بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ونزولِ‌حضرت‌عیسیٰ‌علیہ‌السلام

نبوّت‌تشریعی‌اور‌غیرتشریعی‌میں‌فرق

سوال:۔

اِمام عبدالوہاب شعرانیؒ فرماتے ہیں: ’’مطلق نبوّت نہیں اُٹھائی گئی، محض تشریعی نبوّت ختم ہوئی ہے۔ جس کی تائید حدیث میں حفظ القرآن ۔۔۔الخ۔ سے بھی ہوتی ہے (جس کے معنی یہ ہیں کہ جس نے قرآن حفظ کرلیا، اس کے دونوں پہلوؤں سے نبوّت بلاشبہ داخل ہوگئی) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول مبارک ’’لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ وَلَا رَسُوْلَ‘‘ سے مراد صرف یہ ہے کہ: میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو شریعت لے کر آئے۔ محی الدین ابن عربیؒ فرماتے ہیں: ’’جو نبوّت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے منقطع ہوئی ہے، وہ صرف غیرتشریعی نبوّت ہے نہ کہ مقامِ نبوّت۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے اس لئے اس نے ان کی خاطر تشریعی نبوّت باقی رکھی۔ مذکورہ بالا دو اقوال واضح فرمادیں۔ تشریعی اور غیرتشریعی بھی واضح فرمادیں، کیا اس کو اپنے لئے دلیل بناسکتے ہیں؟

جواب:۔

شیخ ابنِ عربیؒ اولیاء اللہ کے کشف و اِلہام کو ’’نبوّت‘‘ کہتے ہیں اور حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کو جو منصب عطا کیا جاتا ہے اسے ’’نبوّتِ تشریعی‘‘ کہتے ہیں، یہ ان کی اپنی اِصطلاح ہے۔ چونکہ انبیائے کرام کی نبوّت ان کے نزدیک تشریع کے بغیر نہیں ہوتی، اس لئے ولایت والی نبوّت واقعتا نبوّت ہی نہیں۔ علامہ شعرانیؒ اور شیخ ابنِ عربیؒ بھی انبیائے کرام والی نبوّت (جو ان کی اِصطلاح میں نبوّتِ تشریعی کہلاتی ہے) کو ختم مانتے ہیں اور ولایت کو جاری۔ اور یہی عقیدہ اہلِ سنت والجماعت کا ہے، فرق صرف اِصطلاح کا ہے۔(۱) واﷲ اعلم!

تفصیل کے لئے دیکھیں: احتسابِ قادیانیت ج:۲ ص:۱۴۴، ایضاً بوادر النوادر ص:۵۲۵ تا ۵۳۵۔

  1. (۱) تنقسم النبوۃ البشریۃ علٰی قسمین، القسم الأوّل من اللہ تعالٰی إلٰی غیرہ من غیر روح ملکی بین اللہ تعالٰی وبین عبدہ بل اخبارات الٰھیۃ یجدھا فی نفسہ من الغیب أو فی تجلیات ولَا یتعلق بذٰلك الأخبار حكم تحلیل ولَا تحریم بل تعریف بمعانی الکتاب والسُّنَّۃ أو بصدق حكم مشروع ثابت انہ من عند اللہ تعالٰی أو تعریف بفساد حكم قد ثبت بالنقل صحتہ ونحو ذٰلك وكل ذٰلك تنبیہ من اللہ تعالٰی وشاھد عدل من نفسہ قال: ولَا سبیل لصاحب ھٰذا المقام أن یکون علٰی شرع یخصہ یخالف شرع رسولہ الذی أرسل إلیہ وأمرنا باتباعہ أبدًا۔ القسم الثانی من النبوۃ البشریۃ وھو خاص بمن کان قبل بعثۃ نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم وھم الذین یکونون کالتلامذۃ بین یدی الملك فینزل علیھم الروح الأمین بشریعۃ من اللہ تعالٰی فی حق نفوسھم بتعبدھم بھا فیحل لھم ما شاء ویحرم علیھم ما شاء ولَا یلزمھم اتباع الرسل۔ (الیواقیت والجواھر ج:۲ ص:۲۵ طبع عباس بن عبدالسلام بن شقرون، مصر)۔ أیضًا الیواقیت والجواھر ج:۲ ص:۸۳ المبحث السادس والأربعون فی بیان وحی الأولیاء الْإلھامی والفرق بینہ وبین وحی الأنبیاء علیھم الصلاۃ والسلام وغیر ذٰلك۔