علاماتِقیامت
حضرتمہدیرضیاللہعنہکےبارےمیںاہلِسنتکاعقیدہ
سوال:۔
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی رُو سے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) آخر الزمان ہیں، یہ ہم سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ لیکن پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتایا کہ ان کی وفات کے بعد اور قیامت سے پہلے ایک نبی آئیں گے، حضرت مہدی رضی اللہ عنہ جن کی والدہ کا نام حضرت آمنہ اور والد کا نام حضرت عبداللہ ہوگا، تو کیا یہ حضرت مہدی رضی اللہ عنہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو نہیں ہوں گے جو دوبارہ دُنیا میں تشریف لائیں گے؟ میرے نانا محترم مولوی آزاد فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبے میں فرما رہے تھے کہ قیامت سے پہلے حضرت مہدی رضی اللہ عنہ دُنیا میں تشریف لائیں گے، لوگوں نے نشانیاں سن کر پوچھا: یا رسول اللہ! کیا وہ آپ تو نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراکر خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسکراہٹ کہہ رہی تھی میں اس دُنیا میں دوبارہ آؤں گا، اس کا جواب تفصیل سے دے کر شکریہ کا موقع دیں۔
جواب:۔
حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے اور جس پر اہلِ حق کا اتفاق ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی نسل سے ہوں گے(۱) اور نجیب الطرفین سیّد ہوں گے۔(۲) ان کا نام نامی محمد اور والد کا نام عبداللہ ہوگا۔(۳) جس طرح صورت و سیرت میں بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے اسی طرح وہ شکل و شباہت اور اخلاق وشمائل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں گے، وہ نبی نہیں ہوں گے، نہ ان پر وحی نازل ہوگی، نہ وہ نبوّت کا دعویٰ کریں گے، نہ ان کی نبوّت پر کوئی ایمان لائے گا۔
ان کی کفار سے خوںریز جنگیں ہوں گی، ان کے زمانے میں کانے دجال کا خروج ہوگا اور وہ لشکرِ دجال کے محاصرے میں گھِرجائیں گے، ٹھیک نمازِ فجر کے وقت دجال کو قتل کرنے کے لئے سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور فجر کی نماز حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کی اِقتدا میں پڑھیں گے، نماز کے بعد دجال کا رُخ کریں گے، وہ لعین بھاگ کھڑا ہوگا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا تعاقب کریں گے اور اسے ’’بابِ لُدّ‘‘ پر قتل کردیں گے، دجال کا لشکر تہ تیغ ہوگا اور یہودیت و نصرانیت کا ایک ایک نشان مٹادیا جائے گا۔(۴)
یہ ہے وہ عقیدہ جس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تمام سلف صالحین، صحابہؓ و تابعینؒ اور اَئمہ مجدّدینؒ معتقد رہے ہیں۔ آپ کے نانا محترم نے جس خطبے کا ذکر کیا ہے، اس کا حدیث کی کسی کتاب میں ذکر نہیں، اگر انہوں نے کسی کتاب میں یہ بات پڑھی ہے تو بالکل لغو اور مہمل ہے، ایسی بے سروپا باتوں پر اِعتقاد رکھنا صرف خوش فہمی ہے۔ مسلمان پر لازم ہے کہ سلف صالحین کے مطابق عقیدہ رکھے اور ایسی باتوں پر اپنا ایمان ضائع نہ کرے۔
- (۱) عن سعید بن المسیّب ۔۔۔ المھدی من ولد فاطمۃ۔ (ابن ماجۃ ص:۳۰۰، باب خروج المھدی، طبع نور محمد کراچی)۔
- (۲) ان المھدی من أولَاد الحسن ویکون لہ انتساب من جھۃ الاُمّ الی الحسین۔ (مرقاۃ ج:۵ ص:۱۸۶، بذل المجھود ج:۵ ص:۱۰۲، طبع سھارنپور)۔
- (۳) عن قرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ۔۔۔ بعث اللہ رجـلًا منی اسمہ اسمی، واسم أبیہ اسم أبی ۔۔۔ الخ۔ (مجمع الزوائد ج:۷ ص:۳۱۴، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔
- (۴) وجلّھم ببیت المقدس وإمامھم رجل صالح فبینما إمامھم قد تقدم یصلی بھم الصبح إذ نزل علیھم عیسَی بن مریم الصبح فرجع ذٰلك الْإمام ینكص بمشی القھقری لیقدّم عیسٰی یصلی فیضع عیسٰی علیہ السلام یدہ بین کتفیہ ثم یقول لہ: تقدّم فصلّ فإنھا لك أقیمت، فیصلی بھم إمامھم، فإذا انصرف قال عیسٰی علیہ السلام: افتحوا الباب! فیفتح وورائہ الدّجّال ومعہ سبعون ألف یھودیّ کلھم ذوسیف محلّی وساج فإذا نظر إلیہ الدّجّال ذاب كما یذوب الملح فی الماء وینطلق ھاربًا ویقول عیسٰی: إن لی فیك ضربۃ لن تسبقنی بھا فیدرکہ عند باب اللُّد الشرقی فیقتلہ فیھزم اللہ الیھود فلا یبقی شیء مما خلق اللہ یتواری بہ یھودی إلّا أنطق اللہ ذٰلك الشیء لَا حجر ولَا شجر ولَا حائط ولَا دابّۃ إلّا الغرقد فإنھا من شجرھم لَا تنطق إلّا قال: یا عبداللہ المسلم! ھٰذا یہودیٌّ فتعال اقتلہ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۵۰، ۱۵۱)

