بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

علاماتِ‌قیامت

علاماتِ‌قیامت

سوال:۔

ہم آئے دن لوگوں سے سنتے ہیں کہ قیامت آج آئی کہ کل آئی، مگر ابھی تک تو نہیں آئی، کیا اس کی کوئی نمایاں علامتیں ہیں جن کو دیکھ کر آدمی سمجھ لے کہ بس اب قیامت قریب ہے؟ ایسی کچھ نشانیاں بتلادیں تو احسانِ عظیم ہوگا۔

جواب:۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ زمانے کے بارے میں بہت سے اُمور کی خبر دی ہے، جن میں سے بہت سی باتیں تو صدیوں سے پوری ہوچکی ہیں، بعض کو ہم نے اپنی آنکھوں سے پوری ہوتے دیکھا ہے، مثلاً: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادِ مبارک:

’’عَنْ ثَوْبَانَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِذَا وُضِعَ السَّیْفُ فِیْ اُمَّتِیْ لَمْ تُرْفَعْ عَنْھَا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔‘‘

ترجمہ:۔’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو قیامت تک اس سے اُٹھائی نہیں جائے گی۔‘‘

’’وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ اُمَّتِیْ بِالْمُشْرِکِیْنَ وَحَتّٰی تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ اُمَّتِی الْأَوْثَانَ۔‘‘

ترجمہ:۔’’اور قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری امت کے کئی قبائل مشرکوں سے جاملیں گے، اور یہاں تک کہ میری امت کے کئی قبائل بت پرستی کرنے لگیں گے۔‘‘

’’وَإِنَّہٗ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ، کُلُّھُمْ یَزْعَمُ أَنَّہٗ نَبِیُّ اللہِ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ، لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔‘‘

ترجمہ:۔’’اور میری امت میں تیس جھوٹے کذاب ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں!‘‘

’’وَلَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِّنْ اُمَّتِیْ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِیْنَ، لَا یَضُرُّھُمْ مَّنْ خَالَفَھُمْ حَتّٰی یَأْتِیْ اَمْرُ اللہِ۔ رواہ ابوداوٗد، والترمذی۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۴۶۵)

ترجمہ:۔’’اور میری امت میں ایک جماعت غالب حیثیت میں حق پر قائم رہے گی، جو شخص ان کی مخالفت کرے، وہ ان کو نقصان نہیں پہنچاسکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ (قیامت) آپہنچے۔‘‘

آخری زمانے کی جنگوں کے بارے میں ’’ملاحم‘‘ کے باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد مروی ہے:

’’عَنْ ذِي مِخْبَرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَتُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا، فَتَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِكُمْ، فَتُنْصَرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَسْلَمُونَ، ثُمَّ تَرْجِعُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ، فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّصْرَانِيَّةِ الصَّلِيبَ فَيَقُولُ: غَلَبَ الصَّلِيبُ! فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَدُقُّهُ، فَعِنْدَ ذٰلِكَ تَغْدُو الرُّومُ وَتَجْمَعُ لِلْمَلْحَمَةِ... رَوَاهُ أَبُو دَاوُد.۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۴۶۷)

ترجمہ:۔’’حضرت ذومخبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ: تم اہلِ روم (نصاریٰ) سے امن کی صلح کروگے، پھر تم اور وہ مل کر مشترکہ دشمن سے جہاد کروگے، پس تم منصور و مظفر ہوگے، غنیمت پاؤگے اور تم صحیح سالم رہوگے۔ پھر ٹیلوں والی سرسبز و شاداب وادی میں قیام کروگے، پس ایک نصرانی، صلیب اُٹھاکر کہے گا کہ: صلیب کا غلبہ ہوا! اور ایک مسلمان اس سے مشتعل ہوکر صلیب کو توڑ ڈالے گا، تب رومی عہد شکنی کریں گے، اور لڑائی کے لئے جمع ہوں گے۔‘‘

اسلام اور نصرانیت کی یہ جنگ حدیث کی اصطلاح میں ’’ملحمۃ الکبریٰ‘‘ (جنگِ عظیم) کہلاتی ہے، اس کی تفصیلات بڑی ہولناک ہیں، جو ’’ابواب الملاحم‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہیں، اسی جنگ میں قسطنطنیہ فتح ہوگا اور فتحِ قسطنطنیہ کے متصل دجال کا خروج ہوگا۔(۱)

جس امر کی طرف یہاں توجہ دلانا مقصود ہے، وہ یہ ہے کہ اہلِ اسلام اور اہلِ نصرانیت کا وہ مشترکہ دشمن کون ہے، جس سے یہ دونوں مل کر جنگ کریں گے؟ کیا دُنیا کی موجودہ فضا اسی کا نقشہ تو تیار نہیں کر رہی۔۔۔؟

قیامت کی نشانیاں

جبرائیل علیہ السلام نے پانچواں سوال یہ کیا کہ پھر ایسی نشانیاں ہی بتادیجئے جن سے یہ معلوم ہوسکے کہ اب قیامت قریب ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں قیامت کی دو نشانیاں بتائیں:

اوّل یہ کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنے۔۔۔ اس کی تشریح اہلِ علم نے کئی طرح کی ہے، سب سے بہتر توجیہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس میں اولاد کی نافرمانی کی طرف اشارہ ہے، مطلب یہ کہ قربِ قیامت میں اولاد اپنے والدین سے اس قدر برگشتہ ہوجائے گی کہ لڑکیاں جن کی فطرت ہی والدین کی اطاعت، خصوصاً والدہ سے محبت اور پیار ہے، وہ بھی ماں باپ کی بات اس طرح ٹھکرانے لگیں گی جس طرح ایک آقا اپنے زَر خرید غلام لونڈی کی بات کو لائقِ توجہ نہیں سمجھتا، گویا گھر میں ماں باپ کی حیثیت غلام لونڈی کی ہوکر رہ جائے گی۔(۲)

دُوسری نشانی یہ بیان فرمائی کہ وہ لوگ جن کی کل تک معاشرے میں کوئی حیثیت نہ تھی، جو ننگے پاؤں اور برہنہ جسم جنگل میں بکریاں چرایا کرتے تھے، وہ بڑی بڑی بلڈنگوں میں فخر کیا کریں گے۔(۳) یعنی رذیل لوگ معزّز ہوجائیں گے۔ ان دو نشانیوں کے علاوہ قربِ قیامت کی اور بہت سی علامتیں حدیثوں میں بیان کی گئی ہیں۔ مگر یہ سب قیامت کی ’’چھوٹی نشانیاں‘‘ ہیں، اور قیامت کی بڑی بڑی نشانیاں جن کے ظاہر ہونے کے بعد قیامت کے آنے میں زیادہ دیر نہیں ہوگی، یہ ہیں:

۱:۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظاہر ہونا اور بیت اللہ شریف کے سامنے رُکن اور مقام کے درمیان لوگوں کا ان کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کرنا۔(۴)

۲:۔ ان کے زمانے میں کانے دجال کا نکلنا اور چالیس دن تک زمین میں فساد مچانا۔(۵)

۳:۔ اس کو قتل کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا۔(۶)

۴:۔ یاجوج ماجوج کا نکلنا۔(۷)

۵:۔ دَابّۃ الارض کا صفا پہاڑی سے نکلنا۔(۸)

۶:۔ سورج کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا اور یہ قیامت کی سب سے بڑی نشانی ہوگی، جس سے ہر شخص کو نظر آئے گا کہ اب زمین و آسمان کا نظام درہم برہم ہوا چاہتا ہے اور اب اس نظام کے توڑ دینے اور قیامت کے برپا ہونے میں زیادہ دیر نہیں ہے۔ اس نشانی کو دیکھ کر لوگوں پر خوف و ہراس طاری ہوجائے گا مگر یہ اس عالم کی نزع کا وقت ہوگا، جس طرح نزع کی حالت میں توبہ قبول نہیں ہوتی، اسی طرح جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔(۹) اس قسم کی کچھ بڑی بڑی نشانیاں اور بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں۔ قیامت ایک بہت ہی خوفناک چیز ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کے لئے تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور قیامت کے دن کی رُسوائیوں اور ہولناکیوں سے اپنی پناہ میں رکھیں۔

(۱) عن أبی ھریرۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: سمعتم بمدینۃ جانب منھا فی البر وجانب منھا فی البحر؟ قالوا: نعم یا رسول اللہ! قال: لَا تقوم الساعۃ حتّٰی یغزوھا سبعون ألفًا من بنی إسحاق فإذا جاؤھا نزلوا فلم یقاتلوا بسلاح ولم یرموا بسھم قالوا: لَا إلٰہ إلّا اللہ واللہ أكبر، فیسقط أحد جانبیھا، قال ثور لَا اعلمہ إلّا قال الذی فی البحر ثم یقول الثانیۃ لَا إلٰہ إلّا اللہ واللہ أكبر فیسقط جانبھا الآخر ثم یقول الثالثۃ لَا إلٰہ إلّا اللہ واللہ أكبر فیفرج لھم فیدخلونھا فیغنموا فبینما ھم یقتسمون المغانم إذ جاءھم الصریخ فقال: إن الدجال قد خرج، فیترکون کل شیء ویرجعون۔ قال النووی: قولہ صلی اللہ علیہ وسلم فی المدینۃ التی بعضھا فی البر وبعضھا فی البحر ۔۔۔ وھٰذہ المدینۃ ھی القسطنطینیۃ۔ (الصحیح للمسلم مع شرح الکامل للنووی ج:۲ ص:۳۹۶ طبع قدیمی، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ)۔

(۲) قال: أن تلد الأمَۃ ربّتھا، أی یکثر العقوق فی الأولَاد فیعامل الولد أُمّہ معاملۃ السیّد أَمَتَہ من الْإھانۃ ۔۔۔ الخ۔ (التعلیق الصبیح ص:۲۱، طبع عثمانیہ، لَاھور)۔

(۳) وأن ترَی الحفاۃ العراۃ العالۃ رعاء الشاء یتطاولون فی البنیان ۔۔۔ فھو اشارۃ الٰی تغلب الأرذال، وتذلل الأشراف، وتولی الریاسۃ من لَا یستحقھا۔ (التعلیق الصبیح ص:۲۱)۔

(۴) عن اُمّ سلَمۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: یکون اختلاف عند موت خلیفۃ فیخرج رجل من أھل المدینۃ ھاربًا الٰی مکۃ فیأتیہ ناس من أھل مکۃ فیخرجونہ وھو کارہ فیبایعونہ بین الرُّكن والمقام ۔۔۔الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۱، باب أشراط الساعۃ، أیضًا مصنف عبدالرزاق، باب المہدی ج:۱۱ ص:۳۷۱)۔

(۵) عن النواس بن سمعان قال ۔۔۔ قلنا: یا رسول اللہ! وما لبثہ فی الأرض؟ قال: أربعون یومًا، یوم كسنۃ، ویوم کشھر، ویوم كجمعۃ، وسائر أیّامہ کأیّامکم ۔۔۔الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۳، باب العلامات بین یدی الساعۃ)۔

(۶) وأن عیسٰی یقتلہ بعد أن ینزل من السماء فیحكم بالشریعۃ المحمدیۃ۔ (فتح الباری ج:۱۳ ص:۹۶)۔

(۷) عن زینب بنت جحش ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم استیقظ من نومہ وھو یقول: لَا إلٰہ إلّا اللہ ویل للعرب من شرقہ، اقترب فتح الیوم ردم یأجوج ومأجوج ۔۔۔إلخ۔ (الصحیح للمسلم ج:۲ ص:۳۸۸، مسند أحمد ج:۱ ص:۳۷۵، ابن ماجۃ ج:۱ ص:۳۰۹، فتح الباری ج:۱۳ ص:۷۹، طبع لَاھور)۔

(۸) وقال ابن ابی حاتم ۔۔۔ تخرج الدابۃ من صدع من الصفا ۔۔۔الخ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۴ ص:۶۸۵، طبع رشیدیہ)۔

(۹) عن أبی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا تقوم الساعۃ حتّٰی تطلع الشمس من مغربھا، فاذا طلعت من مغربھا آمن الناس کلھم أجمعون فیومئذ لَا ینفع نفسًا ایمانھا لم تكن آمنت من قبل ۔۔۔الخ۔ (مسلم ج:۱ ص:۸۸) وأیضًا عن صفوان قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان من قبل مغرب الشمس بابًا مفتوحًا عرضہ سبعون سنۃ فلا یزال ذٰلك الباب مفتوحًا للتوبۃ حتّٰی تطلع الشمس من نحوہ۔ (ابن ماجۃ ص:۲۹۵، باب طلوع الشمس من مغربھا)۔