ دمشق، بین مہروذتین ۔۔۔ فیطلبہ حتّٰی یدرکہ باب لُدّ فیقتلہ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۰۲ تا ۱۱۸)۔ أیضًا عن عبداللہ بن عمر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: بینا أنا نائم أطوف بالكعبۃ فاذا رجل آدم سبط الشعر ینطف - أو یھراق- رأسہ ماء قلت من ھٰذا؟ قالوا: ابن مریم! ثم ذھبت ألتفت فاذا رجل جسیم أحمر جعد الرأس أعور العین کأن عینہ عنبۃ طافیۃ قالوا: ھٰذا الدجال ۔۔۔الخ۔ (فتح الباری ج:۱۳ ص:۹۰)۔
- (۴) عن ابی اُمامۃ الباھلی قال ۔۔۔ حدثناہ عن الدَّجَّال۔۔۔ وأنہ یخرج من خلۃ بین الشام والعراق ۔۔۔ فیقول: أنا نبی، ولَا نبی بعدی، ثم یثنی فیقول: أنا ربّكم، ولَا ترون ربّكم حتّٰی تموتوا، وانہ أعور، وان ربّكم لیس بأعور، وأنہ مکتوب بین عینیہ کافر یقرأہ کل مؤمن کاتب أو غیر کاتب ۔۔۔ وانہ لَا یبقی بشیء من الأرض الّا وطئہ وظھر علیہ اِلّا مکۃ والمدینۃ لَا یأتیھما من نقب من نقابھما الّا لقیتہ الملائكۃ بالسیوف صلتۃ حتّٰی ینزل عند الظریب الأحمر عند منقطع السبخۃ فترجف المدینۃ بأھلھا ثلاث رجفات فلا یبقٰی منافق ولَا منافقۃ اِلّا خرج الیہ فتنفی الخبث منھا كما تنفی الکیر خبث الحدید ۔۔۔ وجلھم ببیت المقدس وامامھم رجل صالح فبینما امامھم قد تقدم یصلّی بھم الصبح إذ نزل علیھم عیسَی بن مریم الصبح فرجع ذٰلك الْإمام ینكص یمشی القھقریٰ لیقدم عیسٰی یصلی فیضع یدہ بین کتفیہ ثم یقول لہ: تقدم فصل فانھا لك اقیمت، فیصلی بھم فاذا انصرف قال عیسٰی علیھم السلام: افتحوا الباب! فیفتح وورائہ الدجال معہ سبعون ألف یھودی کلھم ذو سیف محلی وساج فاذا نظر الیہ الدجال ذاب كما یذوب الملح فی الماء وینطلق ھاربًا ویقول عیسٰی علیہ السلام: ان لی فیك ضربۃ لن تسبقنی بھا، فیدرکہ عند باب اللُّدّ الشرقی فیقتلہ فیھزم اللہ الیھود فلا یبقٰی شیء مما خلق اللہ یتواری بہ یہودی الّا أنطلق اللہ ذٰلك الشیء لَا حجر ولَا شجر ولَا حائط ولَا دابۃ الّا الغرقدۃ فانھا من شجرھم لَا تنطق اِلّا قال: یا عبداللہ المسلم! ھٰذا یھودی فتعال فاقتلہ ۔۔۔الخ۔ (ابن ماجۃ ص:۲۹۷، ۲۹۸، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسَی ابن مریم وخروج یأجوج ومأجوج)۔
- (۵) عن جابر بن عبداللہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ۔۔۔ ولہ حمار یركبہ عرض مابین اذنیہ أربعون ذراعًا۔ (مستدرك حاكم مع التلخیص ج:۴ ص:۵۳۰، کتاب الفتن، مسند احمد ج:۳ ص:۳۶۷)۔
- (۶) حوالہ بالا
- (۷) عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: یخرج الدَّجَّال علٰی حمار أقمر ما بین أذنیہ سبعون باعًا۔ رواہ البیھقی۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۷)۔ وعن أنس عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: یتبع الدّجّال من یھود اصفھان سبعون ألفًا، علیھم الطیالسۃ۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۵، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال)۔
- (۸) گزشتہ صفحے (۹۰۹)کا حاشیہ نمبر۱اور ۲ دیکھئے۔
- (۹) یجیء الدجال فیصعد أحدا فیطلع فینظر الی المدینۃ فیقول لأصحابہ: الَا ترون اِلٰی ھٰذا القصر الأبیض؟ ھٰذا مسجد أحمد، ثم یأتی المدینۃ فیجد بكل نقب من نقابھا ملَكًا مصلتًا سیفہ، فیأتی سبخۃ الجرف فیضرب رواقہ، ثم ترجف المدینۃ ثلاث رجفات، فلا یبقی منافق ولَا منافقۃ ولَا فاسق ولَا فاسقۃ اِلّا خرج الیہ، فتخلص المدینۃ ۔۔۔ ثم یأتی اِیلیا فیحاصر عصابۃ من المسلمین ۔۔۔الخ۔ (فتح الباری ج:۱۳ ص:۹۴، طبع لَاھور)۔
- (۱۰) حوالہ بالا
- (۱۱) ایضاً۔
- (۱۲) ووقع فی حدیث سمرۃ المشار الیہ قبل: یظھر علی الأرض کلھا اِلّا الحرمین وبیت المقدس فیحصر المؤمنین فیہ ثم یھلکہ اللہ ۔۔۔الخ۔ (فتح الباری ج:۱۳ ص:۱۰۵، طبع لَاھور)۔
- (۱۳) عن عثمان بن أبی العاص ۔۔۔ فبینما ھم كذٰلك اِذ نادیٰ مناد من السحر یا أیھا الناس! اتاكم الغوث، ثلاثًا، فیقول بعضھم لبعض: ان ھٰذا لصوت رجل شبعان، وینزل عیسَی ابن مریم علیہ السلام عند صلاۃ الفجر ۔۔۔الخ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۶۴، طبع مکتبۃ دارالعلوم کراچی)۔
- (۱۴) ص: ۹۰۹ کا حاشیہ نمبر۱ دیکھئے۔
- (۱۵) ص: ۹۰۹ کا حاشیہ نمبر۲ دیکھئے۔
- (۱۶) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ فلو ترکہ لَانذاب حتّٰی یھلك ولٰـكن یقتلہ اللہ بیدہ فیریھم دمہ فی حربتہ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۳۲)۔ نیز ص: ۳۷۲ کا حاشیہ نمبر۴ دیکھیں۔
- (۱۷) ص: ۹۰۹ کا حاشیہ نمبر۲ دیکھئے۔

