بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

علاماتِ‌قیامت

الامام‌المہدیؓ‌۔۔۔‌سنی‌نظریہ

سوال:۔

محترم المقام جناب مولانا لدھیانوی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

’’جنگ‘‘ جمعہ ایڈیشن میں کسی سوال کے جواب میں آپ نے مہدی منتظر کی ’’مفروضہ پیدائش‘‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے ’’اِمام مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘‘ کے پُرشکوہ الفاظ استعمال کئے ہیں جو صرف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لئے مخصوص ہیں۔ دُوسرے، قرآنِ مقدس اور حدیثِ مطہرہ سے ’’اِمامت‘‘ کا کوئی تصوّر نہیں ملتا، علاوہ ازیں اس سلسلے میں جو روایات ہیں، وہ معتبر نہیں، کیونکہ ہر سلسلۂ رواۃ میں قیس بن عامر شامل ہے، جو متفقہ طور پر کاذب اور من گھڑت احادیث کے لئے مشہور ہے۔

ابنِ خلدون نے اس بارے میں جن موافق و مخالف احادیث کو یکجا کرنے پر اِکتفا کیا ہے، ان میں کوئی بھی سلسلۂ تواتر کو نہیں پہنچتی، اور ان کا انداز بھی بڑا مشتبہ ہے۔

لہٰذا میں حق و صداقت کے نام پر درخواست کروں گا کہ مہدی منتظر کی شرعی حیثیت قرآنِ عظیم اور صحیح احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں بذریعہ ’’جنگ‘‘ مطلع فرمائیں، تاکہ اصل حقیقت اُبھر کر سامنے آجائے، اس سلسلے میں مصلحت اندیشی یا کسی قسم کا ابہام یقینا قیامت میں قابلِ مؤاخذہ ہوگا۔

شیعہ عقیدے کے مطابق مہدی منتظر کی ۲۵۵ھ میں جناب حسن عسکریؒ کے یہاں نرجس خاتونؒ کے بطن سے ولادت ہوچکی ہے اور وہ حسن عسکریؒ کی رحلت کے فوراً بعد ۵ سال کی عمر میں حکمتِ خداوندی سے غائب ہوگئے اور اس غیبت میں اپنے نائبین، حاجزین، سفرا اور وکلاء کے ذریعہ خمس وصول کرتے، لوگوں کے احوال دریافت کرکے حسبِ ضرورت ہدایات، اَحکامات دیتے رہتے ہیں، اور انہیں کے ذریعے اس دُنیا میں اصلاح و خیر کا عمل جاری ہے، اس کی تائید میں لٹریچر کا طویل سلسلہ موجود ہے۔

میرے خیال میں علمائے اہلِ سنت نے اس ضمن میں اپنے اِردگرد پائی جانے والی مشہور روایات ہی کو نقل کردیا ہے، مزید تاریخی یا شرعی حیثیت و تحقیق سے کام نہیں لیا، اور اَغلباً اسی اِتباع میں آپ نے بھی اس ’’مفروضے‘‘ کو بیان کر ڈالا ہے، کیا یہ دُرست ہے؟

جواب:۔

حضرت مہدی علیہ الرضوان کے لئے ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کے ’’پُرشکوہ الفاظ‘‘ پہلی بار میں نے استعمال نہیں کئے، بلکہ اگر آپ نے مکتوباتِ اِمامِ ربانی ؒ کا مطالعہ کیا ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مکتوبات شریفہ میں اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانی ؒ نے حضرت مہدیؓ کو انہیں الفاظ سے یاد کیا ہے۔ پس اگر یہ آپ کے نزدیک غلطی ہے تو میں یہی عرض کرسکتا ہوں کہ اکابرِ اُمت اور مجدّدینِ ملت کی پیروی میں غلطی:

ایں خطا از صد صواب اَوْلیٰ تر است

کی مصداق ہے۔ غالباً کسی ایسے ہی موقع پر اِمام شافعیؒ نے فرمایا تھا:(۱)

إِنْ كَانَ رَفْضًا حُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ

فَلْيَشْهَدِ الثَّقَلَانِ أَنِّي رَافِضِيٌّ

ترجمہ:۔ ’’اگر آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا نام رافضیت ہے، تو جن و اِنس گواہ رہیں کہ میں پکا رافضی ہوں۔‘‘

آپ نے حضرت مہدی کو ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کہنے پر جو اِعتراض کیا ہے، اگر آپ نے غور و تأمل سے کام لیا ہوتا تو آپ کے اعتراض کا جواب خود آپ کی عبارت میں موجود ہے۔ کیونکہ آپ نے تسلیم کیا ہے کہ ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کے الفاظ صرف صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے لئے مخصوص رہے ہیں، آپ کو معلوم ہوگا کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفیق و مصاحب ہوں گے، پس جب میں نے ایک ’’مصاحبِ رسول‘‘ ہی کے لئے ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کے الفاظ استعمال کئے ہیں تو آپ کو کیا اِعتراض ہے؟ عام طور پر حضرت مہدی کے لئے ’’علیہ السلام‘‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، جو لغوی معنی کے لحاظ سے بالکل صحیح ہے، اور مسلمانوں میں ’’السلام علیکم، وعلیکم السلام‘‘ یا ’’وعلیکم وعلیہ السلام‘‘ کے الفاظ روزمرّہ استعمال ہوتے ہیں، مگر کسی کے نام کے ساتھ یہ الفاظ چونکہ انبیائے کرام یا ملائکہ عظام کے لئے استعمال ہوتے ہیں، اس لئے میں نے حضرت مہدیؓ کے لئے کبھی یہ الفاظ استعمال نہیں کئے، کیونکہ حضرت مہدیؓ نبی نہیں ہوں گے۔(۲)

جناب کو حضرت مہدیؓ کے لئے ’’اِمام‘‘ کا لفظ استعمال کرنے پر بھی اعتراض ہے، اور آپ تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’قرآنِ مقدس اور حدیثِ مطہرہ سے اِمامت کا کوئی تصوّر نہیں ملتا‘‘ اگر اس سے مراد ایک خاص گروہ کا نظریۂ اِمامت ہے تو آپ کی یہ بات صحیح ہے۔ مگر جناب کو یہ بدگمانی نہیں ہونی چاہئے تھی کہ میں نے بھی ’’اِمام‘‘ کا لفظ اسی اصطلاحی مفہوم میں استعمال کیا ہوگا، کم سے کم اِمام مہدیؓ کے ساتھ ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کے الفاظ کا استعمال ہی اس امر کی شہادت کے لئے کافی ہے کہ ’’اِمام‘‘ سے یہاں ایک خاص گروہ کا اصطلاحی ’’اِمام‘‘ مراد نہیں۔

اور اگر آپ کا مطلب یہ ہے کہ قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی میں کسی شخص کو اِمام بمعنی مقتدا، پیشوا، پیش رو کہنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی تو آپ کا یہ ارشاد بجائے خود ایک عجوبہ ہے۔ قرآنِ کریم، حدیثِ نبوی اور اکابرِ اُمت کے ارشادات میں یہ لفظ اس کثرت سے واقع ہوا ہے کہ عورتیں اور بچے تک بھی اس سے نامانوس نہیں۔ آپ کو ﵟوَٱجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِينَ إِمَامًا ٧٤ﵞ(الفرقان ٧٤)کی آیت اور ’’مَنْ بَايَعَ إِمَامًا‘‘ کی حدیث تو یاد ہوگی(۳) اور پھر اُمتِ محمدیہ (عَلٰى صَاحِبِهَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ) کے ہزاروں افراد ہیں جن کو ہم ’’اِمام‘‘ کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ فقہ و کلام کی اصطلاح میں ’’اِمام‘‘ مسلمانوں کے سربراہِ مملکت کو کہا جاتا ہے (جیسا کہ حدیث: ’’مَنْ بَايَعَ إِمَامًا‘‘ میں وارِد ہوا ہے)۔

حضرت مہدیؓ کا ہدایت یافتہ اور مقتدا و پیشوا ہونا تو لفظ ’’مہدی‘‘ ہی سے واضح ہے اور وہ مسلمانوں کے سربراہ بھی ہوں گے، اس لئے ان کے لئے ’’اِمام‘‘ کے لفظ کا استعمال قرآن و حدیث اور فقہ و کلام کے لحاظ سے کسی طرح بھی محل اعتراض نہیں۔

ظہورِ مہدیؓ کے سلسلے کی روایات کے بارے میں آپ کا یہ ارشاد کہ:

’’اس سلسلے میں جو روایات ہیں وہ معتبر نہیں، کیونکہ ہر سلسلۂ رُواۃ میں قیس بن عامر شامل ہے، جو متفقہ طور پر کاذب اور من گھڑت احادیث کے لئے مشہور ہے۔‘‘

بہت ہی عجیب ہے! معلوم نہیں جناب نے یہ روایات کہاں دیکھی ہیں، جن میں سے ہر روایت میں قیس بن عامر کذّاب آگھستا ہے؟

میرے سامنے ابوداؤد (ج:۲ ص:۵۸۸، ۵۸۹) کھلی ہوئی ہے، جس میں حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت علی، حضرت اُمِّ سلمہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم کی روایت سے احادیث ذکر کی گئی ہیں، ان میں سے کسی سند میں مجھے قیس بن عامر نظر نہیں آیا۔

جامع ترمذی (ج:۲ ص:۴۶) میں حضرت ابوہریرہ، حضرت ابنِ مسعود اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم کی احادیث ہیں، ان میں سے اوّل الذکر دونوں احادیث کو اِمام ترمذیؒ نے ’’صحیح‘‘ کہا ہے، اور آخر الذکر کو ’’حسن‘‘، ان میں بھی کہیں قیس بن عامر نظر نہیں آیا۔

سننِ ابنِ ماجہ میں یہ احادیث حضرات عبداللہ بن مسعود، ابو سعید خدری، ثوبان، علی، اُمِّ سلمہ، انس بن مالک، عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہم کی روایت سے مروی ہیں۔ ان میں بھی کسی سند میں قیس بن عامر کا نام نہیں آتا۔

مجمع الزوائد (ج:۷ ص:۳۱۵ تا ۳۱۸) میں مندرجہ ذیل صحابہ کرامؓ سے اکیس روایات نقل کی ہیں:

۱:۔ حضرت ابوسعید خدریؓ: ۴۲:۔ حضرت اُمِّ سلمہؓ: ۴

۳:۔ حضرت ابوہریرہؓ:۳۴:۔ حضرت اُمِّ حبیبہؓ:۱

۵:۔ حضرت عائشہؓ:۱۶:۔ حضرت قرۃ بن ایاسؓ:۱

۷:۔ حضرت انسؓ:۱۸:۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ:۱

۹:۔ حضرت جابرؓ:۱۱۰:۔ حضرت طلحہؓ:۱

۱۱:۔ حضرت علیؓ:۱۱۲:۔ حضرت ابنِ عمرؓ:۱

۱۳:۔ حضرت عبداللہ بن حارثؓ:۱

ان میں سے بعض روایات کے راویوں کی تضعیف کی ہے اور دو روایتوں میں دو کذّاب راویوں کی بھی نشاندہی کی ہے، مگر کسی روایت میں قیس بن عامر کا نام ذکر نہیں کیا، اس لئے آپ کا یہ کہنا کہ ہر روایت کے سلسلۂ رواۃ میں قیس بن عامر شامل ہے، محض غلط ہے۔

آپ نے مؤرّخ ابنِ خلدون کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں موافق اور مخالف احادیث کو یکجا کرنے پر اِکتفا کیا ہے، ان میں کوئی بھی سلسلۂ تواتر کو نہیں پہنچتی اور ان کا انداز بھی بڑا مشتبہ ہے۔

اس سلسلے میں یہ عرض ہے کہ آخری زمانے میں ایک خلیفۂ عادل کے ظہور کی احادیث صحیح مسلم، ابوداؤد، ترمذی، ابنِ ماجہ اور دیگر کتبِ احادیث میں مختلف طرق سے موجود ہیں۔ یہ احادیث اگرچہ فرداً فرداً آحاد ہیں، مگر ان کا قدرِ مشترک متواتر ہے۔ آخری زمانے کے اسی خلیفۂ عادل کو اَحادیثِ طیبہ میں ’’مہدی‘‘ کہا گیا ہے، جن کے زمانے میں دجالِ اَعوَر کا خروج ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر اسے قتل کریں گے۔ بہت سے اکابرِ اُمت نے احادیثِ مہدیؓ کو نہ صرف صحیح بلکہ متواتر فرمایا ہے اور انہی متواتر احادیث کی بنا پر اُمتِ اسلامیہ ہر دور میں آخری زمانے میں ظہورِ مہدیؓ کی قائل رہی ہے، خود ابنِ خلدون کا اعتراف ہے:

’’اِعْلَمْ أَنَّ الْمَشْهُوْرَ بَيْنَ الْكَافَّةِ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ عَلٰى مَمَرِّ الْأَعْصَارِ أَنَّهُ لَا بُدَّ فِي آخِرِ الزَّمَانِ مِنْ ظُهُوْرِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ يُؤَيِّدُ الدِّينَ، وَيُظْهِرُ الْعَدْلَ، وَيَتْبَعُهُ الْمُسْلِمُوْنَ، وَيَسْتَوْلِي عَلٰى الْمَمَالِكِ الْإِسْلَامِيَّةِ، وَيُسَمَّى بِالْمَهْدِيِّ، وَيَكُوْنُ خُرُوْجُ الدَّجَّالِ وَمَا بَعْدَهُ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ الثَّابِتَةِ فِي الصَّحِيْحِ عَلٰى أَثَرِهِ، وَأَنَّ عِيْسٰى يَنْزِلُ مِنْ بَعْدِهِ فَيَقْتُلُ الدَّجَّالَ، أَوْ يَنْزِلُ مَعَهُ فَيُسَاعِدُهُ عَلٰى قَتْلِهِ، وَيَأْتَمُّ بِالْمَهْدِيِّ فِي صَلَاتِهِ۔‘‘ (مقدمہ ابن خلدون ص:۳۱۱)

ترجمہ:۔ ’’جاننا چاہئے کہ تمام اہلِ اسلام کے درمیان ہر دور میں یہ بات مشہور رہی ہے کہ آخری زمانے میں اہلِ بیت میں سے ایک شخص کا ظہور ضروری ہے جو دِین کی تائید کرے گا، اس کا نام مہدی ہے، اور دجال کا خروج اور اس کے بعد کی وہ علاماتِ قیامت جن کا احادیثِ صحیحہ میں ذکر ہے، ظہورِ مہدی کے بعد ہوں گی۔ اور عیسیٰ علیہ السلام مہدی کے بعد نازل ہوں گے، پس دجال کو قتل کریں گے۔ یا مہدی کے زمانے میں نازل ہوں گے، پس حضرت مہدیؓ قتلِ دجال میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفیق ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز میں حضرت مہدیؓکی اِقتدا کریں گے۔‘‘

اور یہی وجہ ہے کہ اہلِ سنت کے عقائد پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، ان میں بھی ’’علاماتِ قیامت‘‘ کے ذیل میں ظہورِ مہدی کا عقیدہ ذکر کیا گیا ہے، اور اہلِ علم نے اس موضوع پر مستقل رسائل بھی تالیف فرمائے ہیں۔(۴) پس ایک ایسی خبر جو اَحادیثِ متواترہ میں ذکر کی گئی ہو، جسے ہر دور اور ہر زمانے میں تمام مسلمان ہمیشہ مانتے چلے آئے ہوں، اور جسے اہلِ سنت کے عقائد میں جگہ دی گئی ہو، اس پر جرح کرنا یا اس کی تخفیف کرنا، پوری اُمتِ اسلامیہ کو گمراہ اور جاہل قرار دینے کے مترادف ہے۔ جیسا کہ آپ نے اپنے خط کے آخر میں مہدی کے بارے میں ایک مخصوص فرقے کا نظریہ ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے:

’’میرے خیال میں علمائے اہلِ سنت نے اس ضمن میں اپنے اِردگرد پائی جانے والی مشہور روایات ہی کو نقل کردیا ہے۔ مزید تاریخی یا شرعی حیثیت و تحقیق سے کام نہیں لیا اور اَغلباً اسی اِتباع میں آپ نے بھی اس ’’مفروضے‘‘ کو بیان کر ڈالا، کیا یہ دُرست ہے؟‘‘

گویا حفاظِ حدیث سے لے کر مجدّد الف ثانی ؒ اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ تک وہ تمام اکابرِ اُمت اور مجدّدینِ ملت جنھوں نے دُودھ کا دُودھ اور پانی کا پانی الگ کر دِکھایا، آپ کے خیال میں سب دُودھ پیتے بچے تھے کہ وہ تاریخی و شرعی تحقیق کے بغیر گرد و پیش میں پھیلے ہوئے افسانوں کو اپنی اسانید سے نقل کردیتے اور انہیں اپنے عقائد میں ٹانک لیتے تھے؟ غور فرمائیے کہ ارشادِ نبوی: ’’وَلَعَنَ آخِرُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ أَوَّلَھَا‘‘(۵) کی کیسی شہادت آپ کے قلم نے پیش کردی۔۔۔! میں نہیں سمجھتا کہ احساسِ کمتری کا یہ عارضہ ہمیں کیوں لاحق ہوجاتا ہے کہ ہم اپنے گھر کی ہر چیز کو ’’آوردۂ اَغیار‘‘ تصوّر کرنے لگتے ہیں۔ آپ علمائے اہلِ سنت پر یہ الزام لگانے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے کہ انہوں نے ملاحدہ کی پھیلائی ہوئی روایات کو تاریخی و شرعی معیار پر پرکھے بغیر اپنے عقائد میں شامل کرلیا ہوگا (جس سے اہلِ سنت کے تمام عقائد و روایات کی حیثیت مشکوک ہوجاتی ہے، اور اسی کو میں ’’احساسِ کمتری‘‘ سے تعبیر کر رہا ہوں)، حالانکہ اسی مسئلے کا جائزہ آپ دُوسرے نقطۂ نظر سے بھی لے سکتے تھے کہ آخری زمانے میں ایک خلیفۂ عادل حضرت مہدیؓ کے ظہور کے بارے میں احادیث و روایات اہلِ حق کے درمیان متواتر چلی آتی تھیں۔ گمراہ فرقوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اسی عقیدے کو لے کر اپنے انداز میں ڈھالا اور اس میں موضوع اور من گھڑت روایات کی بھی آمیزش کرلی۔ جس سے ان کا مطمح نظر ایک تو اپنے سیاسی مقاصد کو بروئے کار لانا تھا، اور دُوسرا مقصد مسلمانوں کو اس عقیدے ہی سے بدظن کرنا تھا، تاکہ مختلف قسم کی روایات کو دیکھ کر لوگ اُلجھن میں مبتلا ہوجائیں اور ظہورِ مہدیؓ کے عقیدے ہی سے دستبردار ہوجائیں۔ ہر دور میں جھوٹے مدعیانِ مہدویت کے پیشِ نظر بھی یہی دو مقصد رہے، چنانچہ گزشتہ صدی کے آغاز میں پنجاب کے جھوٹے مہدی نے جو دعویٰ کیا، اس میں بھی یہی دونوں مقصد کارفرما نظر آتے ہیں۔ الغرض سلامتیٔ فکر کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم اس امر کا یقین رکھیں کہ اہلِ حق نے اصل حق کو جوں کا توں محفوظ رکھا اور اہلِ باطل نے اسے غلط تعبیرات کے ذریعے کچھ کا کچھ بنادیا، حتیٰ کہ جب کچھ نہ بن آئی تو اِمام مہدی کو ایک غار میں چھپاکر پہلے غیبتِ صغریٰ کا اور پھر غیبتِ کبریٰ کا پردہ اس پر تان دیا، لیکن آخر یہ کیا اندازِ فکر ہے کہ تمام اہلِ حق کے بارے میں یہ تصوّر کرلیا جائے کہ وہ اَغیار کے مالِ مستعار پر جیا کرتے تھے۔۔۔!

جہاں تک ابنِ خلدون کی رائے کا تعلق ہے، وہ ایک مؤرّخ ہیں، اگرچہ تاریخ میں بھی ان سے مسامحات ہوئے ہیں، فقہ و عقائد اور حدیث میں ابنِ خلدون کو کسی نے سند اور حجت نہیں مانا، اور یہ مسئلہ تاریخ کا نہیں بلکہ حدیث و عقائد کا ہے، اس بارے میں محدثین و متکلمین اور اکابرِ اُمت کی رائے قابلِ اعتناء ہوسکتی ہے۔

امداد الفتاویٰ جلد ششم میں صفحہ: ۲۵۹ سے صفحہ:۲۶۷ تک ’’موخذۃ الظنون عن ابن خلدون‘‘ کے عنوان سے حضرت حکیم الاُمت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہٗ نے ابنِ خلدون کے شبہات کا شافی جواب تحریر فرمایا ہے، اسے ملاحظہ فرمالیا جائے۔

خلاصہ یہ کہ ’’مسئلہ مہدی‘‘ کے بارے میں اہلِ حق کا نظریہ بالکل صحیح اور متواتر ہے اور اہلِ باطل نے اس سلسلے میں تعبیرات وحکایات کا جو اَنبار لگایا ہے، نہ وہ لائقِ التفات ہے اور نہ اہلِ حق کو اس سے مرعوب ہونے کی ضرورت ہے۔

  1. (۱) الصواعق المحرقۃ لِابن حجر المکی ص:۱۳۳ طبع مکتبہ مجیدیہ ملتان۔
  2. (۲) وأما السلام ۔۔۔ ھو فی معنی الصلاۃ، فلا یستعمل فی الغائب ولَا یفرد بہ غیر الأنبیاء، فلا یقال: ’’علیٌّ علیہ السلام‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۴۷۹، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
  3. (۳) عن عبداللہ بن عمرو قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من بایع امامًا فأعطاہ صفقۃ یدہ وثمرۃ قلبہ فلیطعہ ان استطاع وان جاء آخر ینازعہ فاضربوا عنق الآخر۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۳۲۰، کتاب الْإمارۃ والقضاء)۔
  4. (۴) مثلاً: العرف الوردی فی ظہور المہدی، مؤلف جلال الدین سیوطیؒ، عقیدۂ ظہورِ مہدی احادیث کی روشنی میں، تالیف: حضرت ڈاکٹر مفتی نظام الدین شامزی شہیدؒ۔
  5. (۵) عن أبی ھریرۃ ۔۔۔إلخ۔ (مشكٰوۃ، باب اشراط الساعۃ ص:۴۷۰، طبع قدیمی)۔