بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

علاماتِ‌قیامت

ظہورِ‌مہدیؓ‌اور‌چودہویں‌صدی

سوال:۔

اِمام مہدی ابھی تک تشریف نہیں لائے اور پندرہویں صدی کے استقبال کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔

سوال:۔

علاوہ اس کے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ثابت ہے کہ ہر صدی کے سرے پر ایک مجدّد ہوتا ہے۔

سوال:۔

حضرت مہدیؓ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام چودہویں صدی کے باقی ماندہ قلیل عرصے میں کیسے آجائیں گے؟

جواب:۔

مگر اِمام مہدیؓ کا چودہویں صدی میں ہی آنا کیوں ضروری ہے۔۔۔؟

جواب:۔

ایک ہی فرد کا مجدّد ہونا ضروری نہیں، متعدّد اَفراد بھی مجدّد ہوسکتے ہیں اور دِین کے خاص خاص شعبوں کے الگ الگ مجدّد بھی ہوسکتے ہیں، ہر خطے کے لئے الگ الگ مجدّد بھی ہوسکتے ہیں۔ حدیث میں ’’من‘‘ کا لفظ عام ہے، اس سے صرف ایک ہی فرد مراد لینا صحیح نہیں۔ اور ان مجدّدین کے لئے مجدّد ہونے کا دعویٰ کرنا اور لوگوں کو اس کی دعوت دینا بھی ضروری نہیں، اور نہ لوگوں کو یہ پتا ہونا ضروری ہے کہ یہ مجدّد ہیں، البتہ ان کی دِینی خدمات کو دیکھ کر اہلِ بصیرت کو ظن غالب ہوجاتا ہے کہ یہ مجدّد ہیں۔(۱)

جواب:۔

مگر ان کا اس قلیل عرصے میں آنا ہی کیوں ضروری ہے؟ کیا چودہویں صدی کے بعد دُنیا ختم ہوجائے گی؟ جناب کی ساری پریشانی اس غلط مفروضے پر مبنی ہے کہ: ’’حضرت مہدی رضی اللہ عنہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں کا چودہویں صدی میں تشریف لانا ضروری تھا، مگر وہ اب تک نہیں آئے‘‘ حالانکہ یہ بنیاد ہی غلط ہے، قرآن و حدیث میں کہیں نہیں فرمایا گیا کہ یہ دونوں حضرات چودہویں صدی میں تشریف لائیں گے، اگر کسی نے کوئی ایسی قیاس آرائی کی ہے تو یہ محض اَٹکل ہے، جس کی واقعات کی دُنیا میں کوئی قیمت نہیں، اور اگر اس کے لئے کسی نے قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی کا حوالہ دیا ہے تو قطعاً غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ اس سے دریافت فرمائیے کہ چودہویں صدی کا لفظ قرآنِ کریم کی کس آیت یا حدیث شریف کی کس کتاب میں آیا ہے؟

نوٹ:۔ جناب نے اپنا سرنامہ ایک ’’پریشان بندہ‘‘ لکھا ہے، اگر آپ اپنا اسم گرامی اور پتا نشان بھی لکھ دیتے تو کیا مضائقہ تھا؟ ویسے بھی گمنام خط لکھنا، اخلاق و مروّت کے لحاظ سے کچھ مستحسن چیز نہیں۔

  1. (۱) قال صاحب جامع الأصول: وقد تكلم العلماء فی تأویلہ وكل واحد أشار إلی العالم الذی ھو فی مذھبہ وحمل الحدیث علی العموم فإن لفظۃ من تقع علی الواحد والجمع ولَا یختص أیضًا بالفقھاء ۔۔۔ والأظھر عندی واللہ أعلم ا المراد من یجدد لیس شخصًا واحدًا بل المراد بہ جماعۃ یجدد کل واحد فی بلد فی فن أو فنون من العلوم الشرعیۃ ما تیسر لہ من الأمور التقریریۃ أو التحریریۃ ویکون سببًا لبقائہ وعدم اندراسہ وانقضائہ إلی أن یأتی أمر اللہ۔ (بذل المجھود ج:۵ ص:۱۰۴ کتاب الملاحم، طبع سھارنپور)۔