بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ونزولِ‌حضرت‌عیسیٰ‌علیہ‌السلام

کیا‌ختمِ‌نبوّت‌کا‌عقیدہ‌جزوِ‌اِیمان‌ہے؟

سوال:۔

کیا ختمِ نبوّت کا عقیدہ مسلمان ہونے کی لازمی شرط اور جزوِ اِیمان ہے؟ قرآن وحدیث، فتاویٰ اور اَقوالِ فقہاء کے حوالہ جات تحریر فرمائیں۔

جواب:۔

بلاشبہ ختمِ نبوّت کا عقیدہ جزوِ اِیمان اور شرطِ اِسلام ہے، کیونکہ جس درجے کے تواتر وتسلسل سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوّت کا دعویٰ کیا، توحید کی دعوت دی، قرآنِ کریم کو کلامُ اللہ کی حیثیت سے پیش فرمایا، قیامت، جزا وسزا اور جنت ودوزخ کی خبر دی، نماز، روزہ اور حج وزکوٰۃ وغیرہ کی تعلیم دی، ٹھیک اسی درجے کے تواتر سے ہمیں یہ معلوم ہے کہ آپ نے اِعلان فرمایا کہ میں خاتم النبیین ہوں، مجھ پر نبوّت ورِسالت کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

پس جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت اور قرآنِ کریم کےمُنزَّل مِنَ اللہِ ہونے کا عقیدہ ’’ضروریاتِ دِین‘‘ میں شامل ہے، اسی طرح ختمِ نبوّت کا عقیدہ بھی جزوِ اِیمان ہے۔ اور جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت یا قرآنِ کریم کے منزَّل من اللہ ہونے کا اِنکار، یا اس میں کوئی تأویل، کفر واِلحاد ہے، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا اِنکار، یا اس میں تأویل بھی بلاشبہ کفر واِلحاد ہے، کیونکہ یہ عقیدہ قرآنِ کریم کی نصِ قطعی، احادیثِ متواترہ اور اِجماعِ مسلسل سے ثابت ہے، اور اِسلامی عقائد پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، ان میں ختمِ نبوّت کا عقیدہ درج کیا گیا ہے۔

قرآنِ کریم:

اہلِ علم نے قرآنِ کریم کی قریباً سو آیاتِ کریمہ سے عقیدۂ ختمِ نبوّت ثابت کیا ہے ۔۔۔ملاحظہ کیجئے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کی ’’ختمِ نبوّت کامل‘‘۔۔۔ یہاں اِختصار کے مدِنظر صرف ایک آیت درج کی جاتی ہے:

ﵟ مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٖ مِّن رِّجَالِكُمۡ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٗا ٤٠ ﵞ(الأحزاب ٤٠)

ترجمہ:۔ ’’نہیں ہیں محمد ۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ، لیکن آپ اللہ کے رسول اور تمام انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں، اور ہے اللہ تعالیٰ ہر چیز کے جاننے والا۔‘‘

اس آیتِ کریمہ میں دو قرائتیں متواتر ہیں: ’’وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَۗ‘‘ ۔۔۔بفتح تا۔۔۔ یہ اِمام عاصم رحمہ اللہ کی قراء ت ہے، اور ’’وَخَاتِمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَۗ‘‘ ۔۔۔بکسر تا۔۔۔ جمہور قراء کی قراء ت ہے۔ پہلی قراء ت کے مطابق اس کے معنی ہیں، مہر، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے نبیوں کی آمد پر مہر لگ گئی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور دُوسری قراء ت کے مطابق اس کے معنی ہیں: نبیوں کو ختم کرنے والا۔ تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ دونوں قراء توں کا مآل ایک ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سلسلۂ نبوّت بند ہے۔ چند تفاسیر ملاحظہ ہوں:

۱:۔ اِمام ابنِ جریر رحمہ اللہ (متوفیٰ۳۱۰ھ):

’’وَلٰكِنْ رَسُولُ اللّٰهِ وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، الَّذِي خَتَمَ النُّبُوَّةَ فَطُبِعَ عَلَيْهَا فَلَا تُفْتَحُ لِأَحَدٍ بَعْدَهُ إِلٰى قِيَامِ السَّاعَةِ۔‘‘ (تفسیر ابن جریر ج:۲۲ ص:۱۴)

ترجمہ:۔ ’’لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، یعنی جس نے نبوّت کو ختم کردیا، اور اس پر مہر لگادی، پس آپ کے بعد یہ مہر قیامت تک کسی کے لئے نہیں کھلے گی۔‘‘

۲:۔ اِمام بغوی رحمہ اللہ (متوفیٰ۵۱۰ھ):

’’خَتَمَ اللّٰهُ بِهِ النُّبُوَّةَ، وَقَرَأَ ابْنُ عَامِرٍ وَابْنُ عَاصِمٍ (خاتَمَ) بِفَتْحِ التَّاءِ عَلَى الْاِسْمِ، أَيْ آخِرَهُمْ، وَقَرَأَ الْآخَرُوْنَ بِكَسْرِ التَّاءِ عَلَى الْفَاعِلِ، لِأَنَّهُ خَتَمَ بِهِ النَّبِيِّيْنَ فَهُوَ خَاتِمُهُمْ... عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ اللّٰهَ حَكَمَ أَنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ۔‘‘ (تفسیر معالم التنزیل ج:۵ ص:۲۱۸، مطبوعہ مصر)

ترجمہ:۔ ’’خاتم النبیین کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے نبوّت کا سلسلہ بند کردیا ہے، ابنِ عامر اور ابنِ عاصم نے ’’خاتم‘‘ کی ’’تا‘‘ کو زَبر کے ساتھ پڑھا ہے، جس کا مطلب آخری نبی ہے۔ اور دُوسرے قراء نے ’’تا‘‘ کی زیر پڑھی ہے، اس کا مطلب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیوں کے سلسلے پر مہر لگادی ہے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

۳:۔ علامہ زمخشری (متوفیٰ۵۳۸ھ):

’’فَإِنْ قُلْتَ: كَيْفَ كَانَ آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَعِيسَى يَنْزِلُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؟ قُلْتُ: مَعْنَى كَوْنِهِ آخِرَ الْأَنْبِيَاءِ أَنَّهُ لَا يُنْبَأُ أَحَدٌ بَعْدَهُ، وَعِيسَى مِمَّنْ نُبِّئَ قَبْلَهُ، وَحِينَ يَنْزِلُ، يَنْزِلُ عَامِلًا عَلٰى شَرِيعَةِ مُحَمَّدٍ، مُصَلِّيًا إِلٰى قِبْلَتِهِ كَأَنَّهُ بَعْضُ أُمَّتِهِ۔‘‘ (تفسیر کشاف ج:۳ ص:۵۴۴)

ترجمہ:۔ ’’اگر تم کہو کہ: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی کیسے ہوسکتے ہیں جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں نازل ہوں گے؟ میں کہتا ہوں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا اس معنی میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی نہ بنایا جائے گا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان نبیوں میں سے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبی بنائے جاچکے ہیں، اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعتِ محمدی پر عمل کرنے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلے کی طرف نماز پڑھنے والے بن کر نازل ہوں گے، گویا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے ایک فرد شمار کئے جائیں گے۔‘‘

۴:۔ اِمام فخرالدین رازی رحمہ اللہ (متوفیٰ۶۰۶ھ):

’’وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَذٰلِكَ لِأَنَّ النَّبِيَّ الَّذِي يَكُونُ بَعْدَهُ نَبِيٌّ إِنْ تَرَكَ شَيْئًا مِنَ النَّصِيحَةِ وَالْبَيَانِ يَسْتَدْرِكْهُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَهُ، وَأَمَّا مَنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ يَكُونُ أَشْفَقَ عَلٰى أُمَّتِهِ وَأَهْدَى لَهُمْ وَأَجْدَى، إِذْ هُوَ كَالْوَالِدِ لِوَلَدِهِ الَّذِي لَيْسَ لَهُ غَيْرُهُ مِنْ أَحَدٍ۔‘‘ (تفسیر کبیر ج:۲۵ ص:۵۸۱ مطبوعہ بیروت)

ترجمہ:۔ ’’اس آیت میں خاتم النبیین اس لئے فرمایا کہ جس نبی کے بعد کوئی دُوسرا نبی ہو، وہ اگر نصیحت اور توضیحِ شریعت میں کوئی کسر چھوڑ جائے تو اس کے بعد آنے والا نبی اس کسر کو پورا کردیتا ہے، مگر جس کے بعد کوئی نبی آنے والا نہ ہو، تو وہ اپنی اُمت پر اَزحد شفیق ہوتا ہے، اور اس کو زیادہ واضح ہدایت دیتا ہے، کیونکہ اس کی مثال ایسے والد کی ہوتی ہے جو ایسے بیٹے کا باپ ہو، جس کا ولی وسرپرست اس کے سوا کوئی دُوسرا نہ ہو۔‘‘

۵:۔ علامہ بیضاوی رحمہ اللہ (متوفیٰ۷۹۱ھ):

’’وَآخِرُهُمْ الَّذِي خَتَمَهُمْ أَوْ خُتِمُوا بِهِ، وَلَا يَقْدَحُ فِيهِ نُزُولُ عِيسَى بَعْدَهُ، لِأَنَّهُ إِذَا نَزَلَ كَانَ عَلٰى دِينِهِ۔‘‘ (تفسیر بیضاوی ج:۲ ص:۱۹۶ طبع مصر)

ترجمہ:۔ ’’اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیوں کے آنے کو ختم کردیا ہے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے وہ مہر کئے گئے ہیں۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نازل ہونا، اس میں کوئی نقص نہیں ہے، کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے تو وہ آپ کی شریعت پر عامل ہوں گے۔‘‘

۶:۔ علامہ نسفی رحمہ اللہ (متوفیٰ۷۱۰ھ):

’’أَيْ آخِرَهُمْ، يَعْنِي لَا يُنْبَأُ أَحَدٌ بَعْدَهُ، وَعِيسَى مِمَّنْ نُبِّئَ قَبْلَهُ، وَحِينَ يَنْزِلُ، يَنْزِلُ عَامِلًا عَلٰى شَرِيعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ بَعْضُ أُمَّتِهِ... وَتَقْوِيَهُ قِرَاءَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ: وَلٰكِنْ نَبِيًّا خَتَمَ النَّبِيِّينَ۔‘‘ (تفسیر مدارک التنزیل ج:۳ ص:۳۳۴ مطبوعہ مصر)

ترجمہ:۔ ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء کے آخر میں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی نہیں بنایا جائے گا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل نبی بنائے گئے، جب نازل ہوں گے تو وہ شریعتِ محمدی کے عامل بن کر نازل ہوں گے، گویا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے ایک فرد ہوں گے۔ اور حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ کی قراء ت میں یوں ہے: لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں، جس نے تمام نبیوں کی نبوّت کے سلسلے کو بند کردیا ہے۔‘‘

۷:۔ حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ (متوفیٰ۷۷۴ھ):

’’فَهٰذِهِ الْآيَةُ نَصٌّ فِي أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ، وَإِذْ كَانَ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ فَلَا رَسُولَ بِالطَّرِيقِ الْأُولَى وَالْأَحْرَى، لِأَنَّ مَقَامَ الرِّسَالَةِ أَخَصُّ مِنْ مَقَامِ النُّبُوَّةِ۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج:۳ ص:۴۹۳ طبع مصر)

ترجمہ:۔ ’’یہ آیت اس بارے میں نصِ قطعی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں تو بطریقِ اَولیٰ کوئی رسول بھی نہیں، کیونکہ مقامِ رِسالت، مقامِ نبوّت سے خاص ہے۔‘‘

۸:۔ علامہ جلال الدین محلی رحمہ اللہ (متوفیٰ۸۶۴ھ):

’’بِأَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ، وَإِذَا نَزَلَ السَّيِّدُ عِيسَى يَحْكُمُ بِشَرِيعَتِهِ‘‘ (جلالین علیٰ ہامش جمل ج:۳ ص:۴۴۶)

ترجمہ:۔ ’’خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا اور عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ شریعتِ محمدی کے ساتھ فیصلہ کریں گے۔‘‘

۹:۔ اِمام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۱۷۴ھ) لکھتے ہیں:

’’ولیکن پیغمبر خدا ست ومہر پیغمبراں است۔‘‘

ترجمہ:۔ ’’اور لیکن آپ اللہ کے پیغمبر اور تمام نبیوں کی مہر ہیں۔‘‘

اس کے بعد فوائد میں لکھتے ہیں:

’’یعنی بعد ازوے ہیچ پیغمبر نہ باشد۔‘‘ (فتح الرحمن ص: ۵۸۶ مطبوعہ دہلی)

’’یعنی ’’مہر پیغمبراں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہوگا۔‘‘

۱۰:۔ حضرت شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۲۳۰ھ) ’’خاتم النبیین‘‘ کا ترجمہ کرتے ہیں:

’’لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر۔‘‘

’’موضح القرآن‘‘ کے فوائد میں اس پر یہ نوٹ لکھتے ہیں:

’’اور پیغمبروں پر مہر ہے، اس کے بعد کوئی پیغمبر نہیں، یہ بڑائی اس کو سب پر ہے۔‘‘ (موضح القرآن)