ونزولِحضرتعیسیٰعلیہالسلام
کیاحضرتعیسیٰعلیہالسلامکےرفعِجسمانیکےمتعلققرآنخاموشہے؟
سوال:۔
زید یہ اعتقاد رکھے اور بیان کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر اُٹھائے جانے یا وفات دئیے جانے کے بارے میں قرآن پاک خاموش ہے، جیسا کہ زید کی یہ عبارت ہے: ’’قرآن نہ اس کی تصریح کرتا ہے کہ اللہ ان کو جسم و رُوح کے ساتھ کرۂ زمین سے اُٹھاکر آسمان پر کہیں لے گیا اور نہ یہی صاف کہتا ہے کہ انہوں نے زمین پر طبعی موت پائی اور صرف ان کی رُوح اُٹھائی گئی، اس لئے قرآن کی بنیاد پر نہ تو ان میں سے کسی ایک پہلو کی قطعی نفی کی جاسکتی ہے اور نہ اِثبات۔‘‘
تو زید جو یہ بیان کرتا ہے، آیا اس بیان کی بنا پر مسلمان کہلائے گا یا کافر؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب:۔
جو عبارت سوال میں نقل کی گئی ہے، یہ مودودی صاحب کی ’’تفہیم القرآن‘‘ کی ہے،(۱) بعد کے ایڈیشنوں میں اس کی اصلاح کردی گئی ہے۔ اس لئے اس پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا جاسکتا، البتہ گمراہ کن غلطی قرار دیا جاسکتا ہے۔
قرآنِ کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ جسمانی کی تصریح ﵟبَل رَّفَعَهُ ٱللَّهُ إِلَيۡهِۚﵞ(النساء١٥٨)اور ﵟإِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ ﵞ(آل عمران٥٥)میں موجود ہے۔ چنانچہ تمام اَئمۂ تفسیر اس پر متفق ہیں کہ ان آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ جسمانی کو ذکر فرمایا ہے اور رفعِ جسمانی پر احادیثِ متواترہ موجود ہیں۔(۲) قرآنِ کریم کی آیات کو اَحادیثِ متواترہ اور اُمت کے اجماعی عقیدے کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ آیات رفعِ جسمانی میں قطعی دلالت کرتی ہیں اور یہ کہنا غلط ہے کہ قرآنِ کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ جسمانی کی تصریح نہیں کرتا۔
- (۱) دیکھئے: تفہیم القرآن ج:۱ ص:۴۲۰۔ اٹھارواں ایڈیشن مارچ ۱۹۸۱ء۔
- (۲) والأحادیث الواردۃ فی نزول عیسی بن مریم متواترۃ۔ (الْاذاعۃ لشوکانی ص:۷۷)۔

