علاماتِقیامت
حضرتمہدیؓکےبارےمیںچندسوالات
سوال:۔
تاریخِ اسلام میں خلافتِ بنو فاطمہ کا دور پڑھاتے ہوئے ہماری اُستانی نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ اثنا عشری کے فرقے کے مطابق ان کے بارہویں اِمام ’’ اِمام محمد المہدی‘‘ جو گیارہویں اِمام حضرت اِمام حسن عسکری کے بیٹے تھے، یہ اپنے والد کے گھر ’’سرمن رائی‘‘ سے بچپن میں رُوپوش ہوگئے تھے، ان کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ وہ قربِ قیامت میں مسلمانوں کی اصلاح کے لئے آئیں گے، اس لئے اِمامت کو آگے نہیں بڑھایا اور ان کا لقب ’’المنتظر‘‘ رکھا گیا۔ آپ نے جو اِمام مہدی کے بارے میں بتایا تو کیا یہ وہی حضرت مہدی ہیں جو اِمام حسن عسکری کے بیٹے تھے؟
۲:۔ آپ نے اپنے جواب میں ’’حضرت مہدیؓ ‘‘ لکھا ، میرے علم کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کیونکہ ہم نے تو عام طور پر صحابہ کرامؓ اور ان خواتین کے ناموں کے ساتھ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھا دیکھا ہے جنھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار حاصل ہوا۔
۳:۔ اِمامت کیا ہے؟ کیا یہ خدا کی طرف سے عطا کیا ہوا کوئی درجہ ہے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اِنعام یا پھر کچھ اور؟
۴:۔ ایک اِمام وہ ہیں جو مسجد کے اِمام ہوتے ہیں، ان کے بارے میں تو بہت کچھ پڑھا ہے لیکن وہ چار اِمام یعنی اِمام مالکؒ اور اِمام احمدؒ وغیرہ اور وہ اِمام جو اِثنا عشری اور اِسماعیلی فرقوں کے بارہ اِمام ہیں، ان میں کیا فرق ہے؟ اور اَحادیث میں ان کا کیا مقام ہے؟
۵:۔ میں الحمدللہ! مسلمان اور سنّی فرقے سے تعلق رکھتی ہوں، لیکن میری اکثر سنّی لوگوں سے ہی یہ بحث رہتی ہے اور میرا کہنا ہے کہ سنّی عقائد کے مطابق صرف چار اِمام ہیں جن کو ہم مانتے ہیں اور وہ اِمام ابوحنیفہؒ، اِمام مالکؒ، اِمام شافعیؒ اور اِمام احمدؒ ہیں، مجھے یہ بات میرے اُستادوں سے معلوم ہوئی، ان اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ بارہ اِمام ہیں جو دُنیا میں آئے ہیں، اور ہم بھی انہیں مانتے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح دُنیا میں ہزاروں پیغمبر آئے اور مسلمانوں کا ان پر اِیمان لانا ضروری ہے، لیکن صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنا فرض ہے، باقی کی تعلیمات پر نہیں، اب بتائیے کہ ہم میں کون صحیح ہے؟ اور اگر واقعی مسلمانوں کے بھی بارہ اِمام ہیں تو ان کے کیا نام ہیں؟
۶:۔ کانا دجال کون تھا؟ کیا اسے بھی زندہ اُٹھا لیا گیا یا وہ غائب ہوگیا تھا؟
جواب:۔
جی نہیں! ہمارا یہ عقیدہ نہیں،(۱) ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اِمام مہدیؓ پیدا ہوں گے، اور جب ان کی عمر چالیس برس کی ہوجائے گی تو مسلمانوں کے امیر اور خلیفہ ہوں گے۔(۲)
۲:۔ حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، اس لئے حضرت مہدی رضی اللہ عنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحابی ہیں، ان کو ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کہنا صحیح ہے۔
۳:۔ مسلمان جس شخص کو اَپنا اَمیر بنالیں وہ مسلمانوں کا اِمام ہے، اِمام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نامزد نہیں کئے جاتے، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بطورِ اِنعام اِمام بنایا ہے۔
۴:۔ مسجد کے اِمام نماز پڑھانے کے لئے مقتدیوں کے پیشوا ہیں، چار اِمام اپنے علم و فضل اور زُہد و تقویٰ کی وجہ سے مسلمانوں کے پیشوا ہیں، اور شیعہ اور اِسماعیلی جن لوگوں کو اِمام مانتے ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرّر کیا ہوا معصوم سمجھتے ہیں،(۳) اور ان کا درجہ نبی کے برابر بلکہ نبیوں سے بڑھ کر سمجھتے ہیں،(۴) یہ عقیدہ اہلِ سنت کے نزدیک غلط بلکہ کفر ہے۔(۵)
۵:۔ میں اُوپر چاروں اِماموں کا، اور شیعوں کے بارہ اِماموں کا فرق بتا چکا ہوں۔
۶:۔ کانا دجال قرب قیامت میں نکلے گا، یہ یہودی ہوگا، پہلے نبوّت کا پھر خدائی کا دعویٰ کرے گا اور اس کو قتل کرنے کے لئے عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے،(۶) دجال کے زندہ اُٹھائے جانے کی بات غلط ہے۔
- (۱) ان المھدی من أولَاد الحسن ویکون لہ انتساب من جھتہ الی الحسین جمعا بین الأدلۃ وبہ یبطل قول الشیعۃ ان المھدی ھو محمد بن الحسن العسکری القائم المنتظر فانہ حسینی بالْإتفاق۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۵ ص:۱۸۶، باب أشراط الساعۃ)۔
- (۲) وأما ظھور المھدی فی اٰخر الزمان وانہ یملأ الأرض قسطًا وعدلًا كما ملئت ظلمًا وجورًا، وانہ من عترتہ علیہ السلام من ولد فاطمۃ فثابت وقد ورد بہ الأخبار عن سیّد الأخیار۔ (شرح فقہ اكبر ص:۱۸۰)۔ یکون فی اُمّتی مھدی، قال النووی: المھدی من ھداہ اللہ الی الحق وغلبت علیہ الْإسمیۃ، ومنہ مھدی آخر الزمان وقال الزرکشی: ای الذی فی زمن عیسٰی علیہ السلام ویصلی معہ ویقتلان الدجال ۔۔۔ ویولد بالمدینۃ ویکون بیعتہ بین الرُّكن والمقام کرھًا علیہ۔ (سنن ابن ماجۃ ص:۳۰۰ حاشیہ نمبر۱)۔
- (۳) ذھبت الْإمامیۃ الٰی أن اللہ عدل حکیم ۔۔۔ ثم اردف الرسالۃ بعد موت الرسول بالْإمامۃ فنصب اولیاء معصومین منصوبین ۔۔۔الخ۔ (منہاج السُّنَّۃ ج:۱ ص:۳)۔ ایضاً اعتقادنا فی الأنبیاء والرُّسُل والأئمۃ علیھم السلام أنھم معصومون مطھرون فی کل دَنس وانھم لَا یذنبون ذنبًا صغیرًا ولَا كبیرًا ۔۔۔الخ۔ (بحار الأنوار ج:۲۵ ص:۲۱۱)۔
- (۴) اکثر علماء شیعی را اعتقاد آنست کہ حضرت امیر علیہ السلام وسائر اَئمہ افضل اند اَز پیغمبراں سوای پیغمبر آخر الزماں ۔۔۔الخ۔ (حق الیقین لباقر مجلسی ص:۷۰، بحار الانوار ج:۲۵ ص:۳۵۲ تا ۳۶۳)۔
- (۵) فان الروافض لیسوا من المسلمین ۔۔۔ وھی طائفۃ تجری مجری الیھود والنصاریٰ فی الكذب والکفر۔ (کتاب الفصل لِابن حزم ج:۲ ص:۷۸)۔
- (۶) عن أبی أُمامۃ الباھلی قال ۔۔۔ وأنہ یخرج من خلۃ بین الشام والعراق ۔۔۔ فیقول: أنا نبی! ولَا نبی بعدی، ثم یثنی فیقول: أنا ربکم! ولَا ترون ربکم حتّٰی تموتوا ۔۔۔ ویقول عیسٰی علیہ السلام: ان لی فیك ضربۃ لن تسبقنی بھا، فیدرکہ عند باب اللُّد الشرقی فیقتلہ ۔۔۔إلخ۔ (ابن ماجۃ ص:۲۹۸)۔

