بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ونزولِ‌حضرت‌عیسیٰ‌علیہ‌السلام

حضرت‌عیسیٰ‌علیہ‌السلام‌کس‌عمر‌میں‌نازل‌ہوں‌گے؟

سوال:۔

ہم سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دُنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ حدیث کی روشنی میں بیان کریں کہ وہ دوبارہ اس دُنیا میں پیدا ہوں گے یا پھر اس عمر میں تشریف لائیں گے جس عمر میں آپ کو آسمان پر اللہ تعالیٰ نے اُٹھالیا۔ میں ایک مرتبہ پھر آپ سے گزارش کروں گا کہ جواب ضرور دیں، اس طرح ہوسکتا ہے کہ آپ کی اس کاوش سے چند قادیانی اپنا عقیدہ دُرست کرلیں، یہ ایک قسم کا جہاد ہے، آپ کی تحریر ہمارے لئے سند کا درجہ رکھتی ہے۔

جواب:۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام جس عمر میں آسمان پر اُٹھائے گئے، اسی عمر میں نازل ہوں گے، ان کا آسمان پر قیام ان کی صحت اور عمر پر اثر انداز نہیں، جس طرح اہلِ جنت، جنت میں سدا جوان رہیں گے اور وہاں کی آب و ہوا ان کی صحت اور عمر کو متأثر نہیں کرے گی۔(۱)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام جہاں اس وقت قیام فرما ہیں، وہاں زمین کے نہیں آسمان کے قوانین جاری ہیں، قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے کہ: ’’تیرے رَبّ کا ایک دن تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس کے برابر ہے۔‘‘(۲)

اس قانونِ آسمانی کے مطابق ابھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہاں سے گئے ہوئے دو دن بھی نہیں گزرے۔ آپ غور فرماسکتے ہیں کہ صرف دو دن کے انسان کی صحت و عمر میں کیا کوئی نمایاں تبدیلی رُونما ہوجاتی ہے؟

مشکل یہ ہے کہ ہم معاملاتِ اِلٰہیہ کو بھی اپنی عقل و فہم اور مشاہدہ و تجربہ کے ترازو میں تولنا چاہتے ہیں، ورنہ ایک مؤمن کے لئے فرمودۂ خدا اور رسول سے بڑھ کر یقین و ایمان کی کون سی بات ہوسکتی ہے۔۔۔؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ پیدا ہونے کا سوال تو جب پیدا ہوتا کہ وہ مرچکے ہوتے، زندہ تو دوبارہ پیدا نہیں ہوا کرتا، اور پھر کسی مرے ہوئے شخص کا کسی اور قالب میں دوبارہ جنم لینا تو ’’آواگون‘‘ ہے جس کے ہندو قائل ہیں۔ کسی مدعیٔ اسلام کا یہ دعویٰ ہی غلط ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رُوحانیت نے اس کے قالب میں دوبارہ جنم لیا ہے۔

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من یدخل الجنۃ ینعم ولَا یبأس ولَا یبلٰی ثیابہ ولَا یفنی شبابہ۔ رواہ مسلم۔ وعن أبی سعید وأبی ھریـرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ینادی منادٍ ان لكم ان تصحّوا فلا تسقموا أبدًا وان لكم ان تحیوا فلا تموتوا أبدًا وان لكم ان تشبّوا فلا تھرموا أبدًا وان لكم ان تنعموا فلا تبأسوا أبدًا۔ رواہ مسلم۔ (مشكٰوۃ ۴۹۶، باب صفۃ الجنّۃ وأھلھا، الفصل الأوّل)۔
  2. (۲) ﵟ وَإِنَّ يَوۡمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلۡفِ سَنَةٖ مِّمَّا تَعُدُّونَ ٤٧ ﵞ الحج ٤٧۔