بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ونزولِ‌حضرت‌عیسیٰ‌علیہ‌السلام

حضرت‌عیسیٰ‌علیہ‌السلام‌آسمان‌پر‌زندہ‌ہیں

سوال:۔

جیسا کہ احادیث و قرآن کی روشنی میں واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں، اب ہم آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑکون سے آسمان پر ہیں اور ان کے انسانی ضروریات کے تقاضے کیسے پورے ہوتے ہوں گے؟ مثلاً: کھانا پینا، سونا جاگنا اور اُنس و اُلفت اور دیگر اشیائے ضرورت اِنسان کو کیسے ملتی ہوں گی؟ وضاحت کرکے مطمئن کریں۔

جواب:۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر زندہ اُٹھایا جانا، اور قربِ قیامت میں دوبارہ زمین پر نازل ہونا تو اسلام کا قطعی عقیدہ ہے، جس پر قرآن و سنت کے قطعی دلائل قائم ہیں اور جس پر اُمت کا اِجماع ہے۔(۱) حدیثِ معراج میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے دُوسرے آسمان پر ملاقات ہوئی تھی۔(۲) آسمان پر مادّی غذا اور بول و براز کی ضرورت پیش نہیں آتی جیسا کہ اہلِ جنت کو ضرورت پیش نہیں آئے گی۔(۳)

  1. (۱) وبہ صرح الحافظ عمادالدین ابن کثیر حیث قال فی تفسیرہ ۔۔۔ انہ لعلم للساعۃ، وقد تواترت الأحادیث عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أنہ أخبر بنزول عیسٰی علیہ السلام قبل یوم القیامۃ امامًا عادلًا وحكمًا مقسطًا، وصرح بہ فی تفسیر سورۃ النساء ایضًا، وذکر الحافظ ابن حجر فی کتابہ (فتح الباری) تواتر نزول عیسٰی علیہ السلام عن أبی الحسین الآبری، وقال فی التلخیص الحبیر من کتاب الطلاق، وأما رفع عیسٰی علیہ السلام فاتفق أصحاب الأخبار والتفسیر علٰی أنہ رفع ببدنہ حیًّا ۔۔۔الخ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۵۸ تا ۶۲، تفسیر ابن کثیر ج:۵ ص:۵۳۰ طبع رشیدیہ)۔
  2. (۲) عن قتادۃ عن أنس بن مالك ۔۔۔ ثم صعد بی حتّٰی أتی السماء الثانیۃ فاستفتح ۔۔۔ ففتح فلما خلصت اذا یحیٰی وعیسٰی وھما ابنا خالۃ ۔۔۔الخ۔ (مشکوٰۃ، باب المعراج ص:۵۲۷)۔
  3. (۳) ان الطعام انما جعل قوتًا لمن یعیش فی الأرض ۔۔۔ وأما من رفعہ اللہ الی السماء فانہ یلطفہ بقدرتہ ویغنیہ عن الطعام والشراب كما اغنی الملائكۃ عنھما فیکون حینئذٍ طعامہ التسبیح وشرابہ التھلیل كما قال صلی اللہ علیہ وسلم: انی أبیت عند ربی یطعمنی ویسقینی۔ (الیواقیت والجواہر، علامہ شعرانی ج:۲ ص:۱۴۶)۔ أیضًا عن جابر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان أھل الجنۃ یأكلون فیھا ویشربون ولَا یتفلون ولَا یبولون ولَا یتغوّطون ولَا یتمخطون، قالوا: فما بال الطعام؟ قال: جشاء ورشح کرشح المسك یلھمون التسبیح والتحمید كما تلھمون النفس۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۴۹۶)۔