بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ونزولِ‌حضرت‌عیسیٰ‌علیہ‌السلام

رفع‌و‌نزول‌عیسیٰ‌ؑ‌کا‌منکر‌کافر‌ہے!

سوال:۔

محترمی و مکرمی!

ایک مضمون جو ملک کے مشہور پندرہ روزہ رسالے: ’’تقاضے‘‘ میں چھپا ہے، جس کے ایڈیٹر ہیں پیام شاہ جہاں پوری، اس میں ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر نہیں اُٹھائے گئے، مضمون ایڈیٹر صاحب نے خود تحریر فرمایا ہے، اور یہ مضمون روزنامہ مشرق کراچی کے اسسٹنٹ ایڈیٹر اختر رضوی کے ۸؍جولائی ۱۹۸۲ء کے اخبار ’’امن‘‘ میں مضمون ’’بات صاف ہونی چاہئے‘‘ کے جواب میں لکھا گیا ہے، ہم سوال و جواب نقل کئے دیتے ہیں، علمائے کرام سے جواب کا منتظر رہوں گا۔

’’سوال:۔کیا یہ عقیدہ اسلام کے مطابق ہے کہ کعبۃ اللہ، اللہ کا گھر (جائے رہائش ہے) اور وہ عرش اعظم پر رکھی ہوئی جلیل القدر کرسی پر رونق افروز ہوا کرتا ہے، عرش اعظم ساتویں آسمان کے اوپر ہے۔

جواب ضرور عنایت فرمائیں، نہایت مشکور ہوں گا، جوابی لفافہ ارسال کیا جارہا ہے۔

جواب:۔

کعبہ، اللہ کا گھر ضرور ہے مگر اس کی جائے رہائش ہرگز نہیں، اللہ کے گھر سے مراد یہ ہے کہ اس گھر میں صرف اور صرف اللہ کی عبادت ہوگی، غیراللہ کی عبادت یہاں حرام ہے، جہاں تک جائے رہائش کا تعلق ہے، یہ خیال قدوری خواں مولویوں کو ہو سکتا ہے، کوئی روشن خیال عالم دین اس قسم کے لغو عقیدے کا تصور بھی نہیں کرسکتا، نہ اللہ تعالیٰ عرش اعظم پر رکھی ہوئی کسی کرسی پر رونق افروز ہوا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ زمان و مکان کی قیود سے بالا ہے، اگر وہ عرش اعظم یا اس پر رکھی ہوئی کرسی پر رونق افروز ہوگیا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ محدود و مقید ہوگیا، ایسا سوچنا بھی اللہ تعالیٰ کی ارفع و اعلیٰ شان کے بارے میں انتہا درجے کی بے ادبی ہے۔

یہ مغالطہ عرش کے لفظ سے پیدا ہوا ہے، عربی زبان میں عرش کے معنی حکومت کے ہیں، مقصد یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تخلیق کا عمل مکمل کردیا تو اس کے ساتھ ہی اس کی حکومت شروع ہوگئی، اور اس کائنات کی ہر چیز اس کی تابع فرماں ہوگئی، ’’اپنے عرش پر مضبوطی سے قائم ہوگیا‘‘ کی تفسیر اتنی ہے اور باقی قصے کہانیاں ہیں جو بائبل سے اسلام میں داخل ہوگئے، اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زمین سے اٹھاکر عرش تک پہنچادیا، پھر انہیں خداوند تعالیٰ کے دائیں جانب بٹھادیا، اس سے عیسائی حضرات کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ نعوذباللہ! حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمارے آقا و مولا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل تھے کہ وہ تو دو ہزار سال سے اللہ تعالیٰ کے دائیں جانب رونق افروز ہیں، اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی زمین میں مدفون ہیں، افسوس کہ ہمارے مفسرین اور علمائے کرام نے قرآن پر تدبر نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے اور ان کی والدہ کے بارے میں فرمادیا:

ترجمہ:۔’’یعنی وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔‘‘

غور کرنا چاہئے کہ کون سا نبی ایسا گزرا ہے جو کھانا نہیں کھاتا تھا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اللہ کو یہ وضاحت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بناکر انہیں آسمان پر بٹھادیا، مندرجہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں باطل نظریات کی تردید کی اور فرمایا کہ جو شخص کھانا کھاتا ہو وہ خدا کا بیٹا نہیں ہوسکتا، کیونکہ خدا کھانے پینے کا محتاج نہیں، اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس غلط نظریہ کی تردید فرمادی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر تشریف فرما ہیں۔

ارشاد ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کھانا کھایا کرتے تھے، جس شخص کا مادی جسم دُنیاوی اور مادی غذا کا محتاج ہو وہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال تک کھانے کھائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، کیونکہ آسمان پر گندم یا مکئی کے کھیت یا آٹا پیسنے کی چکی اور باورچی خانہ کی موجودگی کا کوئی ثبوت قرآن سے نہیں ملتا، نہ وہاں کپاس کے کھیت اور کپڑا بننے کی مشینیں ہیں، اور ظاہر ہے کہ ان چیزوں کے بغیر انسان کی مادی زندگی کا قائم رہنا ناممکن ہے، ہاں اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنا مادی جسم دُنیا میں چھوڑ گئے جو کھانے پینے اور کپڑے کا محتاج تھا، اور صرف ان کی روح اللہ تعالیٰ کے پاس چلی گئی تو کوئی اعتراض پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ سارے انبیاء و شہداء کی ارواح اللہ تعالیٰ کے پاس چلی گئیں جن کے بارے میں وہ فرماتا ہے کہ ہم انہیں غذا دیتے ہیں (جس کے ذریعہ وہ زندہ ہیں)، ظاہر ہے وہ مادی غذا نہیں روحانی غذا ہوگی، کیونکہ ان انبیاء اور شہداء کے جسم تو اس دُنیا میں رہ گئے۔

ہمارے بعض علمائے سلف بھی غلط فہمی کا شکار ہوگئے اور یہ عقیدہ اختیار کرلیا کہ اللہ واقعی کسی تخت پر جلوہ افروز ہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کے پاس تشریف فرما ہیں، جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین سے آسمان پر گئے ہی نہیں تو اس کے دائیں طرف کیسے بیٹھ گئے، جب اللہ تعالیٰ لامحدود اور زمان و مکان کی قیود سے آزاد ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کے پاس کیسے جاسکتے ہیں، یا بیٹھ سکتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس بلالیا تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ خدا کسی محدود جگہ جلوہ افروز ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کے پاس ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو سات حصوں میں ضرور تقسیم کیا ہے، مگر یہ کہنا کہ ساتویں آسمان پر اس کا عرش ہے جس پر وہ کرسی بچھائے رونق افروز ہے، خداوند کریم کی شان سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔‘‘

ہم نے مضمون نقل کردیا ہے، علمائے کرام سے وضاحت کے طلبگار ہیں، دعا ہے کہ ہادی برحق ہم تمام مسلمانوں کو راہ مستقیم پر قائم رکھے۔ آمین

جواب کا منتظر:ظفر اقبال اعوان

جواب:۔

یہ مضمون سارے کا سارا غلط اور لغو ہے، اللہ تعالیٰ تو عرش پر بیٹھا ہے کوئی نہیں مانتا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اُٹھائے جانے کا واقعہ خود قرآنِ کریم میں موجود ہے،(۱) مگر اہلِ اسلام میں سے کوئی شخص اس کا قائل نہیں کہ وہ عرش پر خدا کے پاس تشریف فرما ہیں، بلکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفق علیہ حدیث معراج کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام دوسرے آسمان پر ہیں۔(۲)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا اور قرب قیامت میں دوبارہ زمین پر نازل ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تمام صحابہ کرامؓ، تابعین عظامؒ، مجددین امتؒ اور پوری امت اسلامیہ کا متفق علیہ اور قطعی متواتر عقیدہ ہے، اس کا منکر کافر ہے۔

رہا یہ شبہ کہ آسمان پر ان کی غذا کیا ہے؟ یہ شبہ نہایت احمقانہ ہے، کیا خدا تعالیٰ کے لئے ان کے مناسب حال غذا مہیا کردینا مشکل ہے؟ یہ کھیت، چکیاں، کارخانے بھی اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں، وہ خود ان چیزوں کا محتاج نہیں، بغیر ان اسباب کے بھی غذا مہیا کرسکتا ہے، قرآنِ کریم میں حضرت مریم والدۂ عیسیٰ علیہ السلام کا واقعہ مذکور ہے کہ ان کے پاس غیب سے رزق آتا تھا اور بے موسم کے پھل انہیں ملتے تھے،(۳) وہ کس کھیت اور کارخانے سے تیار ہوکر آتے تھے؟ شبہ اس سے پیدا ہوتا ہے کہ جب احمق لوگ خدا تعالیٰ کی قدرت کو بھی اپنے پیمانے سے ناپتے ہیں۔

الغرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا اور آخری زمانے میں ان کا نازل ہونا، اسلام کا قطعی عقیدہ ہے، اور جو شخص اپنی جہالت کی وجہ سے اس کا انکار کرے وہ مسلمان نہیں۔ واﷲ اعلم!

  1. (۱) ﵟ إِذۡ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَىٰٓ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ﵞالآية (آل عمران ٥٥۔
  2. (۲) عن أنس بن مالك عن مالك بن صعصعۃ ان نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدّثھم عن لیلۃ اسری بہ ۔۔۔ ثم صعد بی حتی أتی السماء الثانیۃ فاستفتح قیل: من ھٰذا؟ قال: جبریل! قیل: ومن معك؟ قال: محمد! قیل: وقد أرسل إلیہ؟ قال: نعم، قیل: مرحبًا بہ فنعم المجیٔ جاء! ففتح فلما خلصت إذا یحیٰی وعیسٰی وھما ابنا خالۃ قال ھٰذا یحیٰی وھٰذا عیسٰی فسلّم علیھما فسلمّت فردّا ثم قالَا مرحبا بالأخ الصالح والنبی الصالح۔ (مشكٰوۃ، باب فی المعراج ص:۵۲۷)۔
  3. (۳) ﵟ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا ٱلۡمِحۡرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزۡقٗاۖ قَالَ يَٰمَرۡيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَاۖ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ٣٧ ﵞ آل عمران ٣٧۔