بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ونزولِ‌حضرت‌عیسیٰ‌علیہ‌السلام

ابوظفر‌چوہان‌کے‌جواب‌میں

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للّٰہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

خان شہزادہ صاحب نے ایک سوال نامہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں بھیجا تھا، اس کا جواب ’’تحفہ قادیانیت‘‘ جلد سوم کے ۲۱۰ صفحات میں شائع ہوا، اس کے آخر میں مضامین کی تلخیص تھی، اور دو ایک باتیں بطور خاتمہ کے ذِکر کی گئی تھیں۔ یہ آخری حصہ روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی میں اور وہاں سے روزنامہ ’’جنگ‘‘ لندن میں شائع ہوا، جسے پڑھ کر جناب ابوظفر چوہان صاحب نے چند سوالات بھیجے، جن کا جواب لکھا جاتا ہے۔

’’جناب مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب نے خان شہزادہ کے چند سوالات کا بڑا علمی، تحقیقاتی، لطیف اور مفصل جواب، جو روزنامہ ’’جنگ‘‘ مؤرخہ ۱۱؍۱۰؍۱۹۹۶ء میں شائع ہوا ہے، نظر سے گزرا۔ ماشاء اللہ کافی مدلل ہے۔ مولانا صاحب کے جواب کو غور سے پڑھنے کے بعد چند سوالات میرے ذہن میں بھی اُبھرے ہیں۔ اُمید ہے کہ مولانا صاحب تشفی کے لئے مزید اس مسئلے پر روشنی ڈالیں گے۔۔۔‘‘

جواب:۔

آنجناب نے جو شبہات پیش فرمائے ہیں، اس ناکارہ نے ان کا بغور مطالعہ کیا ہے، اور ان کے حل کرنے کی اپنی اِستطاعت کے موافق کوشش کروں گا، بطور تمہید چند مخلصانہ گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

اوّل:۔ اسلام کے جو عقائد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک اُمتِ اِسلامیہ میں متواتر چلے آتے ہیں، اور جن کو اَئمہ دِین ومجدّدین ہر صدی میں تواتر کے ساتھ نقل کرتے آئے ہیں، وہ اسلام کے قطعی عقائد ہیں۔ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ صحیح عقیدہ لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو، اس کو لازم ہے کہ اہلِ سنت کے متواتر عقائد پر اِیمان رکھے، محض اِشکالات یا شبہات کی وجہ سے ان عقائد کا اِنکار نہیں کرنا چاہئے، بلکہ اسلامی عقیدے پر اِیمان رکھتے ہوئے اِن اِشکالات کو رفع کرنا چاہئے۔

دوم:۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قربِ قیامت میں نازل ہونا، ان عقائد میں سے ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر دور اور ہر صدی میں متواتر چلے آئے ہیں، صحابہؓ وتابعینؒ، اکابر اَئمۂ دِینؒ ومجدّدینؒ میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو اس عقیدۂ حقہ کا منکر ہو۔ لہٰذا دورِ جدید کے لوگوں کے پھیلائے ہوئے شبہات کی وجہ سے اس عقیدے سے اِیمان متزلزل نہیں ہونا چاہئے، اور دُعا بھی کرتے رہنا چاہئے:

’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ‘‘

ترجمہ:۔ ’’یا اللہ! میں تمام فتنوں سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں، ان میں سے جو ظاہر ہیں ان سے بھی، اور جو پوشیدہ ہیں ان سے بھی۔‘‘

سوم:۔ ’’جنگ‘‘ لندن میں جو مضمون شائع ہوا ہے اور جس پر آنجناب نے سوال رقم فرمائے ہیں، یہ مضمون ایک طویل مقالے کا آخری حصہ ہے، جس میں مضامین کا خلاصہ ذِکر کیا گیا ہے۔ اصل مضمون ۲۱۰ صفحات پر مشتمل ہے، جو ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کی تیسری جلد میں شائع ہوچکا ہے، مناسب ہوگا کہ اس کتاب کا مطالعہ فرمائیں۔

ان مخلصانہ گزارشات کے بعد جناب کے ایک ایک سوال پر اپنے ناقص علم کے مطابق معروضات پیش کرتا ہوں۔

’’۱:۔ مولانا صاحب نے فرمایا کہ ’’شبِ معراج میں آنحضرت صلعم کی اِقتدا میں بیت المقدس میں سب انبیائے کرام نے بمع حضرت عیسیٰ کے شرکت فرمائی۔ حضرت عیسیٰ کو اپنا اصلی جسم چھوڑ کر بدنِ مثالی بنانے کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ ’’وہ تو سراپا رُوح اللہ ہیں۔‘‘ تو کیا باقی انبیاء بمع حضرت نبی کریم صلعم کے نعوذباللہ رُوح اللہ نہیں ہیں؟ اس کی وجہ؟ کیا اس سے ہمارے پیارے آقا صلعم کی توہین کا پہلو تو نہیں نکلتا؟‘‘

جواب:۔

آنجناب کو معلوم ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ’’وَرُوحٞ مِّنۡهُۖ ‘‘ کا لفظ اِستعمال فرمایا ہے:

ﵟإِنَّمَا ٱلۡمَسِيحُ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ رَسُولُ ٱللَّهِ وَكَلِمَتُهُۥٓ أَلۡقَىٰهَآ إِلَىٰ مَرۡيَمَ وَرُوحٞ مِّنۡهُۖ ﵞ(النساء١٧١)

ترجمہ:۔ ’’مسیح عیسیٰ بن مریم تو اور کچھ بھی نہیں، البتہ اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ایک کلمہ، جس کو اللہ تعالیٰ نے مریم تک پہنچایا تھا، اور اللہ کی طرف سے ایک جان ہیں۔‘‘ (ترجمہ: مولانا اشرف علی تھانویؒ)

اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث شریفہ میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ’’رُوْحُ اللہِ‘‘ کا لفظ اِستعمال ہوا ہے۔ مسندِ احمد ج:۴ ص:۲۱۶، مستدرک حاکم ج:۴ ص:۴۷۸، درمنثور ج:۲ ص:۲۴۳، مجمع الزوائد ج:۷ ص:۳۴۲، میں ہے:

’’وَیَنْزِلُ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ عِنْدَ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ، فَیَقُوْلُ لَہٗ أَمِیْرُھُمْ: یَا رُوْحُ اللہِ! تَقَدَّمْ صَلِّ‘‘

ترجمہ:۔ ’’اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نمازِ فجر کے وقت نازل ہوں گے، پس مسلمانوں کا اَمیر ان سے عرض کرے گا: اے رُوح اللہ! تشریف لائیے، ہمیں نماز پڑھائیے۔‘‘

اور اکابرِ اُمت نے بھی یہ لفظ اِستعمال فرمایا ہے، اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانی رحمہ اللہ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’علاماتِ قیامت کہ مخبرِ صادق عَلَيْهِ وَعَلٰى آلِهِ الصَّلَاةُ وَالتَّسْلِيْمَاتُازاں خبر دادہ است حق است اِحتمال تخلف ندارد، مثل طلوعِ آفتاب از جانبِ مغرب برخلافِ عادت، وظہور حضرت مہدی علیہ الرضوان ونزول حضرت رُوح اللہ عَلٰى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وخروجِ دجال وظہورِ یاجوج وماجوج وخروج دابۃ الارض ودُخانے کہ از آسماں پیدا شود تمام مردم را فرو گیرد عذاب دردناک کند مردم از اِضطراب گویند اے پروردگار ما! ایں عذاب را از ما دُور کن کہ ما اِیمان مے آریم، وآخر علامات آتش است کہ از عدن خیزد۔‘‘ (مکتوباتِ اِمامِ ربانی، مکتوب:۶۷ دفترِ دوم)

ترجمہ:۔ ’’علاماتِ قیامت کہ مخبرِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خبر دی ہے برحق ہیں، اِحتمال تخلف کا نہیں رکھتیں، مثلاً: آفتاب کا طلوع ہونا مغرب کی جانب سے عام عادت کے خلاف، اور حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظاہر ہونا، اور حضرت رُوح اللہ ۔۔۔عَلٰى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ۔۔۔ کا نازل ہونا، اور دَجال کا نکلنا، یاجوج وماجوج کا ظاہر ہونا، دابۃ الارض کا نکلنا، اور ایک دُھواں جو آسمان سے ظاہر ہوگا، تمام لوگوں کو گھیر لے گا اور دردناک عذاب کرے گا، لوگ بے چینی کی وجہ سے کہیں گے کہ: اے ہمارے پرودردگار! اس عذاب کو ہم سے دُور کر کہ ہم اِیمان لاتے ہیں، اور آخری علامت آگ ہے جو عدن سے ظاہر ہوگی۔‘‘

الغرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ’’رُوح اللہ‘‘ کے لقب سے ملقب ہونا ایسی حقیقت ہے جس کو ہر پڑھا لکھا جانتا ہے۔ رہا یہ کہ صرف ان کو رُوح اللہ کیوں کہا گیا؟ اس کی جو وجہ جس کے ذہن میں آئی اس نے بیان کردی۔

بعض نے کہا کہ چونکہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ناروا باتیں کہتے تھے اور ان کی رُوح کو ناپاک رُوح سے تعبیر کرتے تھے، اس لئے ان کو رُوح اللہ کے لقب سے یاد کیا گیا۔

اِمام راغب اصفہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’وَسُمِّيَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ رُوحًا فِي قَوْلِهِ: ﵟوَرُوحٞ مِّنۡهُۖﵞ،وَذٰلِكَ لِمَا كَانَ لَهُ مِنْ إِحْيَاءِ الْأَمْوَاتِ۔‘‘ (مفردات القرآن ص:۲۰۵، طبع نور محمد کراچی)

ترجمہ:۔ ’’عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام آیت شریفہ ’’وَرُوْحٌ مِّنْہُ‘‘ میں رُوح اس لئے رکھا گیا کہ ان سے مُردوں کو زِندہ کرنے کا ظہور ہوتا تھا۔‘‘

بعض نے کہا کہ چونکہ ان کی رُوح بذریعہ جبریل علیہ السلام نفخ کی گئی، اس لئے ان کو رُوح اللہ کہا جاتا ہے:

’’وَسُمِّيَ عَلَيْهِ السَّلَامُ رُوحًا لِأَنَّهُ حَدَثَ عَنْ نَفْخَةِ جِبْرِيْلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي دِرْعِ مَرْيَمَ عَلَيْهَا السَّلَامُ بِأَمْرِهِ سُبْحَانَهُ۔‘‘ (رُوح المعانی ج:۶ ص:۲۵)

الغرض اکابرؒ کے کلام میں اس قسم کی اور توجیہات بھی موجود ہیں، مگر عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رُوح اللہ کے ساتھ ملقب ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ صرف انہی کی رُوح، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے، باقی ارواح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ اس لئے کہ حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کو مختلف القاب کے ساتھ ملقب کیا گیا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کو ’’صَفِیُّ اللہ‘‘ کہا گیا، حضرت نوح علیہ السلام کو ’’نَجِیُّ اللہ‘‘ کے ساتھ ملقب کیا گیا، حضرت اِبراہیم علیہ السلام کو’’خَلِیْلُ اللہ‘‘ کے لقب سے مشرف کیا گیا، حضرت اِسماعیل علیہ السلام کو’’ذَبِیْحُ اللہ‘‘ کا لقب عطا کیا گیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ’’کَلِیْمُ اللہ‘‘ کے لقب سے مشرف کیا گیا، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ’’رُوْحُ اللہ‘‘ کا لقب دیا گیا، مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی اَرواحِ طیبہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نہیں ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رُوح اللہ کے لفظ سے یاد کیا جانا ایسا ہی ہے جیسا کہ کعبہ شریف کو ’’بَیْتُ اللہ‘‘ کہا گیا ہے، اور حضرت صالح علیہ السلام کی اُونٹنی کو ’’نَاقَۃُ اللہ‘‘ کہا گیا ہے، پس اللہ کی طرف ان چیزوں کی نسبت تعظیم وتشریف کے لئے ہے، واللہ اعلم!

’’۲:۔ خان شہزادہ صاحب نے سوال کیا کہ جب مسلمانوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑ رہے تھے، تو اس وقت حضرت عیسیٰ بجائے مسلمانوں کی مدد کرنے کے واپس آسمان پر کیوں تشریف لے گئے؟ مولانا صاحب نے فرمایا کہ: ’’صحابہ کرامؓ کے لئے: ﵟكُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِﵞکا تاجِ کرامت تیار کیا جارہا تھا۔ اور حکمتِ بالغہ کے تحت ان کو آزمائش کی بھٹی میں ڈال رکھا تھا، نیز یہ کہ فتنۂ دجال جس سے تمام انبیاء نے پناہ مانگی تھی، اور ایک ایسا زمانہ بھی آنے والا تھا کہ لوگ چند ٹکوں کے عوض اپنا اِیمان بیچ ڈالیں گے وغیرہ، تو اس وقت حضرت عیسیٰ کی زیادہ ضرورت ہوگی۔‘‘ مولانا صاحب! اگر سرسری نظر سے بھی حضرت عیسیٰ کے حالات کا مطالعہ کیا جائے تو یہی نقشہ سامنے آتا ہے کہ آپ ساری زندگی ماریں کھاتے رہے، جب کوئی بائیں گال پر تھپڑ مارتا تو آپ دایاں گال آگے کردیتے، اور آسمان پر تشریف لے جانے سے پہلے صرف بارہ حواری اپنے پیچھے چھوڑ گئے تھے، اور بقول بائبل ان میں بھی اکثریت بے ایمان اور نمک حرام نکلے۔ مولانا صاحب! پہلے تو یہ بتائیں کہ آپؑ کے آسمان پر جانے سے پہلے کیا واقعی ان کے ماننے والوں کی اتنی قلیل تعداد تھی؟ اگر جواب اِثبات میں ہے تو بظاہر ایسا ناکام نبی اور کمزور نبی اس قدر عظیم فتنۂ دجالیت کا کیونکر مقابلہ کرسکے گا؟ جس سے سب نبیوں نے ڈرایا ہے اور جو اپنی مخصوص چھوٹی سی قوم اسرائیل کی اِصلاح نہ کرسکا، وہ ساری دُنیا کی اور بگڑی ہوئی اُمتِ محمدیہ کی اِصلاح کیسے کریں گے؟ ‘‘

جواب:۔

یہاں چند اُمور قابلِ ذِکر ہیں:

اوّل:۔ آنجناب نے بائبل کے حوالے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو لکھا ہے اہلِ اِسلام اس کو صحیح نہیں سمجھتے، علماء فرماتے ہیں کہ اہلِ کتاب کی جو باتیں کتاب وسنت کے موافق ہیں، ہم ان پر اِیمان رکھتے ہیں، نہ اس وجہ سے کہ وہ اہلِ کتاب نے ذِکر کی ہیں، بلکہ اس وجہ سے کہ ان کو اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے۔ اور اہلِ کتاب کی جو باتیں کتاب وسنت کے خلاف ہیں، ہم ان سے براء ت کا اِظہار کرتے ہیں، اور ان کی جو باتیں ایسی ہیں کہ کتاب و سنت ان کے بارے میں خاموش ہیں، ہم نہ ان کی تصدیق کرتے ہیں، نہ تکذیب۔ چنانچہ مشکوٰۃ شریف میں صحیح بخاری کے حوالے منقول ہے کہ اہلِ کتاب عبرانی میں توراۃ پڑھتے تھے اور اہلِ اسلام کے لئے عربی میں اس کا ترجمہ کرتے تھے، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:

’’لَا تُصَدِّقُوْا أَھْلَ الْکِتَابِ وَلَا تُکَذِّبُوْھُمْ، ﵟقُولُوٓاْ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡنَاﵞالآیۃ۔‘‘ (رواہ البخاری، مشکوٰۃ ص:۲۸، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ)

ترجمہ:۔ ’’اہلِ کتاب کی نہ تصدیق کرو، نہ تکذیب کرو، اور یہ کہو کہ ہم اِیمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس چیز پر جو ہماری طرف نازل کی گئی۔‘‘

دوم:۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ تعلیم کہ اگر کوئی دائیں گال پر تھپڑ مارے تو بایاں بھی پیش کردو، قرآن وحدیث میں منقول نہیں۔ لیکن اگر یہ نقل صحیح ہو، تو اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ان کو اس وقت جہاد کا حکم نہیں تھا، جیسا کہ مکہ مکرمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کو جہاد کا حکم نہیں تھا، بلکہ حکم یہ تھا کہ ماریں کھاتے رہو، لیکن ہاتھ نہ اُٹھاؤ۔ ہجرت کے دُوسرے سال آیت شریفہ: ﵟأُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَٰتَلُونَ بِأَنَّهُمۡ ظُلِمُواْۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ نَصۡرِهِمۡ لَقَدِيرٌ ٣٩ ﵞ(الحج٣٩)نازل ہوئی تو جہاد کا حکم ہوا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اگر اس وقت جہاد کا حکم نہ ہو تو اس کو ان کی کمزوری پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔

سوم:۔ ان کے آسمان پر تشریف لے جانے سے پہلے صرف بارہ حواری تو نہیں تھے، بلکہ ایک اچھی خاص تعداد ان کے ماننے والوں کی تھی: ﵟفَـَٔامَنَت طَّآئِفَةٞ مِّنۢ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ وَكَفَرَت طَّآئِفَةٞۖ ﵞ(الصف١٤)میں اسی کا بیان ہے۔ البتہ ان کے رفعِ آسمانی سے پہلے یہود کا غلبہ رہا اور ان کے پیرو مغلوب رہے، جیسا کہ ہجرت سے پہلے حضراتِ صحابہ کرام ۔۔۔رضوان اللہ علیہم اجمعین۔۔۔ مغلوب تھے اور قریشِ مکہ غالب تھے۔

چہارم:۔ آپ نے جو تحریر فرمایا ہے کہ: ’’بقول بائبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں اکثریت بے ایمان اور نمک حرام لوگوں کی تھی‘‘ غالباً جناب کا اِشارہ بائبل کے اس فقرے کی طرف ہے کہ یہودا اسخریوطی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو چالیس درہم کے بدلے گرفتار کروادِیا تھا، لیکن یہ قصہ صراحۃً غلط ہے، اس لئے کہ ان بارہ حواریوں کو جنت کی بشارت دی گئی تھی، پس کیسے ممکن ہے کہ مبشر بالجنہّ ہونے کے باوجود وہ مرتد ہوجائیں، قرآنِ کریم میں ہے:

ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُوٓاْ أَنصَارَ ٱللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ لِلۡحَوَارِيِّـۧنَ مَنۡ أَنصَارِيٓ إِلَى ٱللَّهِۖ قَالَ ٱلۡحَوَارِيُّونَ نَحۡنُ أَنصَارُ ٱللَّهِۖ ﵞ(الصف ١٤)

ترجمہ:۔ ’’اے ایمان والو! تم اللہ کے مددگار ہوجاؤ، جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے فرمایا کہ: اللہ کے واسطے میرا کون مددگار ہوتا ہے؟ وہ حواری بولے: ہم اللہ کے مددگار ہیں۔‘‘

قرآنِ کریم کی کسی آیت اور کسی حدیث شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی مذمت نہیں کی گئی، اور نہ کسی صحابی سے اس قسم کا مضمون منقول ہے۔ لہٰذا آنجناب کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی اکثریت کو بے اِیمان اور نمک حرام لکھنا صریح زیادتی ہے۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دس مبشر صحابہؓ کو جو ’’عشرہ مبشرہ‘‘ کے لقب سے معروف ہیں، شیعوں کا یہ طعن دینا صحیح ہوگا کہ ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ ان کی اکثرت بے اِیمان اور نمک حرام تھی۔۔۔؟

اصل قصہ وہ ہے جس کو اِمام ابنِ کثیرؒ نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے بہ سندِ صحیح نقل کیا ہے:

’’قَالَ: لَمَّا أَرَادَ اللّٰهُ أَنْ يَرْفَعَ عِيسَى إِلَى السَّمَاءِ، خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ، وَفِي الْبَيْتِ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنَ الْحَوَارِيِّينَ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ مِنْ عَيْنٍ فِي الْبَيْتِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ يُلْقَى عَلَيْهِ شَبَهِي فَيُقْتَلَ مَكَانِي وَيَكُونَ مَعِي فِي دَرَجَتِي؟ فَقَامَ شَابٌّ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ! ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِمْ، فَقَامَ ذٰلِكَ الشَّابُّ فَقَالَ: اجْلِسْ، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِمْ، فَقَامَ الشَّابُّ فَقَالَ: أَنَا! فَقَالَ: هُوَ ذَاكَ، فَأُلْقِيَ عَلَيْهِ شَبَهُ عِيسَى، وَرُفِعَ عِيسَى مِنْ رَوْزَنَةٍ فِي الْبَيْتِ إِلَى السَّمَاءِ۔‘‘(تفسیر ابن کثیر ج:۱ ص:۷۶۴)

اِمام ابنِ کثیرؒ اس کو نقل کرکے لکھتے ہیں:

’’وَهٰذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ بِنَحْوِهِ، وَكَذَا ذَكَرَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ يُلْقَى عَلَيْهِ شَبَهِي فَيُقْتَلَ مَكَانِي وَهُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ؟‘‘ (حوالۂ بالا)

ترجمہ:۔ ’’جب اِرادہ کیا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اُٹھانے کا، تو وہ نکلے اپنے اَصحاب کے پاس، اور مکان میں بارہ حواری تھے، یعنی آپ کے مکان میں ایک چشمہ تھا اس سے غسل کرکے ان کے پاس آئے، اور آپ کے سر سے پانی ٹپ رہا تھا۔ پھر فرمایا: تم میں سے کون ہے جس پر میری شباہت ڈال دی جائے، پس وہ میری جگہ قتل کردیا جائے، اور میرے ساتھ میرے درجے میں ہو؟ پس ایک نوجوان جو سب سے کم عمر تھا کھڑا ہوا، آپ نے فرمایا: بیٹھ جا! پھر وہی بات دُہرائی، پھر وہی نوجوان کھڑا ہوا، آپ نے فرمایا: بیٹھ جا! پھر اپنی بات دُہرائی پس نوجوان کھڑا ہوا، پس کہا کہ: میں اس کے لئے حاضر ہوں! فرمایا: تو ہی وہ ہے۔ پس اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مکان کے روشن دان سے آسمان کی طرف اُٹھالیا گیا۔‘‘

’’یہ اسناد صحیح ہے ابنِ عباسؓ تک، اور اِمام نسائی نے اس کو ابوکریب سے اور انہوں نے ابومعاویہؓ سے اس کی مثل روایت کیا ہے۔ اور اسی طرح یہ بات بہت سے سلف نے ذِکر فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حواریوں سے فرمایا کہ: تم میں سے کون ہے کہ اس پر میری شباہت ڈال دی جائے، پس وہ میری جگہ قتل کردیا جائے اور وہ میرا رفیق ہو جنت میں؟‘‘

یہ نوجوان یہودا اسخریوطی تھا، اس لئے یہ کہنا صحیح نہیں کہ اس نے غداری کی، کیونکہ اس نے جو کچھ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اِشارہ، بلکہ بشارت کے مطابق کیا۔

پنجم:۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ناکام اور کمزور نبی کہنا صحیح نہیں، کیونکہ ان کی رُوحانی قوّت قرآنِ کریم میں مذکور ہے:

ﵟ وَإِذۡ تَخۡلُقُ مِنَ ٱلطِّينِ كَهَيۡـَٔةِ ٱلطَّيۡرِ بِإِذۡنِي فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيۡرَۢا بِإِذۡنِيۖ وَتُبۡرِئُ ٱلۡأَكۡمَهَ وَٱلۡأَبۡرَصَ بِإِذۡنِيۖ وَإِذۡ تُخۡرِجُ ٱلۡمَوۡتَىٰ بِإِذۡنِيۖ ﵞ(المائدة ١١٠)

ترجمہ:۔ ’’اور جبکہ تم گارے سے ایک شکل بناتے تھے، جیسے پرندے کی شکل ہوتی ہے، میرے حکم سے، پھر تم اس کے اندر پھونک ماردیتے تھے، جس سے وہ پرندہ بن جاتا تھا، میرے حکم سے، اور تم اچھا کردیتے تھے مادرزاد اندھے کو، اور برص کے بیمار کو، میرے حکم سے، اور جبکہ تم مُردوں کو نکال کر کھڑا کردیتے تھے، میرے حکم سے۔‘‘

اور دوبارہ تشریف آوری کے موقع پر دجال کے مقابلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رُوحانی قوّت کا یہ عالم ہوگا کہ دجال ان کو دیکھتے ہی اس طرح پگھلنے لگے گا، جیسا کہ نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔ صحیح مسلم (ج:۲ ص:۳۹۲) میں ہے:

’’فَإِذَا رَآہُ عَدُوُّ اللہِ ذَابَ کَمَا یَذُوْبُ الْمِلْحُ فِی الْمَاءِ، فَلَوْ تَرَکَہٗ لَانْذَابَ حَتّٰی یَھْلِکَ، وَلٰـکِنْ یَّقْتُلُہُ اللہُ بِیَدِہٖ فَیُرِیْھِمْ دَمَہٗ۔‘‘

مسندِ احمد (ج:۲ ص:۳۶۸) میں ہے:

’’فَإِذَا صَلّٰی صَلٰوۃَ الصُّبْحِ خَرَجُوْا إِلَیْہِ فَقَالَ: فَحِیْنَ یَرَی الْکَذَّابَ یَنْمَاثُ کَمَا یَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِی الْمَاءِ۔‘‘

ان احادیث کا خلصہ، ترجمہ وہی ہے جو اُوپر گزرچکا ہے۔

’’۳:۔ مولانا صاحب! آپ نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت عیسیٰ کا دوبارہ آنا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ آپ نے آکر اپنے دُشمن یہودیوں سے اِنتقام بھی لینا ہے، تو کیا اِنتقام لینا اسلامی شریعت کی نفی نہیں ہے؟ علاوہ ازیں حضرت عیسیٰ تو زِندہ ہیں مگر ان کے دُشمن تو مرکر خاک ہوکر جہنم رسید ہوگئے، اب وہ اِنتقام کن سے لیں گے؟ کیا ایک اٹھارویں نسل کے کسی فرد کو اس وجہ سے پھانسی پر چڑھایا جاسکتا ہے کہ آج سے دو ہزار سال پہلے اس فرد کے کسی جدِاَمجد نے قتل کیا تھا؟ میری کانشنس بار بار اس نااِنصافی پر اِحتجاج کرنے پر مجبور ہے۔ براہِ کرم اس کا تسلی بخش جواب دے کر مشکور فرمادیں۔‘‘

جواب:۔

قرآنِ کریم میں ہے:

ﵟ قَٰتِلُوهُمۡ يُعَذِّبۡهُمُ ٱللَّهُ بِأَيۡدِيكُمۡ وَيُخۡزِهِمۡ وَيَنصُرۡكُمۡ عَلَيۡهِمۡ وَيَشۡفِ صُدُورَ قَوۡمٖ مُّؤۡمِنِينَ ١٤ ﵞ(التوبة ١٤)

ترجمہ:۔ ’’ان سے لڑو، اللہ تعالیٰ ۔۔۔کا وعدہ ہے کہ۔۔۔ ان کو تمہارے ہاتھوں سزا دے گا، اور ان کو ذلیل ۔۔۔وخوار۔۔۔ کرے گا، اور تم کو ان پر غالب کرے گا، اور بہت سے مسلمانوں کے قلوب کو شفا دے گا۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں کفار سے اِنتقام لینا دِین کی نفی نہیں، بلکہ عین دِین ہے، اس لئے کہ حق تعالیٰ شانہ‘ کی صفت ’’عزیز ذُوانتقام‘‘ ہے، اور جہاد اسی صفت کا مظہر ہے۔ مجاہدین جارحہ اِلٰہیہ کی حیثیت سے خدا کے دُشمنوں سے اِنتقام لیتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مشہور حدیث ہے:

’’مَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِہٖ فِیْ شَیْئٍ قَطُّ إِلّا اَنْ یَّنْتَھِکَ حُرْمَۃَ اللہِ فَیَنْتَقِمُ ﷲِ بِھَا۔ متفق علیہ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۵۱۹)

حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہود سے اِنتقام لینا بھی اِنتقامِ اِلٰہی کا مظہر ہوگا۔

رہا آپ کا یہ فرمانا کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے زیادتی تو دو ہزار سال پہلے کے لوگوں نے کی، اور وہ اِنتقام دو ہزار سال بعد کے لوگوں سے لیں گے‘‘ اور یہ بات ایسی ہے کہ آپ کی کانشنس اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔

میرے محترم! ذرا غور فرمائیے کہ آخری زمانے میں جب دجال کا خروج ہوگا اور یہود اس کے ساتھ ہوکر غلبہ اور تسلط حاصل کریں گے، تو حق تعالیٰ شانہ‘ کی صفتِ اِنتقام جوش میں آئے گی، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دَجالی فتنے کا قلع قمع کرنے کے لئے نازل کیا جائے گا، اس وقت وہ دجال کے پیروکار یہود کا اِستیصال فرمائیں گے۔

پوری قومِ یہود ایک فوج ہے، اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مخالفت پوری قوم نے کی، اس لئے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام قومِ یہود سے بحیثیت جارحہ اِلٰہی کے اِنتقام لیں گے۔

’’۴:۔ مولانا صاحب نے فرمایا ہے کہ ’’انی متوفیک‘‘ کے اگر معنی یہ کئے جائیں کہ میں تجھے وفات دُوں گا، تب بھی اس سے آئندہ کسی اور وقت میں وفات دینے کا وعدہ ثابت ہے، نہ یہ کہ ان کی (حضرت عیسیٰ کی) وفات ہوچکی ہے۔ مولانا صاحب! یہاں دو وعدے ہیں ۱:۔ﵟإِنِّي مُتَوَفِّيكَﵞ۲:۔ﵟوَرَافِعُكَ إِلَيَّﵞکہ میں تجھے وفات دُوں گا اور تجھے اپنی طرف اُٹھالوں گا۔ وضاحت طلب اَمر یہ ہے کہ اگر وفات کا وعدہ ابھی پورا نہیں ہوا تو اپنی طرف اُٹھالینے والا وعدہ کیسے پورا ہوگیا؟ حالانکہ یہاں وفات کا وعدہ پہلے ہے۔‘‘

جواب:۔

عربی زبان میں ’’و‘‘ ترتیب کے لئے نہیں آتی، مثلاً: آپ کسی شخص کو بازار بھیجیں اور اسے یہ کہیں کہ: ’’فلاں اور فلاں چیز لے کر آؤ‘‘ تو ضروری نہیں کہ جس ترتیب سے آپ نے چیزیں خریدنے کا حکم فرمایا ہے، اسی ترتیب سے وہ خریدے، بلکہ یہ صحیح ہوگا کہ آپ کی ذِکر کردہ چیزوں میں سے دُوسرے نمبر کی چیز کو وہ پہلے خرید لے، اور پہلے نمبر کی چیز کو بعد میں خریدے۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ نے دو وعدے فرمائے تھے، ایک یہ کہ: ’’اے عیسیٰ! تم کچھ غم نہ کرو، بے شک میں تم کو اپنے وقتِ موعود پر طبعی موت سے وفات دینے والا ہوں، پس جب تمہارے لئے موت طبعی مقدّر ہے تو اِطمینان رکھو کہ ان دُشمنوں کے ہاتھوں دار پر جان دینے سے محفوظ رہوگے۔‘‘

اور دُوسرا وعدہ یہ کہ: ’’اور فی الحال میں تم کو اپنے عالمِ بالا کی طرف اُٹھائے لیتا ہوں۔‘‘ گویا اپنے وقت پر طبعی وفات دینے سے مقصود دُشمنوں سے حفاظت کی بشارت تھی، یہ اپنے وقتِ موعود پر آئے گا جب قربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے، جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے۔

اور دُوسرا وعدہ عالمِ بالا کی طرف فی الحال اُٹھالینے کا ساتھ کے ساتھ پورا کیا گیا، جس کے پورا ہونے کی خبر سورۂ نساء میں دی گئی ہے:ﵟ بَل رَّفَعَهُ ٱللَّهُ إِلَيۡهِۚ ﵞاب وہ زِندہ آسمان پر موجود ہیں، اگرچہ پہلا وعدہ بعد میں پورا ہوگا، لیکن اس کو ذِکر پہلے کیا گیا ہے، کیونکہ یہ مثل دلیل کے ہے دُوسرے وعدے کے لئے، چونکہ دلیل رُتبے کے اِعتبار سے مقدم ہوتی ہے، اور چونکہ ’’واؤ‘‘ ترتیب کے لئے موضوع نہیں، اس لئے تقدیم وتأخیر میں کوئی اِشکال نہیں۔ (بیان القرآن ج:۲ ص:۲۳ اَز مولانا اشرف علی تھانویؒ)

’’۵:۔ مولانا صاحب فرماتے ہیں کہ: ﵟ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِ ٱلرُّسُلُ ﵞدو جگہ آیا ہے، ایک جگہ آنحضرت صلعم کے لئے اور دُوسری جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے۔ اور یہ دونوں حضرات بوقتِ نزولِ آیات زندہ تھے۔ مولانا صاحب! قابلِ حل اَر یہ ہے کہ جہاں آنحضرت صلعم کے بارے میں بیان ہوا ہے، وہاں ساتھ ہی خلت کی دو اَشکال بیان ہوئی ہیں۔ ﵟأَفَإِيْن مَّاتَ أَوۡ قُتِلَﵞموت اور قتل، تیسری کوئی شکل ’’خلت‘‘ کی بیان نہیں ہوئی، اس معمے کو بھی حل فرمادیں۔‘‘

جواب:۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ آیت شریفہ جنگِ اُحد میں نازل ہوئی تھی، جبکہ شیطان نے یہ اُڑادیا تھا: ’’اَلَا إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ‘‘ اور اس خبر کے سننے سے صحابہ کرامؓ کی رہی سہی کمر بھی ٹوٹ گئی تھی، ورنہ لڑائی کا پانسہ پلٹ جانے کی وجہ سے بدحواس اور منتشر تو ہو ہی رہے تھے، ان کی تسلی کے لئے فرمایا گیا:

’’اور محمد ۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ نرے رسول ہی تو ہیں ۔۔۔خدا تو نہیں جن پر موت یا قتل ممتنع ہو۔۔۔ آپ سے پہلے بہت سے رسول گزرچکے ہیں، ۔۔۔اسی طرح ایک دن آپ بھی گزر جائیں گے۔۔۔ سو اگر آپ کا اِنتقال ہوجائے یا ۔۔۔بالفرض۔۔۔ آپ شہید ہی ہوجائیں تو کیا تم لوگ ۔۔۔جہاد یا اِسلام سے۔۔۔ اُلٹے پھرجاؤگے؟‘‘

یہاں قتل کا ذِکر حضراتِ صحابہؓ کی تسلی آمیز تہدید کے لئے ہے، ورنہ دُنیا سے آپ کا تشریف لے جانا طبعی موت کی شکل میں متعین تھا، اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا طبعی موت سے وفات پانا بھی متعین اور منصوص ہے۔ حدیث میں ہے:

’’ثُمَّ یَتُوَفّٰی وَیُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ وَیُدْفِنُوْنَہٗ۔‘‘ (مسندِ احمد ج:۲ ص:۴۳۷، فتح الباری ج:۶ ص:۳۵۷)

’’۶:۔ ﵟ بَل رَّفَعَهُ ٱللَّهُ إِلَيۡهِۚ ﵞکی تشریح میں مولانا صاحب رقم طراز ہیں کہ رفع بمقابلہ قتل آیا ہے، اور قتل جسم کا ہوتا ہے، رُوح کا نہیں، لہٰذا رفع سے مراد رفعِ جسمانی ہے۔ اور رفع الی اللہ قرآنِ کریم کے محاورے میں رفع الی السماء کے لئے اِستعمال ہوتا ہے۔ سورۂ مریم آیت:۵۸ میں آیا ہے: ’’اور تو حضرت اِدریس کا بھی ذِکر سنادے، وہ ہمارا صدیق نبی تھا‘‘ﵟوَرَفَعۡنَٰهُ مَكَانًا عَلِيًّاﵞتو کیا یہاں بھی ’’رفعنا‘‘ کے معنی رفع الی السماء کے ہیں؟ تو کیا اس طرح پھر حضرت اِدریس کا بھی آسمان پر جانا ثابت نہیں ہوتا؟ مہربانی کرکے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔‘‘

جواب:۔

حضرت اِدریس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں جوﵟوَرَفَعۡنَٰهُ مَكَانًا عَلِيًّاﵞوارِد ہوا ہے، اس کی بنا پر اگرچہ بعض اکابرؒ ان کے زِندہ ہونے کے قائل ہوئے ہیں، جیسا کہ علامہ خیالیؒ نے حاشیہ شرح عقائد نسفی میں ذِکر کیا ہے (ص:۱۴۲)، لیکن جمہور علماء ان کے رفعِ آسمانی کے قائل نہیں، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رفعِ آسمانی کے قائل ہیں۔

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حق میں تو رفع الی اللہ مذکور ہے، جو کہ رفعِ آسمانی میں نص ہے، بخلاف حضرت اِدریس علیہ السلام کے کہ ان کے لئے رفع الی اللہ مذکور نہیں۔

دُوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے رفع بمقابلہ قتل ذِکر کیا گیا ہے، بخلاف اِدریس علیہ السلام کے۔

تیسری وجہ، جیسا کہ مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی نے لکھا ہے:

’’عیسیٰ علیہ السلام کی حیات، ان کا زَمین پر نازل ہونا، اور یہاں رہنا احادیثِ صحیحہ سے ایسے طور پر ثابت ہے کہ اس میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا، اور اس میں کسی ایک آدمی کا بھی اِختلاف نہیں، بخلاف دیگر حضرات کے۔‘‘ (مجموعہ حواشی البہیہ ج:۳ ص:۳۴۰)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ’’۷:۔ اب ایک ضروری سوال جو اس سلسلے میں شدّت سے میرے ذہن میں آتا ہے، یہ ہے کہ سورۃ المائدہ کے آخری رُکوع میں ساری گفتگو بروزِ قیامت اللہ تعالیٰ اور حضرت عیسیٰ کے ماین ہونے والی کا پورا نقشہ کھینچا گیا ہے، وہاں حضرت عیسیٰ عرض کریں گے کہ جب تک میں ان میں رہا، میں ان کا پورا پورا نگران رہا (یعنی توحید کا سبق دیتا رہا) ﵟفَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِي كُنتَ أَنتَ ٱلرَّقِيبَ عَلَيۡهِمۡۚﵞمگر جب تو نے مجھے وفات دے دی، تو تو ہی ان پر نگران تھا۔ مولانا صاحب! کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عیسائی فرقے والے حضرت عیسیٰ کی وفات کے بعد بگڑے ہیں؟ اور کیا عیسائی قوم کا عقیدۂ اُلوہیت کا بگاڑ حضرت عیسیٰ کی وفات کو ثابت نہیں کرتا؟‘‘

جواب:۔

سورۂ مائدہ میں: ﵟفَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِي كُنتَ أَنتَ ٱلرَّقِيبَ عَلَيۡهِمۡۚﵞمیں ان کے رفعِ آسمانی کا ذِکر ہے، کیونکہ تمام مفسرین اس پر متفق ہیں۔ اس آیت میں ’’توفی‘‘ سے موت مراد لینا کسی طرح صحیح نہیں، اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دِین کو پولوس نے بگاڑا ہے، اور تاریخ کے مطابق اس کی وفات ۶۰ء میں ہوئی۔ گویا ۶۰ء تک دِینِ مسیحی بگڑ چکا تھا۔ معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوم کا بگڑنا ان کی موت کے بعد نہیں، بلکہ ان کے رفعِ آسمانی کے بعد ہوا ہے۔ اس آیت شریفہ کا مطلب یہ ہے کہ میں ان کے حالات کو اپنی موجودگی میں تو دیکھ رہا تھا، لیکن جب آپ نے مجھے آسمان پر زِندہ اُٹھالیا، اس وقت وہ میری نگرانی سے خارج تھے، اور آپ ہی ان پر نگہبان تھے۔

’’۸:۔ مولانا صاحب، جناب خان شہزادہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’حضرت عیسیٰ کی ہجرت کو تو ہم دونوں مانتے ہیں، میں ہجرت الی السماء کا قائل ہوں، اور آپ ہجرت الی الربوہ کے۔ اگرچہ آپ تعین نہیں کرتے کہﵟ إِلَىٰ رَبۡوَةٖ ذَاتِ قَرَارٖ وَمَعِينٖﵞکہاں ہے؟ نیز ان کے مدفن کا بھی کسی کو پتا نشان نہ ہے، مولانا صاحب! آپ نے خان شہزادہ کے ذمہ لگادیا کہ ربوہ والی جگہ کا تعین کریں، اور پتا بتائیں، مگر کیا یہ ہم سب مسلمانوں کا فرض نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس زمین ربوہ کی نشاندہی فرمائی ہے، اور جہاں جاکر دونوں ماں بیٹے نے ہجرت کے بعد پناہ لی ہے، اس کی تلاش کریں؟ جبکہ خدا تعالیٰ نے اس زمین ربوہ کے بارے میں یہ بھی اِشارہ فرمادیا کہ وہ ایک تسکین بخش اور چشموں والی زمین ہے۔ صرف ایک پاؤں کا نشان پاکر اِنسان اپنا گمشدہ اُونٹ تلاش کرسکتا ہے، کیا ہم خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے پتے پر خدا تعالیٰ کے ایک پیارے نبی کو اور ان کی پیاری والدہ ماجدہ مریم کو نہیں ڈھونڈ سکتے؟ میرے خیال میں صرف ہمت اور صاف نیت کی ضرورت ہے، آخر ربوہ آسمان پر تو نہیں ہے، وہ اُونچی جگہ اسی زمین پر ہے، پھر ایک فرد تو نہیں، دو ماں بیٹا ہیں، جہاں ماں ہوگی وہاں بیٹا بھی ہوگا۔

اس ضمن میں دُوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ہر فوت شدہ نبی کی قبر کا پتا لگانا ضروری ہے، تب ہم کسی نبی کو وفات یافتہ تسلیم کریں گے؟ ورنہ نہیں۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ حضرت مریم بھی تو ہجرت کے وقت اپنے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی تھیں، ان کے مقبرے کا کیا آپ کو علم ہے؟ چوتھا سوال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی ہجرت بمقام ربوہ آسمان پر جانے کی نفی نہیں ہے؟‘‘

جواب:۔

یہاں چند اُمور قابلِ ذکر ہیں:

اوّل:۔ جو مضمون میں نے جناب خان شہزادہ صاحب کے نام لکھا تھا، وہ پورا جناب کی نظر سے نہیں گزرا، میں نے اس آیتِ شریفہ: ﵟوَءَاوَيۡنَٰهُمَآ إِلَىٰ رَبۡوَةٖ ذَاتِ قَرَارٖ وَمَعِينٖﵞکے بارے میں لکھا تھا کہ اس کا تعلق واقعۂ صلیب سے نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اِبتدائی نشوونما سے ہے۔

دوم:۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہجرت آسمان کی طرف ہوئی ہے، اور اس میں نہ ان کی والدہ ماجدہ شریک تھیں، اور نہ ان کے حواری۔ اس ناکارہ نے ایک مستقل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ آسمانی پر لکھی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر پندرھویں صدی تک تمام اکابرِ اُمت کی تصریحات جمع کردی ہیں۔ یہ رسالہ ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ جلد اوّل میں شامل ہے۔

سوم:۔ بہرحال حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام بیت اللحم میں پیدا ہوئے، پھر ان کی والدہ ماجدہ ان کو مصر لے گئیں، اور کوئی آٹھ نو سال کے تھے جب ان کا قیام ناصرہ بستی میں ہوا۔ یہی ان کا مستقر تھا، اس کے علاوہ انہوں نے کوئی وطن نہیں بنایا۔

’’۹:۔ مولانا صاحب نے اپنے مضمون میں حضرت عیسیٰ کی ایک دُعا کا ذِکر برنباس اِنجیل کے حوالے سے کیا ہے کہ آپ نے دُعا کی تھی کہ مجھے اے خدایا! تو اُمتِ محمدیہ کا فرد بنادے۔ اس دُعا کی قبولیت کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو آسمان پر اُٹھالیا۔ یقینا آپ جیسے جید عالم سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ آپ نے محض سنی سنائی بات کو مضمون کی زینت بنادیا ہو۔

تاہم اتنی گزارش کردُوں کہ میری تحقیقات کے مطابق اس قسم کی دُعا کا کہیں ذِکر اِنجیل برنباس میں نہیں ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ براہِ کرم اس کا حوالہ یا اس کی فوٹوکاپی خاکسار کے پتے پر اِرسال فرمادیں۔ یہاں تک کہ کسی حدیث میں حضرت عیسیٰ کی اس دُعا کا تعلق ہے تو میری تحقیق کے مطابق یہ بھی کسی حدیث میں ان کی ایسی دُعا کا کہیں ذِکر نہ ہے، کیا آپ اس سلسلے میں میری رہنمائی فرمائیں گے؟ البتہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دُعا کا ذِکر ہے، جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ! تو اُمتِ محمدیہ کا نبی نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس اُمت کا نبی اسی اُمت سے ہوگا، پھر عرض کیا گیا کہ نبی نہیں تو اُمتی ہی بنادیجئے تو اِرشادِ باری تعالیٰ ہوا کہ: تم ان سے پہلے ہوگئے ہو، وہ پیچھے، البتہ تم کو اور ان کو میں دارالجلال میں اِکٹھا کردُوں گا۔ (اس کا ذِکر حضرت مولانا اشرفی علی صاحب تھانویؒ نے اپنی کتاب نشرالطیب فی ذکر الحبیبؐ کے صفحہ: ۲۶۲ پر فرمایا ہے)۔ مولانا صاحب! اس سلسلے میں دو اہم سوال مزید ذہن میں آئے ہیں۔ پہلا یہ کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دُعا اُمتِ محمدیہ کے فرد ہونے کی قبول نہیں ہوئی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں وہ کونسی افضلیت ہے کہ ان کے لئے یہ دروازہ کھلا رکھ دیا گیا ہے؟

دُوسرا سوال یہ ہے کہ بفرضِ محال مان بھی لیا جائے کہ حضرت عیسیٰ نے برنباس اِنجیل کی رُو سے ایسی دُعا کی تھی تو دُعا تو صرف اُمتی بننے کی تھی نہ اِصلاحِ اُمت کی؟ ان اُلجھنوں کا حل آپ کے نزدیک کیا ہے؟

فقط والسلام ابوظفر چوہان۔‘‘

جواب:۔

اِنجیل برنباس کی جس دُعا کا میں نے ذِکر کیا تھا، اس کے لئے باب:۴۴ کا آخر ملاحظہ فرمائیے (فقرہ۳۰ سے ۳۲ تک):

’’اور جبکہ میں نے اس کو دیکھا، میں تسلی سے بھرکر کہنے لگا: ’’اے محمد! اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ ہو، اور مجھ کو اس قابل بنائے کہ میں تیری جوتی کا تسمہ کھولوں، کیونکہ اگر میں یہ (شرف) حاصل کروں تو بڑا نبی اور اللہ کا قدوس ہوجاؤں گا۔‘‘ اور جبکہ یسوع نے اس بات کو کہا، اس نے اللہ کا شکر اَدا کیا۔‘‘

اس ناکارہ کے پاس اِنجیل برنباس کے دو نسخے ہیں:

۱:۔ مطبوعہ اسلامی مشن، ۷:۔ابدالی روڈ، سنت نگر، لاہور۔ جنوری ۱۹۸۰ء بمطابق صفر ۱۴۰۰ھ۔

۲:۔ ترجمہ، آسی ضیائی، مطبوعہ اسلامک پبلیکیشنز ۱۳:۔ای، شاہ عالم مارکیٹ، لاہور۔ طبع پنجم جولائی ۱۹۸۷ء

آخرالذکر کے ترجمے میں معمولی سا فرق ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں:

’’اور جب میں نے اسے دیکھا تو میری رُوح تسکین سے بھرگئی یہ کہہ کر کہ: ’’اے محمد! خدا تیرے ساتھ ہو، اور وہ مجھے اس لائق بنائے کہ میں تیری جوتی کا تسمہ کھول سکوں۔ کیونکہ یہ پاکر میں ایک بڑا نبی اور خدا کا قدوس ہوجاؤں گا۔‘‘ یہ کہہ کر یسوع نے خدا کا شکر اَدا کیا۔‘‘

رہا آپ کا یہ سوال کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دُعا تو قبول نہیں ہوئی، حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام میں وہ کونسی خصوصیت تھی کہ ان کے حق میں دُعا قبول ہوئی؟‘‘ اس کا جواب خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دے چکے ہیں:

’’اَلْأَنْبِیَاءُ إِخْوَۃٌ لِعَلّاتٍ اُمَّھَاتُھُمْ شَتّٰی وَدِیْنُھُمْ وَاحِدٌ، وَأَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ لِأَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہٗ نَبِیٌّ، وَإِنَّہٗ نَازِلٌ، فَإِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَأَعْرِفُوْہُ، رَجُلٌ مَّرْبُوْعٌ، إِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ، عَلَیْہِ ثَوْبَانِ مُمَصَّرَانِ، رَأْسُہٗ یَقْطُرُ وَإِنْ لَّمْ یُصِبْہُ بِلَلٌ، فَیَدُقُّ الصَّلِیْبَ، وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ، وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ، وَیَدْعُو النَّاسَ إِلَی الْإِسْلَامِ، فَتَھْلِکُ فِیْ زَمَانِہِ الْمِلَلُ کُلُّھَا إِلّا الْإِسْلَامُ، وَتَرْتَعُ الْأَسْوَدُ مَعَ الْإِبِلِ، وَالنِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ، وَالذِّیَابُ مَعَ الْغَنَمِ، وَتَلْعَبُ الصِّبْیَانُ بِالْحَیَّاتِ فَلَا تَضُرُّھُمْ، فَیَمْکُثُ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُتَوَفّٰی وَیُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ۔‘‘ (ابوداؤد ج:۲ ص:۲۳۸، مسندِ احمد ج:۲ ص:۴۳۷، فتح الباری ج:۶ ص:۴۹۳) (حقیقۃ النبوۃ ص:۱۹۲، از مرزا محمود احمد قادیانی)

ترجمہ:۔ ’’انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں، ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں، اور دِین ایک ہوتا ہے، اور میں عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں، کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں، اور وہ نازل ہونے والا ہے، پس جب اسے دیکھو تو اسے پہچان لو کہ وہ درمیانہ قامت، سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ، زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے، اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا کو سر پر پانی نہ ہی ڈالا ہو، اور وہ صلیب کو توڑے گا، اور خنزیر کو قتل کرے گا، اور جزیہ ترک کردے گا اور لوگوں کو اِسلام کی طرف دعوت دے گا، اس کے زمانے میں سب مذاہب ہلاک ہوجائیں گے اور صرف اسلام رہ جائے گا، اور شیر اُونٹوں کے ساتھ، چیتے گائے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے، اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے، اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے، عیسیٰ بن مریم چالیس سال تک رہیں گے اور پھر فوت ہوجائیں گے اور مسلمان ان کے جنازے کی نماز پڑھیں گے۔‘‘ (ترجمہ از مرزا محمود احمد قادیانی)

اس حدیث کو مرزا محمود صاحب قادیانی نے ’’حقیقۃ النبوۃ‘‘ میں صفحہ:۱۹۲ پر نقل کیا ہے، اور محمد علی لاہوری نے ’’النبوۃ فی الاسلام‘‘ میں صفحہ:۹۲ پر نقل کیا ہے۔ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نازل ہونے کی خبر دی ہے، اور ان کی خصوصیت یہ ذِکر فرمائی ہے کہ ان کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ:

۱:۔ ان کا زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ملا ہوا ہے، اور

۲:۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دی تھی۔

جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:

ﵟ يَٰبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُم مُّصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَمُبَشِّرَۢا بِرَسُولٖ يَأۡتِي مِنۢ بَعۡدِي ٱسۡمُهُۥٓ أَحۡمَدُۖ ﵞ( الصف ٦ )

۳:۔ اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نازل ہونے کی خبر دی ہے: ’’وَإِنَّهُ نَازِلٌ فِيْكُمْ‘‘ تو یہ نازل ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کی خدمت کے لئے ہوگا، کیونکہ ’’جوتی کا تسمہ کھولنا‘‘ خادمیت ومخدومیت کے تعلق کی طرف اِشارہ ہے۔

۴:۔ علاوہ ازیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کا تعلق متعدّد وجوہ سے ہے، شاید کہ آنجناب نے سنا ہوگا ۔۔۔جیسا کہ احادیثِ صحیحہ میں وارِد ہوا ہے۔۔۔ کہ ان کی والدہ محترمہ حضرت مریم علیہا الرضوان، اُمہاتُ المؤمنین میں شامل ہوں گی، گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوتیلے والد صاحب ہیں، اب اس سے بڑا تعلق کیا درکار ہے؟

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ ﷲِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ

۱۳؍۱۰؍۱۴۱۷ھ