بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

علاماتِ‌قیامت

چودہویں‌صدی‌کے‌مجدّد‌حضرت‌محمد‌اشرف‌علی‌تھانویؒ‌تھے

سوال:۔

مشہور حدیثِ مجدّد مسلمانوں میں عام مشہور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر سو سال کے سرے پر ایک نیک شخص مجدّد ہوکر آیا کرے گا۔ براہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ چودہویں صدی گزرگئی، مگر کوئی بزرگ مجدّد کے نام اور دعویٰ سے نہ آیا، اگر کسی نے مجدّد ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو اس کا پتا بتائیں۔

جواب:۔

مجدّد دعویٰ نہیں کیا کرتا، کام کیا کرتا ہے۔ چودہ صدیوں میں کن کن بزرگوں نے مجدّد ہونے کا دعویٰ کیا تھا؟ چودہویں صدی کے مجدّد حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ تھے، جنھوں نے دِینی موضوعات پر قریباً ایک ہزار کتابیں لکھیں اور اس صدی میں کوئی فتنہ، کوئی بدعت اور کوئی مسئلہ ایسا نہیں جس پر آپ نے قلم نہ اُٹھایا ہو۔ اسی طرح حدیث، تفسیر، فقہ، تصوّف و سلوک، عقائد و کلام وغیرہ دِینی علوم میں کوئی ایسا علم نہیں جس پر آپ نے تألیفات نہ چھوڑی ہوں۔ بہرحال مجدّد کے لئے دعویٰ لازم نہیں، اس کے کام سے اس کے مجدّد ہونے کی شناخت ہوتی ہے۔ مرزا غلام احمد نے مجدّد(۱) سے لے کر مہدی،(۲) مسیح،(۳) نبی،(۴) رسول، کرشن،(۵) گرونانک، رودر گوپال(۶) ہونے کے دعویٰ تو بہت کئے مگر ان کے ناہموار قد پر ان میں سے ایک بھی دعویٰ صادق نہیں آیا۔

  1. (۱) ازالہ اوہام ص:۱۵۴، روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۷۹۔۳۷۰
  2. (۲) تذکرۃ الشہادتین ص:۲، رُوحانی خزائن ج:۲۰ ص:۴۔
  3. (۳) روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۷۰، ازالہ اوہام ص:۶۸۶۔
  4. (۴) ملفوظات ج:۱۰ ص:۱۲۷۔
  5. (۵) لیکچر سیالکوٹ ص:۳۳، رُوحانی خزائن ج:۲۰ ص:۲۲۸۔
  6. (۶) تحفہ گولڑویہ ص:۱۳۰ حاشیہ، رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص: ۳۱۶۔