ونزولِحضرتعیسیٰعلیہالسلام
خاتمالنبیّیناورحضرتعیسیٰعلیہالسلام
سوال:۔
خاتم النبیّین کے کیا معنی ہیں؟ آخری نبی یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوّت نہیں عطا کی جائے گی۔ مولانا صاحب! اگر خاتم النبیّین کے یہ معنی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا تو حضرت عائشہؓ کے قول کی وضاحت کردیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ’’اے لوگو! یہ تو کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیّین تھے، مگر یہ نہ کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔‘‘ (حضرت عائشہؓ، تکملہ مجمع البحار)۔
سوال:۔
مہدیؑ اس دُنیا میں کب تشریف لائیں گے؟ اور کیا مہدی اور عیسیٰ ؑایک ہی وجود ہیں؟
جواب:۔
اسی تکملہ مجمع البحار میں لکھا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ ارشاد، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے پیشِ نظر فرمایا ہے۔(۱) چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوّت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ملی تھی، اس لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا منشا یہ ہے کہ کوئی بددِین خاتم النبیّین کے لفظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نہ آنے پر استدلال نہ کرے، جیسا کہ مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ آیت خاتم النبیّین حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کو روکتی ہے۔(۲) پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ ارشاد مرزا قادیانی کی تردید و تکذیب کے لئے ہے۔
جواب:۔
حضرت مہدی رضوان اللہ علیہ، آخری زمانے میں قربِ قیامت میں ظاہر ہوں گے، ان کے ظہور کے تقریباً سات سال بعد دجال نکلے گا اور اس کو قتل کرنے کے لئے عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔(۳) اسی سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت مہدیؓ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو الگ الگ شخصیتیں ہیں۔ مرزا قادیانی نے خود غرضی کے لئے عیسیٰ اور مہدی کو ایک ہی وجود فرض کرلیا،(۴) حالانکہ تمام اہلِ حق اس پر متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان دونوں الگ الگ شخصیتیں ہیں۔(۵)
- (۱) عن عائشۃ رضی اللہ عنہا: قولوا اِنّہ خاتم الأنبیاء ولَا تقولوا: لَا نبی بعدہ، وھٰذا ناظر الٰی نزول عیسٰی۔ (مجمع بحار الانوار مع التكملۃ ج:۵ ص:۴۶۴، طبع دائرۃ المعارف العثمانیہ دكن، ہند)۔
- (۲) ازالہ اوہام حصہ دوم ص:۴۳۱، مطبع ریاض ہند امرتسر۔
- (۳) ابوداؤد، کتاب المہدی ج:۲ ص:۲۳۲ طبع ایچ ایم سعید۔
- (۴) ازالہ اوہام حصہ دوم ص:۴۱۴، ایضاً خطبہ اِلہامیہ ص:۱۶، رُوحانی خزائن ج:۱۶ ص:۶۱۔
- (۵) اعلم أن المشھور بین کافۃ من أھل الْإسلام علٰی ممر الأعصار أنہ لَا بد فی آخر الزمان من ظھور رجل من أھل البیت یؤید الدِّین ویظھر العدل ویتبعہ المسلمون ویستولی علی الممالك الْإسلامیۃ من اشراط الساعۃ الثابتۃ فی الصحیح علٰی اثرہ، وان عیسٰی علیہ السلام ینزل بعدہ ۔۔۔الخ۔ (تحفۃ الأحوذی ج:۶ ص:۴۸۴، باب ما جاء فی المہدی، فتح الباری ج:۱ ص:۳۵۸، طبع لَاھور)۔

