ونزولِحضرتعیسیٰعلیہالسلام
ختمِنبوّتاوراِجرائےنبوّتسےمتعلقشبہاتکاجواب
سوال:۔
بخدمت جناب مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب، مولانا محمد یوسف لدھیانوی اور ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کراچی۔
نہایت مؤدبانہ اور عاجزانہ التماس ہے کہ خاکسار کی دیرینہ اُلجھن قرآن پاک کی روشنی میں حل کرکے ممنون فرمائیں، قبل ازیں ۳۵ حضرات سے رجوع کرچکا ہوں، تسلی بخش جواب نہیں ملا، آپ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں ایسا نہ کرنا۔
سوال:
۱:۔آیت مبارکہ ۴۰/۳۳ سورہ احزاب کی روشنی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کب سے یعنی کس وقت سے خاتم النبیین تسلیم کیا جائے؟
آیا:قبل پیدائش حضرت آدم علیہ السلام؟ یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش مبار ک سے؟ یا آیت ۴۰/۳۳ خاتم النبیین کے نزول کے وقت سے؟ یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سے؟
جس وقت یا مقام مبارک سے حضور کا خاتم النبیین ہونا قرآن کریم سے ثابت کریں گے، اسی وقت مبارک یا مقام مبارک سے حضور کا خاتم النبیین ہونا تسلیم ہوگا، اور اسی وقت یا مقام سے وحی الٰہی کا انقطاع تا قیامت تسلیم ہوگا۔
سوال:
۲:۔آیت مبارکہ ۱۱۲/۶ اور ۱۲۱/۶ سورہ الانعام میں شیطان مردود کے لئے دو دفعہ وحی کا لفظ ’’ يُوحِي‘‘ اور ’’لَيُوحُونَ‘‘ آیا ہے، تمام امت کا خیر سے ایمان و اتفاق ہے کہ شیطانی وحی بغیر انقطاع تا قیامت جاری و ساری رہے گی، لیکن رحمانی وحی کا انقطاع تا قیامت رہے گا، یعنی رحمانی بند اور شیطانی وحی تا قیامت جاری ہے، کیا ایسی تفسیر سے قرآن کی عالمگیر تعلیم میں کوئی تضاد اور تعارض تو نہیں پیدا ہوگا؟ کیا انقطاع شیطانی وحی کا موجب رحمت ہدایت و راحت ہوگا، یا رحمانی وحی کا؟
سوال:
۳:۔اب دُنیا کے کل مذاہب میں وحی الٰہی مبارک کا انقطاع تا قیامت تسلیم کیا جاتا ہے، یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں اور مسلمانوں میں وحی الٰہی مبارک بند ہے، اگر کوئی بدبخت یہ کہہ دے کہ وحی مبارک الٰہی جاری ہے تو فوراً کافر ہوجاتا ہے، موجودہ تفسیرات میں ہم کو ایسا ہی ملتا ہے، اب جبکہ انقطاع وحی کا عقیدہ تاقیامت تسلیم ہے تو سچے دین کی شناخت کیا ہے؟
سوال:
۴:۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: ’’وَلَا تَفَرَّقُواْۚ ‘‘ یعنی فرقہ بندی کفر و ضلالت ہے، اس کے باوجود فرقہ بندی کو کیوں قبول کیا ہوا ہے؟ یعنی کفر کیوں کمایا جارہا ہے جبکہ کوئی تکلیف بھی نہیں ہے؟ خدا و رسول اور کتاب موجود ہیں، یہ تینوں فرقہ بندی سے بیزار ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:ﵟهُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ فَمِنكُمۡ كَافِرٞ وَمِنكُم مُّؤۡمِنٞۚ ﵞ(۲/۶۴)،اور: ﵟوَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٣١ مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡﵞ(الروم٣١)آج ہم علمائے دین کی بدولت ایک مسجد میں، ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرنے کو ترس رہے ہیں، اور اسلامی آئین کو بھی۔
سوال:
۵:۔قرآن پاک سے ثابت ہے کہ مؤمن کے پاس کفر بالکل نہیں ہوتا، اس کے باوجود مسلمانوں یعنی خدا اور رسول کے حامیوں نے ایک دوسرے کلمہ گو کو پکا کافر قرار دے رکھا ہے، جبکہ مؤمن کے پاس کفر نہیں ہوتا، تو ان علمائے دین نے کفر کے فتوے لگا کر باہم کفر کیوں تقسیم کیا اور وہ کفر کہاں سے حاصل کیا ہے؟ اسلام اور کفر تو متضاد ہیں، اور کل فرقے برخلاف تعلیم عالمگیر کتاب اپنی اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں، یہ کفر کہاں سے درآمد کیا گیا ہے؟ اور کیوں کیا گیا ہے؟ اس کا لائسنس کس فرقے کے پاس ہے؟ قرآن پاک سے نشاندہی کریں، نہایت مہربانی ہوگی، اس گنہگار کے کل پانچ سوال ہیں، از راہ شفقت صدقہ رحمت للعالمین کا صرف قرآن پاک سے حوالہ و دلیل دے کر جواب سے مستفیض فرمائیں، کیونکہ خدا کا کلام خطا سے پاک ہے، کسی بڑے سے بڑے عالم کا کلام خطا سے کبھی بھی پاک قرار نہیں دیا جاسکتا، والسلام۔ رانا عبدالستار، لاہور۔
۲:۔سوال نمبر:۲ میں وحی شیطانی سے متعلق جن آیات کا حوالہ دیا گیا ہے، ان میں ’’وحی‘‘ سے مراد وہ شیطانی شبہات و وساوس ہیں جو دین حق سے برگشتہ کرنے کے لئے شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں القا کرتا ہے، گویا شیطانی القا کو ’’یُوْحُوْنَ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور القائے شیطانی کے مقابلہ میں القائے رحمانی ہے، جس کی کئی شکلیں ہیں، مثلاً الہام، کشف، تحدیث اور وحی نبوّت۔ وحی نبوّت کے علاوہ الہام و کشف وغیرہ حضرات اولیاء اللہ کو بھی ہوتے ہیں اور ان کا سلسلہ قیامت تک جاری ہے، لیکن ’’وحی نبوّت‘‘ چونکہ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے اور نبوّت کا سلسلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوچکا ہے، اس لئے وحی نبوّت کا دروازہ حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بند ہوچکا ہے، چنانچہ حدیث میں ہے:
’’إِنَّ الرِّسَالَۃَ وَالنُّبُوَّۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَا نَبِیَّ‘‘ (الجامع الصغیر ج:۱ ص:۸۰)
ترجمہ:۔’’رسالت و نبوّت بند ہوچکی پس نہ کوئی رسول ہوگا میرے بعد اور نہ نبی۔‘‘
مرزا غلام احمد قادیانی ازالہ اوہام خورد (ص:۷۶۱) میں لکھتے ہیں:
’’رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایۂ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ رسول تو آوے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔‘‘ (ازالہ اوہام ص:۷۶۱، روحانی خزائن ج:۳ ص:۵۱۱)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’رسول کی حقیقت اور ماہیئت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے اور ابھی ثابت ہوچکا ہے کہ اب وحیٔ رسالت تا بقیامت منقطع ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۶۱۴، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۳۲)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’حسب تصریح قرآن کریم، رسول اسی کو کہتے ہیں جس نے احکام و عقائد دین، جبرائیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں، لیکن وحی نبوّت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۵۳۴، روحانی خزائن ج:۳ ص:۳۸۷)
چونکہ وحی نبوّت صرف انبیائے کرام علیہم السلام کو ہوسکتی ہے اور حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دروازہ بند ہوچکا ہے، اس لئے ملت اسلامیہ کا اس پر اتفاق اور اجماع ہے کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی کا دعویٰ کرے وہ مرتد اور خارج از اسلام ہے، چنانچہ قاضی عیاض القرطبی المالکیؒ (م: ۵۴۴ھ) اپنی مشہور کتاب ’’الشفا بہ تعریف حقوق المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’وَكَذٰلِك مَنْ ادَّعَى نُبُوَّةَ أَحَدٍ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَعْدَهُ... أَوْ مَنْ ادَّعَى النُّبُوَّةَ لِنَفْسِهِ أَوْ جَوَّزَ اكْتِسَابَهَا وَالْبُلُوغَ بِصَفَاءِ الْقَلْبِ إِلٰى مَرْتَبَتِهَا... وَكَذٰلِك مَنْ ادَّعَى مِنْهُمْ أَنَّهُ يُوحَىٰ إِلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَدَّعِ النُّبُوَّةَ... فَهٰؤُلَاءِ كُلُّهُمْ كُفَّارٌ مُكَذِّبُونَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِأَنَّهُ أَخْبَرَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ، وَأَخْبَرَ عَنِ اللّٰهِ تَعَالٰى أَنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَأَنَّهُ أُرْسِلَ إِلٰى كَافَّةِ النَّاسِ. وَأَجْمَعَتِ الْأُمَّةُ عَلٰى حَمْلِ هٰذَا الْكَلَامِ عَلٰى ظَاهِرِهِ، وَأَنَّ مَفْهُومَهُ الْمُرَادَ بِهِ دُونَ تَأْوِيلٍ وَلَا تَخْصِيصٍ، فَلَا شَك فِي كُفْرِ هٰؤُلَاءِ الطَّوَائِفِ كُلِّهَا قَطْعًا إِجْمَاعًا وَسَمْعًا۔‘‘ (ج:۲ ص:۲۴۶)
ترجمہ:۔’’اسی طرح وہ شخص بھی کافر ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یا آپ کے بعد کسی کی نبوّت کا قائل ہو ۔۔۔ یا خود اپنے حق میں نبوّت کا دعویٰ کرے، یا اس کا قائل ہو کہ نبوّت کا حاصل کرنا اور صفائے قلب کے ذریعہ نبوّت کے مرتبہ تک پہنچنا ممکن ہے ۔۔۔ اور اسی طرح جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اسے وحی ہوتی ہے اگرچہ نبوّت کا دعویٰ نہ کرے ۔۔۔ پس یہ سب لوگ کافر ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کی طرف مبعوث کئے گئے ہیں اور پوری امت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر پر محمول ہے اور یہ کہ اس کا ظاہری مفہوم ہی مراد ہے، پس اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قرآن و سنت اور اجماع امت کی رو سے مذکورہ بالا گروہ قطعاً کافر اور مرتد ہیں۔‘‘
الغرض نصوص قطعیہ کی بنا پر ’’وحی نبوّت‘‘ کا دروازہ تو بند ہے اور اس کا مدعی کافر اور زندیق ہے، البتہ کشف و الہام اور مبشرات کا دروازہ کھلا ہے، پس سائل کا یہ کہنا کہ: ’’جب شیطانی وحی جاری ہے تو ضروری ہے کہ رحمانی وحی بھی جاری ہو۔‘‘ اگر رحمانی وحی سے اس کی مراد کشف و الہام اور مبشرات ہیں تو اہل اسلام اس کے قائل ہیں کہ ان کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے، لہٰذا اس کو بند کہنا ہی غلط ہے، البتہ ان چیزوں کو ’’وحی‘‘ کے لفظ سے تعبیر کرنا درست نہیں، کیونکہ وحی کا لفظ جب مطلق بولا جائے تو اس سے وحی نبوّت مراد ہوسکتی ہے، اور اگر مندرجہ بالا فقرے سے سائل کا مدعا یہ ہے کہ ’’وحی نبوّت‘‘ جاری ہے تو اس کا یہ قیاس چند وجوہ سے باطل ہے۔
اوّل:۔ اس لئے کہ اسلامی عقائد کا ثبوت نصوص قطعیہ سے ہوا کرتا ہے، قیاس آرائی سے اسلامی عقائد ثابت نہیں ہوا کرتے، اور سائل محض اپنے قیاس سے ’’وحی نبوّت‘‘ کے جاری ہونے کا عقیدہ ثابت کرنا چاہتا ہے۔
دوم:۔ یہ کہ اس کا یہ قیاس کتاب و سنت کے نصوص قطعیہ اور اجماع امت کے خلاف ہے اور قیاس بمقابلہ نص کے باطل ہے، محض اپنے قیاس کے ذریعہ نصوص قطعیہ کو توڑنا کسی مدعیٔ اسلام کا کام نہیں ہوسکتا۔
شفائے قاضی عیاض میں ہے:
’’وَكَذٰلِك وَقَعَ الْإِجْمَاعُ عَلٰى تَكْفِيرِ كُلِّ مَنْ دَافَعَ نَصَّ الْكِتَابِ أَوْ خَصَّ حَدِيثًا مُجْمَعًا عَلٰى نَقْلِهِ مَقْطُوعًا بِهِ، مُجْمَعًا عَلٰى حَمْلِهِ عَلٰى ظَاهِرِهِ۔‘‘ (ج:۲ ص:۲۴۷)
ترجمہ:۔’’اور اسی طرح ہر اس شخص کے کافر ہونے پر بھی اجماع ہے جو کتاب اللہ کی کسی نص کو توڑے یا ایسی حدیث میں تخصیص کرے جو قطعی اجماع کے ذریعہ منقول ہو، اور اس کے ظاہر مفہوم کے مراد ہونے پر اجماع ہو۔‘‘
حکم خداوندی کے مقابلہ میں قیاس سب سے پہلے ابلیس نے کیا تھا، جب حق تعالیٰ شانہ نے اس کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کرے، تو اس نے یہ کہہ کر اس حکم کو رد کردیا کہ میں اس سے بہتر ہوں اور افضل کا مفضول کے آگے جھکنا خلاف حکمت ہے، محض شبہات و وساوس اور برخود غلط قیاس کے ذریعہ کتاب و سنت کے نصوص کو رد کرنا ابلیس لعین کا کام ہے، اور یہی خیالات و وساوس وہ شیطانی وحی ہے جس کا حوالہ سوال میں دیا گیا ہے۔
ایک مؤمن کی شان یہ ہے کہ جب اس کے سامنے خدا اور رسول کا کوئی حکم آئے تو فوراً گردن اس کے آگے جھک جائے اور وہ عقل و قیاس کی ساری منطق بھول جائے، پس جب خدا و رسول اعلان فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت و رسالت اور وحی نبوّت کا دروازہ بند ہے اور اس عقیدے پر پوری امت کا اجماع ہے تو اس کے مقابلہ میں کوئی قیاس اور منطق قابل قبول نہیں۔
سوم:۔اس سے بھی قطع نظر کیجئے تو یہ قیاس بذات خود بھی غلط ہے کہ ’’جب شیطانی وحی جاری ہے تو رحمانی وحی بھی جاری ہونی چاہئے۔‘‘ کیونکہ یہ بات تو قریباً ہر شخص جانتا ہے کہ شیطانی وحی ہر وقت جاری رہتی ہے، اور کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرتا کہ شیطان لوگوں کو غلط شبہات و وساوس نہ ڈالتا ہو۔ پس اگر شیطانی وحی کے جاری ہونے سے وحی نبوّت کا جاری رہنا بھی لازم آتا ہے تو ضروری ہے کہ جس طرح شیطانی وحی تسلسل کے ساتھ جاری ہے، اسی طرح وحی نبوّت بھی ہر لمحہ جاری رہا کرے، اور ایک لمحہ بھی ایسا نہ گزرے جس میں وحی نبوّت کا انقطاع ہوگیا ہو، اور چونکہ وحی نبوّت صرف انبیائے کرام علیہم السلام کو ہوتی ہے تو وحی نبوّت کے بلا انقطاع جاری رہنے کے لئے یہ بھی لازم ہوگا کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی نبی دُنیا میں موجود رہا کرے، گویا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر اب تک جتنا زمانہ گزرا ہے اس کے ایک ایک لمحہ میں کسی نبی کا وجود تسلیم کرنا ہوگا، میرا خیال ہے کہ دُنیا کا کوئی عاقل بھی اس کا قائل نہیں ہوگا اور خود جناب سائل بھی اس کو تسلیم نہیں کریں گے، پس جب خود سائل بھی اپنے قیاس کے نتائج کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان کا یہ قیاس قطعاً غلط ہے۔
چہارم:۔یہ قیاس ایک اور اعتبار سے بھی باطل ہے کیونکہ سائل نے یہ فرض کرلیا ہے کہ وحی شیطانی کا توڑ کرنے کے لئے وحی نبوّت کا جاری ہونا ضروری ہے، اور ظاہر ہے کہ شیطان کے وساوس ہر فرد بشر کو آتے ہیں، پس لازم ہوگا کہ ان کا توڑ کرنے کے لئے ہر فرد وبشر کو وحی نبوّت ہوا کرے، خصوصاً کفار اور مشرکین اور فساق و فجار جن کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ شیطان ان کو وحی کرتا ہے، ان پر تو وحی نبوّت ضرور نازل ہونی چاہئے تاکہ وہ وحی شیطان کا مقابلہ کرسکیں، پس سائل کے قیاس سے لازم آئے گا کہ ہر فرد بشر نبی ہوا کرے اور ہر شخص پر وحی نبوّت نازل ہوا کرے، خصوصاً کفار و فجار پر تو ضرور نازل ہوا کرے اور اگر یہ کہا جائے کہ شیطانی وحی کے توڑ کے لئے ہر شخص پر وحی نبوّت کا نازل ہونا ضروری نہیں کیونکہ تمام افراد انسانی، شیطانی وساوس کا توڑ کرنے کے لئے نبی کی وحی کی طرف رجوع کرسکتے ہیں تو ہم کہیں گے کہ وحی نبوّت کا جاری ہونا بھی ضروری نہیں، بلکہ تمام انسانیت، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کی طرف رجوع کرکے شیطانی وحی کا توڑ کرسکتی ہے، اور شیطانی وساوس سے شفایاب ہوسکتی ہے، اور جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ وحی من وعن تر و تازہ موجود ہے،اس میں نہ کوئی تغیر آیا ہے اور نہ اس میں کوئی کہنگی پیدا ہوئی ہے، تو شیطانی وحی کے مقابلہ میں ’’وحی محمدی‘‘ کیوں کافی نہیں؟ اور کسی نئی وحی کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟
اسی تقریر سے سائل کا یہ شبہ بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ ’’وحی رحمانی تو رحمت ہے وہ کیوں بند ہوگئی؟‘‘ کیونکہ جب ’’وحی محمدی‘‘ کی شکل میں اس امت کو ایک کامل و مکمل رحمت، اللہ تعالیٰ نے مرحمت فرمادی ہے اور یہ کامل و مکمل رحمت امت کے پاس موجود ہے اور قیامت تک قائم و دائم رہے گی، یہ رحمت امت سے نہ کبھی منقطع ہوئی، نہ آئندہ منقطع ہوگی، تو سائل کو مزید کون سی رحمت درکار ہے جس کے بند ہونے کو وہ انقطاع رحمت سے تعبیر کرتا ہے، یہ کس قدر کفران نعمت ہے کہ ’’وحی محمدی‘‘ کو رحمت نہ سمجھا جائے، یا اس کامل و مکمل رحمت پر قناعت نہ کی جائے، اور اس کو کافی نہ سمجھا جائے، بلکہ ہر کس و ناکس اس کی ہوس کرے کہ ’’وحی نبوّت‘‘ کی نعمت براہ راست اس کو ملنی چاہئے، اگر خدانخواستہ ’’وحی محمدی‘‘ دُنیا سے ناپید ہوگئی ہوتی، یا اس میں کوئی ردوبدل ہوگیا ہوتا کہ وہ لائق استفادہ نہ رہتی، تب تو یہ کہنا صحیح ہوتا کہ اس امت کو ’’نئی وحی‘‘ کی ضرورت ہے، یا یہ کہ یہ امت ’’وحی نبوّت‘‘ کی رحمت سے محروم ہے، لیکن اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے اکمال دین اور اتمام نعمت کا اعلان فرمادیا ہے اور قیامت کے لئے وحی محمدی کی حفاظت کا ذمہ خود لے لیا، اس امت کو ’’وحی نبوّت‘‘ سے محروم کہنا صریح بے انصافی نہیں تو اور کیا ہے؟ میں جناب سائل کی توجہ اس نکتہ کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ ’’وحی محمدی‘‘ کے بعد ’’وحی نبوّت‘‘ کا جاری رہنا عقلاً محال ہے اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر ’’وحی نبوّت‘‘ کو جاری فرض کیا جائے تو سوال ہوگا کہ یہ بعد کی وحی، وحی محمدی سے اکمل ہوگی یا اس کے مقابلہ میں ناقص ہوگی؟ پہلی صورت میں ’’وحی محمدی‘‘ کا ناقص ہونا لازم آتا ہے اور یہ اعلان خدائے بزرگ و برتر ﵟ ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي ﵞکے خلاف ہے۔
اور اگر بعد کی وحی، وحی محمدی کے مقابلہ میں ناقص ہو تو کامل کے ہوتے ہوئے ناقص کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟ کامل کی موجودگی میں ناقص کو بھیجنا خلاف حکمت اور کارعبث ہے جو حق تعالیٰ شانہ کے حق میں عقلاً محال ہے، اس لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو منصب نبوّت عطا کیا جائے اور اس پر وحی نبوّت نازل کی جائے، الغرض امت محمدیہ (عَلٰى صَاحِبِهَا أَلْفُ أَلْفِ تَحِيَّةٍ وَسَلَامٍ) کے پاس ’’وحی محمدی‘‘ کی شکل میں کامل اور مکمل اور کافی و شافی رحمت موجود ہے، جو اس امت کے ساتھ اب تک قائم و دائم ہے، جو شخص اس رحمت کو کافی نہیں سمجھتا بلکہ کسی اور ’’وحی‘‘ کی تلاش میں سرگرداں ہے اس کا منشا اس کے سوا کچھ نہیں کہ دین اسلام کے کامل و مکمل اور ’’وحی محمدی‘‘ کے کافی و شافی ہونے پر ایمان نہیں رکھتا، انصاف کیا جائے کہ کیا ایسے شخص کے لئے اُمتِ محمدیہ کی صفوں میں کوئی جگہ ہوسکتی ہے؟ اور کیا وہ: ’’رَضِيْتُ بِاللّٰهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا وَنَبِيًّا‘‘ کا قائل ہے؟
۳:۔جناب سائل نے ہندوؤں، عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ جس طرح دیگر مذاہب باطلہ کی طرف سے انقطاع وحی کا دعویٰ غلط ہے، اسی طرح مسلمانوں کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد نبوّت اور وحی نبوّت کا دروازہ بند کردیا گیا ہے، گویا سائل کی نظر میں اسلامی عقیدہ بھی اسی طرح باطل ہے جس طرح ہنود و یہود اور نصاریٰ کا عقیدہ باطل ہے، نعوذباللہ!
اوپر سوال نمبر دو کے جواب میں جو کچھ لکھا گیا ہے جو شخص اس پر غور کرے گا، بشرطیکہ حق تعالیٰ نے اسے فہم و بصیرت کا کچھ بھی حصہ عطا فرمایا ہو، اسے صاف نظر آئے گا کہ اسلام کا یہ دعویٰ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ’’وحی نبوّت‘‘ کا دروازہ بند ہے، بالکل صحیح اور بجا ہے، لیکن دیگر مذاہب ایسا دعویٰ کرنے کے مجاز نہیں اور اس کی متعدد وجوہ ہیں:
ایک:۔ یہ کہ گزشتہ انبیائے کرام علیہم السلام میں سے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ ’’آخری نبی‘‘ ہیں، اور یہ کہ ان کے بعد نبوّت اور وحی نبوّت کا سلسلہ بند کردیا گیا ہے، بلکہ انبیاء گزشتہ میں سے ہر نبی اپنے بعد آنے والے نبی کی خوشخبری دیتا رہا ہے، چنانچہ انبیائے بنی اسرائیل کے سلسلے کے آخری نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اپنے بعد ایک عظیم الشان رسول کے مبعوث ہونے کی خوشخبری سنا رہے ہیں:
ﵟ وَإِذۡ قَالَ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ يَٰبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُم مُّصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَمُبَشِّرَۢا بِرَسُولٖ يَأۡتِي مِنۢ بَعۡدِي ٱسۡمُهُۥٓ أَحۡمَدُۖ ﵞ(الصف ٦)
ترجمہ:۔’’اور جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، تصدیق کرتا ہوں جو میرے سامنے تورات ہے اور خوشخبری دیتا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہے۔‘‘
یہ تو قرآن کریم کا صادق و مصدوق بیان ہے، جبکہ موجودہ بائبل میں بھی اس کے محرف و مبدل ہونے کے باوجود اس بشارت کی تصدیق موجود ہے، ملاحظہ فرمائیے:
الف:۔’’اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا جو ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا۔‘‘ (یوحنا: ۱۴، ۱۶)
ب:۔’’میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے، کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار تمہارے پاس نہ آئے گا، لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا، اور وہ آکر دُنیا کو گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں قصوروار ٹھہرائے گا۔‘‘ (یوحنا: ۱۶، ۸۷)
ج:۔’’مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے، مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کرسکتے، لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا، اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا، وہ میرا جلال ظاہر کرے گا۔‘‘ (یوحنا: ۱۶، ۱۲، ۱۴)
د:۔’’میں نے یہ باتیں تمہارے ساتھ رہ کر تم سے کہیں، لیکن مددگار یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا، وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاد دلائے گا۔‘‘ (یوحنا:۱۴، ۲۵، ۲۶)
ہ:۔’’لیکن جب وہ مددگار آئے گا جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا، یعنی سچائی کا روح جو باپ سے صادر ہوتا ہے، تو وہ میری گواہی دے گا۔‘‘ (یوحنا: ۱۵، ۲۶)
بائبل کے ان فقرات میں جس ’’مددگار‘‘ اور ’’سچائی کی روح‘‘ کے آنے کی خوشخبری دی گئی ہے اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی مراد ہے، گویا عیسیٰ علیہ السلام اپنے بعد ایک عظیم الشان رسول کے مبعوث کئے جانے کا اعلان کر رہے ہیں جو خاتم النبیین ہوگا، اور ’’ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا۔‘‘
لیکن حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے گزشتہ انبیاء کی طرح اپنے بعد کسی نبی کے آنے کی خوشخبری نہیں دی، بلکہ صاف صاف اعلان فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا:
’’أَنَا آخِرُ الْأَنْبِیَاءِ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمِ‘‘ (ابن ماجہ ص: ۲۹۷)
ترجمہ:۔’’اور میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔‘‘
اور خطبہ حجۃ الوداع کے عظیم الشان مجمع میں اعلان فرمایا:
’’أَیُّھَا النَّاسُ! أَنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا اُمَّۃَ بَعْدَکُمْ۔‘‘
(مجمع الزوائد ج:۸ ص:۲۶۳ مطبع دارالکتاب بیروت)
ترجمہ:۔’’اے لوگو! بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔‘‘
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو اس سے بھی آگاہ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص نبوّت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے:
’’وَإِنَّہٗ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ کُلُّھُمْ یَزْعَمُ اَنَّہٗ نَبِیُّ اللہِ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔‘‘ (رواہ ابوداؤد والترمذی مشکوٰۃ ص:۴۶۵)
ترجمہ:۔’’میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے، حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘
پس دیگر مذاہب اگر انقطاع وحی کا دعویٰ کرتے ہیں تو ان کا دعویٰ اپنے پیشواؤں کی تعلیم کے خلاف ہے، اور اہل اسلام اگر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت اور وحی نبوّت کا دروازہ بند ہے تو ان کا دعویٰ قرآن اور ارشادات نبویہ کی روشنی میں بالکل صحیح اور بجا ہے۔
دوم:۔ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل جس قدر انبیائے کرام علیہم السلام مبعوث ہوئے ان میں سے کسی نبی کی اصل کتاب اور ان کی صحیح تعلیم دُنیا میں موجود نہیں رہی، بلکہ دستبرد زمانہ کی نذر ہوگئی۔
لیکن حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ کتاب کا ایک ایک شوشہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا ایک ایک حرف محفوظ ہے، اس کتاب اور اس تعلیم پر ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا کہ وہ دُنیا سے مفقود ہوگئی ہو، قرآن کریم میں ارشاد ہے:
ﵟ إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ ٩ ﵞ(الحجر ٩)
ترجمہ:۔’’بے شک ہم نے ہی اس نصیحت نامے کو نازل کیا اور ہم خود ہی اس کی حفاظت کریں گے۔‘‘
اور زمانہ قرآن کریم کے اس اعلان کی صداقت پر گواہ ہے کہ آج تک قرآن کریم ہر تغیر سے پاک ہے اور اسلام کے کٹر سے کٹر دشمن بھی اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں اور اِن شاء اللہ رہتی دُنیا تک اس کی تعلیم دائم و قائم رہے گی۔
پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی نبی کی اصل آسمانی تعلیم باقی نہیں رہی تو ان مذاہب کے پرستاروں کا انقطاع وحی کا دعویٰ بھی حرف غلط ٹھہرتا ہے، اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات جوں کی توں محفوظ ہیں تو اہل اسلام کا یہ دعویٰ بالکل بجا اور درست ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انسانیت کسی نئی نبوّت اور وحی نبوّت کی محتاج نہیں۔
سوم:۔ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام مخصوص قوم و خاص وقت اور خاص علاقے اور خطے کے لئے مبعوث کئے جاتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کی حیثیت سے مبعوث فرمایا تو قیامت تک ساری دُنیا آپ کے زیر نگیں آگئی، زمان و مکان کی وسعتیں سمٹ گئیں، عرب و عجم اور اسود و احمر کی تفریق مٹ گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن رحمت تمام ملکوں، تمام خطوںاور تمام قوموں اور تمام زمانوں پر قیامت تک کے لئے محیط ہوگیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت عامہ کے بعد کسی علاقے اور کسی زمانے کے لئے نبی اور نئی ’’وحی نبوّت‘‘ کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ گئی، اور یہ آپ کا ایسا خصوصی شرف و امتیاز ہے جو آپ کے سوا کسی کو نصیب نہیں ہوا، چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’فُضِّلْتُ عَلَی الْأَنْبِیَاءِ بِسِتٍّ، اُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَّطُہُوْرًا، وَاُرْسِلْتُ إِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً، وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۵۱۲)
ترجمہ:۔’’مجھے چھ باتوں میں دیگر انبیائے کرام علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے، مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے، رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، میرے لئے مال غنیمت حلال کردیا گیا، روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی بنادیا گیا، مجھے ساری مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اور میرے ذریعہ نبیوں کو ختم کردیا گیا۔‘‘
اور صحیحین میں حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’وَکَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ إِلٰی قَوْمِہٖ خَاصَّۃً وَبُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ عَامَّۃً۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۵۱۲)
ترجمہ:۔’’مجھ سے پہلے ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا، اور مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا۔‘‘
اور مسند احمد میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے:
’’اُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ اَحَدٌ قَبْلِیْ، وَلَا اَقُوْلُہٗ فَخْرًا، بُعِثْتُ إِلٰی کُلِّ اَحْمَرَ وَاَسْوَدَ ۔۔۔ الخ۔‘‘ (مسند أحمد ج:۱ ص:۲۵۰)
ترجمہ:۔’’مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں، اور میں یہ بات بطور فخر کے نہیں کہتا، مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے خواہ گورے ہوں یا کالے ۔۔۔ الخ۔‘‘
الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ساری انسانیت کی طرف مبعوث ہونا اس حکمت کی بنا پر تھا کہ ساری دُنیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن رحمت کے نیچے آجائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی دوسری نبوّت اور وحی نبوّت کی احتیاج باقی نہ رہے گی، قرآن کریم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان وحی ترجمان سے اعلان کرایا گیا ہے:
ﵟقُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡ جَمِيعًاﵞ(الأعراف١٥٨)
ترجمہ:۔’’آپ کہہ دیجئے میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔‘‘
اس کی تفسیر میں حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:
’’يَقُولُ اللّٰهُ تَعَالٰى لِنَبِيِّهِ وَرَسُولِهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:ﵟقُلۡﵞيَا مُحَمَّدُ ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُﵞ،وَهٰذَا خِطَابٌ لِلْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَالْعَرَبِيِّ وَالْعَجَمِيِّ، ﵟإِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡ جَمِيعًاﵞأَيْ جَمِيْعَكُمْ، وَهٰذَا مِنْ شَرَفِهِ وَعَظَمَتِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَأَنَّهُ مَبْعُوثٌ إِلٰى النَّاسِ كَافَّةً۔‘‘ (ج:۲ ص:۲۷۳ طبع قاہرہ)
ترجمہ:۔’’اللہ تعالیٰ اپنے نبی و رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہیں کہ اے محمد! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! یہ خطاب گورے، کالے اور عربی و عجمی سب کو ہے، میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف و عظمت میں سے ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔‘‘
پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل کسی نبی کی بعثت عام نہیں ہوئی تو کوئی قوم اس دعویٰ کی مجاز نہیں کہ ان کے نبی کے بعد وحی کا دروازہ بند ہوچکا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت اور رسالت چونکہ زمان و مکان کی تمام وسعتوں پر محیط ہے اس لئے اہل اسلام کا یہ عقیدہ قطعاً برحق ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ آپ کے بعد نبوّت و وحی کا دروازہ بند ہے۔
چہارم:۔ یہ کہ ہر نبی کی وحی اور اس کی شریعت بلاشبہ اس کی قوم کی ضروریات کو مکتفی تھی، مگر دین کی تکمیل کا اعلان کسی نبی کے زمانے میں نہیں کیا گیا، لیکن جب نبی آخری الزماں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کی حیثیت سے تمام انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی و شریعت سے قیامت تک انسانیت کی کامل و مکمل رہنمائی اور رشد و ہدایت کا سامان کردیا گیا تو حجۃ الوداع کے موقع پر دین کی تکمیل کا اعلان کردیا گیا، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:
ﵟ ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ ﵞ(المائدة ٣)
ترجمہ:۔’’آج میں نے تمہارے لئے دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے دین اسلام کو (ہمیشہ کے لئے) پسند کرلیا۔‘‘
حافظ ابن کثیرؒ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’هٰذِهِ أَكْبَرُ نِعَمِ اللّٰهِ تَعَالٰى عَلٰى هٰذِهِ الْأُمَّةِ، حَيْثُ أَكْمَلَ تَعَالٰى لَهُمْ دِينَهُمْ، فَلَا يَحْتَاجُونَ إِلٰى دِينٍ غَيْرِهِ، وَلَا إِلٰى نَبِيٍّ غَيْرِ نَبِيِّهِمْ صَلَوَاتُ اللّٰهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ، وَلِهٰذَا جَعَلَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ، وَبَعَثَهُ إِلٰى الْإِنْسِ وَالْجِنِّ۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۱۲)
ترجمہ:۔’’یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ان کا دین کامل کردیا، پس وہ اس دین کے سوا کسی اور دین کے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور نبی کے محتاج نہیں، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بنایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن و اِنس کی طرف مبعوث فرمایا۔‘‘
پس جب پہلے کسی نبی کے زمانے میں تکمیل دین کا اعلان نہیں ہوا تو دیگر مذاہب کے پیرو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ان کے نبی کے بعد نبوّت کا دروازہ بند ہے اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دین کی تکمیل ہوچکی اور حق تعالیٰ شانہ کی نعمت اس امت پر تمام ہوچکی تو اہل اسلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نئی نبوّت اور وحی نبوّت کے دست نگر کیوں ہوں۔
اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی نبوّت کا دروازہ بند ہوجانا اس امت کے حق میں کمال نعمت ہے جس کو حق تعالیٰ شانہ بطور امتنان کے ذکر فرما رہے ہیں، جو لوگ اس کو انقطاع رحمت سے تعبیر کرتے ہیں یہ ان کی ناحق شناسی ہے، اس نعمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث کیا جاتا تو اس پر ایمان نہ لانے والے لوگ کافر ٹھہرتے، اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص ہوتی کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان لاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی ایک ایک بات کو مانتا ہے، اس کے باوجود کافر قرار پاتا ہے، گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننا بھی کفر سے بچانے کے لئے کافی نہیں ہوا، پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت قیامت تک کے لئے ہے اور ساری انسانیت کی راہنمائی اور رشد و ہدایت کی تنہا کفیل ہے تو لازم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ کیا جائے تاکہ اس کے انکار سے اُمتیانِ محمد کافر نہ ٹھہریں، اس لئے واضح ہوجاتا ہے کہ اس اُمت کے حق میں نبوّت کا جاری ہونا رحمت نہیں، بلکہ نبوّت کا بند ہونا رحمت ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا جاری ہونا آپ کی تنقیص اور اُمت کی تکفیر کو مستلزم ہے، مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں:
’’خدائے تعالیٰ ایسی ذلت اور رسوائی اس امت کے لئے اور ایسی ہتک اور کسر شان اپنے نبی مقبول خاتم الانبیاء کے لئے ہرگز روا نہیں رکھے گا کہ ایک رسول کو بھیج کر جس کے آنے کے ساتھ جبرائیل کا آنا ضروری امر ہے، اسلام کا تختہ ہی الٹ دیوے، حالانکہ وہ وعدہ کرچکا ہے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص:۵۸۶، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۱۶)
مذکورہ بالا چار وجوہ سے واضح ہوا ہوگا کہ سائل کا مسلمانوں کے عقیدۂ ختمِ نبوّت اور اِنقطاعِ وحی کو ہندوؤں، یہودیوں اور عیسائیوں کے غلط دعوؤں کی صف میں شمار کرنا ایک ایسا ظلم ہے جس کی توقع کسی صاحب بصیرت عاقل و منصف سے نہیں کی جانی چاہئے۔
رہا جناب سائل کا یہ کہنا کہ جب مسلمانوں کے علاوہ باقی قومیں بھی انقطاع وحی کا دعویٰ کرتی ہیں تو ’’سچے دین کی شناخت کیسے ہوگی؟‘‘ یہ سوال درحقیقت اس دعوے پر مبنی ہے کہ سچے اور جھوٹے مذہب کی شناخت کا بس ایک ہی معیار ہے اور وہ یہ کہ جو مذہب ’’وحی نبوّت‘‘ کے جاری ہونے کا دعویٰ کرے وہ سچا ہے، اور جو اس کا انکار کرے وہ جھوٹا ہے، کیا میں جناب سائل سے باادب دریافت کرسکتا ہوں کہ ان کا یہ خودتراشیدہ معیار قرآن کریم کی کس آیت میں، یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کس ارشاد میں ذکر کیا گیا ہے کہ جو مذہب ’’وحی نبوّت‘‘ کے جاری ہونے کا قائل ہو وہ سچا ہے اور جو قائل نہ ہو وہ جھوٹا ہے؟ کیا مذہب کی حقانیت خودتراشیدہ اور من گھڑت معیاروں سے جانچی جاسکتی ہے؟
اب اگر اس معیار کو ایک لمحہ کے لئے صحیح فرض کرلیا جائے تو اس کی رو سے بابی، بہائی اور دیگر جھوٹے مدعیان نبوّت کا مذہب سچا قرار پاتا ہے، کیونکہ یہ سب لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ’’وحی نبوّت‘‘ کے جاری ہونے کے قائل تھے، کیا جناب سائل اپنے مقرر کردہ معیار کی رو سے مسیلمہ کذاب سے لے کر بہاء اللہ ایرانی تک کے تمام مذاہب کو سچا تسلیم کرنے کے لئے تیار ہوں گے؟ مجھے توقع ہے کہ جناب سائل خود بھی اس بوجھ کے اٹھانے پر آمادہ نہیں ہوں گے، اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان کا پیش کردہ معیار خود ان کی نظر میں بھی غلط ہے کہ جو مذہب وحی نبوّت کے جاری ہونے کا قائل ہو وہ سچا ہے اور جو قائل نہ ہو وہ جھوٹا ہے۔ کسی مذہب کی حقانیت کا معیار اس کی پیش کردہ تعلیمات ہیں اور یہ بات میں اوپر عرض کرچکا ہوں کہ اسلام کے سوا کوئی مذہب ایسا نہیں جو اپنے بانیٔ مذہب کی صحیح تعلیم پیش کرنے کی جرأت کرسکے، کوئی مذہب ایسا نہیں جو اپنی مذہبی تعلیمات کو مخصوص قوم اور مخصوص خطہ کے دائرے سے نکال کر انسانیت کی عالمگیر برادری کی ہر شعبہ زندگی میں رہنمائی کے فرائض انجام دے سکے، کوئی مذہب ایسا نہیں جس کے اصول و فروع عقل سلیم کے ترازو پر پورے اترتے ہوں، اور کوئی مذہب ایسا نہیں جس نے خارجی پیوندکاری کے بغیر انسانی مشکلات کا حل پیش کیا ہو، اسلام اپنے امتیازی اوصاف و خصائص کی بنا پر فطری دین ہے، جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے: ﵟ فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡهَاۚ ﵞکیا یہ کھلے حقائق بھی جناب سائل کو سچے مذہب کی شناخت کے لئے کارآمد نہیں ہوسکتے؟
۴:۔جناب سائل مسلمانوں کی فرقہ بندی سے پریشان ہیں، لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ اس سے کیا نتیجہ اخذ کرنا چاہتے ہیں؟ اور ہم سے کیا دریافت کرنا چاہتے ہیں؟ ’’اختلاف امت‘‘ کی بقدر ضرورت بحث میں اپنی کتاب ’’اختلاف امت اور صراط مستقیم‘‘ میں عرض کرچکا ہوں، خلاصہ یہ کہ اختلاف کی دو قسمیں ہیں، ایک فروعی مسائل میں اختلاف، یہ ایک ناگزیر فطری امر ہے اور اس کو کوئی معیوب قرار نہیں دے سکتا۔ دوسری قسم نظریاتی اختلاف کی ہے، یہ بلاشبہ مذموم ہے لیکن اس کی ذمہ داری اسلام پر یا اہل حق پر عائد نہیں ہوتی بلکہ وہی لوگ مورد الزام ہیں جو نت نئے نظریات تراش کر امت میں افتراق و انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں، مثلاً امت میں مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیرو کھڑے ہوئے اور امت کو افتراق و انتشار کی بھٹی میں جھونک کر چلتے بنے، منکرین حدیث کھڑے ہوئے اور ایک نئے فتنے کا دروازہ کھول کر امت میں تفرقہ پیدا کر گئے، اہل بدعت کھڑے ہوئے اور انہوں نے طرح طرح کی بدعات پھیلاکر فرقہ بندی کو ہوا دی۔
ظاہر ہے کہ اس طرح جس قدر فرقہ بندیاں وجود میں آئیں، ان کے لئے نہ اسلام مورد الزام ہے اور نہ وہ حضرات جو سلف صالحین، صحابہؓ و تابعینؒ کے نقش قدم پر گامزن ہیں۔ فرقہ بندیوں کا اہل حق کو الزام دینا عقل و دانش کے خلاف بدترین ظلم ہے اور اس کی مثال ایسی ہوگی کہ کسی شریف کے گھر چور نقب زنی کرے، مقدمہ عدالت میں جائے، تو جج صاحب بجائے چور کو ملزم ٹھہرانے کے، دونوں فریقوں کو ’’مجرم‘‘ ٹھہراکر جیل بھیج دے، ظاہر ہے کہ اس کو انصاف نہیں کہا جائے گا، ٹھیک اسی طرح جب مختلف قسم کے نقب زنوں نے اسلامی نظریات میں نقب لگاکر فرقہ بندیوں کو جنم دیا، تو عقل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ان چوروں کی نشاندہی کی جائے اور ان کی خیانتوں کی نشاندہی کی جائے، یہ نہیں کہ ان کی چوری و سینہ زوری کا الزام الٹا اہل حق کو بھی دیا جائے۔ اور اگر سائل کا خیال یہ ہے کہ امت کے ان فرقوں میں سے کوئی فرقہ بھی حق پر قائم نہیں، تو یہ خیال غلط اور نصوص شرعیہ کے خلاف ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
’’لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللّٰهِ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتّٰى يَأْتِيَ أَمْرُ اللّٰهِ وَهُمْ عَلٰى ذٰلِك۔‘‘(صحیح بخاری و مسلم، مشکوٰۃ ص:۵۸۳)
ترجمہ:۔’’میری امت میں ایک جماعت اللہ تعالیٰ کے حکم پر ہمیشہ قائم رہے گی، ان کو نقصان نہیں دے گا وہ شخص جو ان کی مدد چھوڑ دے اور نہ وہ جو ان کی مخالفت کرے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے گا درانحالیکہ وہ اسی پر ہوں گے۔‘‘
ایک اور حدیث میں ہے:
’’لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِّنْ اُمَّتِیْ یُقَاتِلُوْنَ عَلَی الْحَقِّ ظَاھِرِیْنَ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، قَالَ: فَیَنْزِلُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَیَقُوْلُ اَمِیْرُھُمْ: تَعَالْ صَلِّ لَنَا، فَیَقُوْلَ: لَا! إِنَّ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ اُمَرَاءُ تَکْرِمَۃَ اللہُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۸۷، مسند احمد ج:۳ ص:۳۱۵)
ترجمہ:۔’’میری امت کا ایک گروہ حق پر لڑتا رہے گا اور وہ غالب رہیں گے قیامت تک، پس عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور ان کا امیر آپؑ سے کہے گا کہ: آئیے نماز پڑھائیے، وہ فرمائیں گے: نہیں! بلکہ تمہی پڑھاؤ، بے شک تم میں سے بعض، بعض پر امیر ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کا اعزاز ہے۔‘‘
جواب:۔
جناب سائل نے اپنے تمہیدی خط میں لکھا ہے کہ قبل ازیں پینتیس حضرات سے رجوع کرچکے ہیں، مگر تسلی بخش جواب نہیں ملا، سوالوں کے جواب سے پہلے اس ضمن میں ان کی خدمت میں دو گزارشیں کرنا چاہتا ہوں:
۱:۔ایک یہ کہ سوالات و شبہات کا صحیح و معقول جواب دینا تو علمائے اُمت کی ذمہ داری ہے، لیکن کسی کے دل میں بات ڈال دینا اور اسے اطمینان و تسلی دلادینا ان کی قدرت سے خارج ہے اور وہ اس کے مکلف بھی نہیں، کسی کے دل کو پلٹ دینا صرف اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے، اس ناکارہ نے اپنی بساط کے مطابق خلوص و ہمدردی سے جنابِ سائل کے شبہات اور غلط فہمیوں کو دُور کرنے کی کوشش کی ہے، ان کا کوئی شبہ حل نہ ہوا ہو تو دوبارہ رجوع فرماسکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود خدانخواستہ اطمینان و تسلی نہ ہو تو معذوری ہے۔
۲:۔دوسری گزارش یہ ہے کہ کسی جواب سے تسلی نہ ہونا اس کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ جواب میں کوئی ایسا نقص ہو کہ وہ موجب اطمینان و تسلی نہ ہو، دوم یہ کہ جواب تو تسلی بخش تھا، مگر سائل کا مقصد تسلی حاصل کرنا نہیں تھا، شرح اس کی یہ ہے کہ کبھی تو سوالات وشبہات اس لئے پیش کئے جاتے ہیں کہ سائل ان شبہات کی وجہ سے بے چین ہو اور وہ خلوص دل سے چاہتا ہے کہ اس کے شبہات دُور ہوجائیں تاکہ اسے اطمینان و تسلی کی کیفیت نصیب ہوجائے، مگر وہ خود اتنا علم نہیں رکھتا کہ ان شبہات کے حل کرنے پر قادر ہو، اس لئے وہ کسی ایسے شخص سے رجوع کرتا ہے جو اس کے خیال میں ان شبہات کے دُور کرنے میں اس کی مدد کرسکتا ہے، ایسے شخص کا سوال چونکہ احتیاج و خلوص پر مبنی ہوتا ہے اور وہ دل و جان سے اس کا خواہشمند ہوتا ہے کہ اس کے شبہات دُور ہوجائیں، اس لئے صحیح جواب ملنے پر اس کی غلط فہمی دُور ہوجاتی ہے، اور اسے ایسی تسلی ہوجاتی ہے گویا کسی نے زخم پر مرہم رکھ دیا۔ اس کے برعکس معاملہ یہ ہوتا ہے کہ سائل اپنے سوال میں جن شبہات کو پیش کرتا ہے وہ ان سے مضطرب اور بے چین نہیں ہوتا، بلکہ وہ ان شبہات کو قطعی و یقینی سمجھ کر ان پر دل و جان سے راضی ہوتا ہے، ایسا شخص سوال کی شکل میں جب اپنے شبہات کسی کے سامنے پیش کرتا ہے تو اس کا مقصد ان شبہات کو دُور کرنا نہیں ہوتا، اور نہ وہ اس کی ضرورت سمجھتا ہے، اسے اپنے شبہات سے پریشانی یا قلق و اضطراب نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے سوالات کو لاینحل اور حرفِ آخر سمجھتے ہوئے پیش کرتا ہے، جس سے مقصد اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ اس کے سوالات ایسے مضبوط ہیں کہ اہل علم میں سے کوئی اس کا جواب نہیں دے سکتا، بلکہ تمام علمائے امت اس کے جواب سے عاجز و قاصر ہیں، گویا وہ رفع شبہات کے لئے سوال نہیں کرتا، بلکہ علمائے امت کو چیلنج دینے کے لئے کرتا ہے، ایسے شخص کے سوالوں کا خواہ کیسا ہی معقول اور صحیح جواب دے دیا جائے، مگر اس کو کبھی تسلی نہیں ہوتی، یہ حالت بہت ہی خطرناک ہے، اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس سے محفوظ رکھیں۔
بہرحال اگر جناب سائل کا مقصد واقعی اپنے شبہات کو دُور کرنا ہے تو مجھے توقع ہے کہ اِن شاء اللہ العزیز ان کو ان جوابات سے شفا ہوجائے گی، اور آئندہ انہیں کسی اور کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں رہے گی، اور اگر ان کا یہ مقصد ہی نہیں تو یہ توقع رکھنا بھی بے کار ہے، بہرحال اپنا فرض ادا کرنے کی غرض سے ان کے پانچ سوالوں کا جواب بالترتیب پیش خدمت ہے۔
جواب۱:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، اور کسی کو نبوّت نہیں دی جائے گی، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔‘‘ (صحیح بخاری و مسلم کتاب الامارۃ ج:۲ ص:۱۲۶)
ترجمہ:۔’’بنو اسرائیل کی سیاست انبیائے کرام علیہم السلام فرماتے تھے، جب ایک نبی کا انتقال ہوجاتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لیتا، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘
اس مضمون کی دو سو سے زائد متواتر احادیث موجود ہیں، اور یہ اسلام کا قطعی عقیدہ ہے، چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی ازالہ اوہام (خورد ص:۵۷۷) میں لکھتے ہیں:
’’ہر یک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل کو بعد وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لئے وحی نبوّت لانے سے منع کیا گیا ہے، یہ تمام باتیں صحیح اور سچ ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص:۵۷۷، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۱۲)
الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا اسلام کا ایسا قطعی و یقینی عقیدہ ہے جو قرآن کریم، احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے، اور جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کسی کو نبوّت مل سکتی ہے، ایسا شخص باجماع امت کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، چنانچہ ملا علی قاریؒ (م۱۰۱۴ھ) شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں:
’’التَّحَدِّي فَرْعٌ دَعْوَى النُّبُوَّةِ، وَدَعْوَى النُّبُوَّةِ بَعْدَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفْرٌ بِالْإِجْمَاعِ۔‘‘ (شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲)
ترجمہ:۔’’معجزہ دکھانے کا دعویٰ، دعویٔ نبوّت کی فرع ہے، اورہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔‘‘
رہا یہ کہ آیت خاتم النبیین کی روشنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کس وقت سے خاتم النبیین تسلیم کیا جاوے، اس کا جواب یہ ہے کہ علم الٰہی میں تو ازل سے مقدر تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد تشریف لائیں گے، اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی پر انبیاء علیہم السلام کی فہرست مکمل ہو جائے گی، آپ کے بعد کسی شخص کو نبوّت نہیں دی جائے گی، چنانچہ ایک حدیث میں ہے:
’’إِنِّیْ عِنْدَ اللہِ مَکْتُوْبٌ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِیْ طِیْنَۃٍ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۵۱۳)
ترجمہ:۔’’بے شک میں اللہ کے نزدیک خاتم النبیین لکھا ہوا تھا، جبکہ آدم علیہ السلام ہنوز آب و گل میں تھے۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین کی حیثیت سے مبعوث ہونا اس وقت تجویز کیا جاچکا تھا جبکہ ابھی آدم علیہ السلام کی تخلیق نہیں ہوئی تھی، پھر جب تمام انبیائے کرام علیہم السلام اپنی اپنی باری پر تشریف لاچکے اور انبیائے کرام علیہم السلام کی فہرست میں صرف ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام باقی رہ گیا تھا، تب اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاتم النبیین کی حیثیت سے دُنیا میں مبعوث فرمایا، چنانچہ صحیحین کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْأَنْبِیَاءِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بُنْیَانًا فَأَحْسَنَہٗ وَأَجْمَلَہٗ إِلّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِّنْ زَاوِیَۃٍ مِّنْ زَوَایَاہُ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِہٖ وَیَعْجَبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ: ھَلّا وُضِعَتْ ھٰذِہِ اللَّبِنَۃُ۔ قَالَ: فَأَنَا اللَّبِنَۃُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَکُنْتُ أَنَا سَدَدْتُّ مَوْضِعَ اللَّبِنَۃِ، خُتِمَ بِیَ الْبُنْیَانُ وَخُتِمَ بِیَ الرُّسُلُ۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَۃِ، جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِیَاءَ عَلَیْہِمُ السَّلَامُ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۵۰۱، صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۴۸، مشکوٰۃ ص:۵۱۱)
ترجمہ:۔’’میری اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین و جمیل محل تیار کیا، مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، پس لوگ اس محل کے گرد گھومنے لگے اور اس کی خوبصورتی پر عش عش کرنے لگے، اور کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگادی گئی، فرمایا: پس میں وہ آخری اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ ایک روایت میں ہے کہ پس میں نے اس ایک اینٹ کی جگہ پر کردی، مجھ پر عمارت مکمل ہوگئی اور مجھ پر رسولوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ پس اس اینٹ کی جگہ میں ہوں، میں نے آکر انبیائے کرام علیہم السلام کے سلسلہ کو ختم کردیا۔‘‘
اور امت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا علم اس وقت ہوا جب کہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں یہ اعلان فرمایا گیا کہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ اس تفصیل سے واضح ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین کی حیثیت سے دُنیا میں تشریف لانے کا فیصلہ تو حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل تسلیم کیا جائے گا، کیونکہ یہ فیصلہ ازل ہی سے ہوچکا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی انبیائے کرام علیہم السلام کی فہرست میں سب سے آخر میں ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سب سے آخر میں ہوگی، اور اس دُنیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تسلیم کیا جائے گا، اور اُمت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین اور آخری نبی ہونے کا علم اس وقت ہوا جب قرآنِ کریم میں اور احادیث نبویہ میں اس کا اعلان و اظہار فرمایا گیا۔

