بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ونزولِ‌حضرت‌عیسیٰ‌علیہ‌السلام

حضرت‌عیسیٰ‌علیہ‌السلام‌کی‌حیات‌و‌نزول‌قرآن‌و‌حدیث‌کی‌روشنی‌میں

میرے دِل میں دو تین سوال آئے ہیں، جن کے جواب چاہتا ہوں، اور یہ جواب قرآن مجید کے ذریعہ دئیے جائیں، اور میں آپ کو یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ میں ’’احمدی‘‘ ہوں، اگر آپ نے میرے سوالوں کے جواب صحیح دئیے تو ہوسکتا ہے کہ میں آپ کے قریب زیادہ آجاؤں۔

سوال۱:۔

کیا آپ قرآن مجید کے ذریعے یہ بتاسکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں اور اس جہان میں فوت نہیں ہوئے؟

سوال۲:۔

کیا قرآن مجید میں کہیں ذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دُنیا میں تشریف لائیں گے؟ اور وہ آکر اِمام مہدی کا دعویٰ کریں گے؟

سوال۳:۔

ﵟ كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۗ ﵞکا لفظی معنی کیا ہے؟ اور کیا اس سے آپ کے دوبارہ آنے پر کوئی اثر نہیں پڑتا؟

اصل سوالات پر بحث کرنے سے پہلے میں اجازت چاہوں گا کہ ایک اُصولی بات پیش خدمت کروں۔ وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کی دوبارہ تشریف آوری کا مسئلہ آج پہلی بار میرے اور آپ کے سامنے نہیں آیا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور سے لے کر آج تک یہ اُمتِ اسلامیہ کا متواتر اور قطعی عقیدہ چلا آتا ہے، اُمت کا کوئی دور ایسا نہیں گزرا جس میں مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہ رہا ہو، اور اُمت کے اکابر صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور ائمہ مجدّدینؒ میں سے ایک فرد بھی ایسا نہیں جو اس عقیدے کا قائل نہ ہو۔ جس طرح نمازوں کی تعدادِ رکعات قطعی ہے، اسی طرح اسلام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آمد کا عقیدہ بھی قطعی ہے، خود جناب مرزا صاحب کو بھی اس کا اقرار ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:

’’مسیح ابنِ مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجے کی پیش گوئی ہے، جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۰۰)

دُوسری جگہ لکھتے ہیں:

’’اس امر سے دُنیا میں کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیحِ موعود کی کھلی کھلی پیش گوئی موجود ہے، بلکہ قریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رُو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا، اور یہ پیش گوئی بخاری اور مسلم اور ترمذی وغیرہ کتبِ حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لئے کافی ہے۔‘‘

’’یہ خبر مسیحِ موعود کے آنے کی اس قدر زور کے ساتھ ہر ایک زمانے میں پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہ ہوگی کہ اس کے تواتر سے انکار کیا جائے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر اسلام کی وہ کتابیں جن کی رُو سے یہ خبر سلسلہ وار شائع ہوتی چلی آئی ہے صدی وار مرتب کرکے اکٹھی کی جائیں تو ایسی کتابیں ہزارہا سے کچھ کم نہ ہوں گی۔ ہاں! یہ بات اس شخص کو سمجھانا مشکل ہے جو اِسلامی کتابوں سے بالکل بے خبر ہے۔‘‘ (شہادۃ القرآن ص:۲، روحانی خزائن ج:۶ ص:۲۹۸)

مرزا صاحب، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی احادیث کو متواتر اور اُمت کے اعتقادی عقائد کا مظہر قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’پھر ایسی احادیث جو تعاملِ اعتقادی یا عملی میں آکر اِسلام کے مختلف گروہوں کا ایک شعار ٹھہر گئی تھیں، ان کو قطعیت اور تواتر کی نسبت کلام کرنا تو درحقیقت جنون اور دیوانگی کا ایک شعبہ ہے۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص:۵، روحانی خزائن ج:۶ ص:۳۰۱)

جناب مرزا صاحب کے یہ ارشادات مزید تشریح و وضاحت کے محتاج نہیں، تاہم اس پر اتنا اضافہ ضرور کروں گا کہ:

۱:۔ احادیثِ نبویہ میں (جن کو مرزا صاحب قطعی متواتر تسلیم فرماتے ہیں)، کسی گمنام ’’مسیحِ موعود‘‘ کے آنے کی پیش گوئی نہیں کی گئی، بلکہ پوری وضاحت و صراحت کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قربِ قیامت میں دوبارہ نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے۔ پوری اُمتِ اسلامیہ کا ایک ایک فرد قرآنِ کریم اور احادیث کی روشنی میں صرف ایک ہی شخصیت کو ’’عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کے نام سے جانتا پہچانتا ہے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بنی اسرائیل میں آئے تھے، اس ایک شخصیت کے علاوہ کسی اور کے لئے ’’عیسیٰ بن مریم علیہ السلام‘‘ کا لفظ اسلامی ڈکشنری میں کبھی استعمال نہیں ہوا۔

۲:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک اُمتِ اسلامیہ میں جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا عقیدہ متواتر رہا ہے، اس طرح ان کی حیات اور رفعِ آسمانی کا عقیدہ بھی متواتر رہا ہے، اور یہ دونوں عقیدے ہمیشہ لازم و ملزوم رہے ہیں۔

۳:۔ جن ہزارہا کتابوں میں صدی وار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا لکھا ہے، ان ہی کتابوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ وہ آسمان پر زندہ ہیں اور قربِ قیامت میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا انکار مرزا صاحب کے بقول ’’دیوانگی اور جنون کا ایک شعبہ ہے‘‘ تو ان کی حیات کے انکار کا بھی یقینا یہی حکم ہوگا۔ ان تمہیدی معروضات کے بعد اب آپ کے سوالوں کا جواب پیش خدمت ہے۔

جواب:۔

جہاں تک آپ کے اس ارشاد کا تعلق ہے کہ: ’’اگر آپ نے میرے سوالات کے جواب صحیح دئیے تو ہوسکتا ہے کہ میں آپ کے قریب آجاؤں‘‘ یہ تو محض حق تعالیٰ کی توفیق و ہدایت پر منحصر ہے۔ تاہم جناب نے جو سوالات کئے ہیں، میں ان کا جواب پیش کر رہا ہوں اور یہ فیصلہ کرنا آپ کا اور دیگر قارئین کا کام ہے کہ میں جواب صحیح دے رہا ہوں یا نہیں؟ اگر میرے جواب میں کسی جگہ لغزش ہو تو آپ اس پر گرفت کرسکتے ہیں، وَبِاللّٰهِ التَّوْفِيقُ!