بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ونزولِ‌حضرت‌عیسیٰ‌علیہ‌السلام

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کب آسمان سے نازل ہوں گے؟

سوال:۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کب آسمان سے نازل ہوں گے؟

سوال:۔

نیز آ پ کی کیا کیا نشانیاں دُنیا پر ظاہر ہوں گی؟

سوال:۔

یہ کس طرح ظاہر ہوگا کہ آپ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں؟

جواب:۔

قرآنِ کریم اور احادیثِ طیبہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کو قیامت کی بڑی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے اور قیامت سے ذرا پہلے ان کے تشریف لانے کی خبر دی ہے۔ لیکن جس طرح قیامت کا معین وقت نہیں بتایا گیا کہ فلاں صدی میں آئے گی، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا وقت بھی معین نہیں کیا گیا کہ وہ فلاں صدی میں تشریف لائیں گے۔

قرآنِ کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ’’اور بے شک وہ نشانی ہے قیامت کی، پس تم اس میں ذرا بھی شک مت کرو‘‘ (سورۂ زُخرف)۔(۱) بہت سے اکابر صحابہؓ و تابعینؒ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قربِ قیامت کی نشانی ہے، حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:

’’یہ تفسیر حضرت ابوہریرہؓ، ابن عباسؓ، ابوالعالیہؒ، ابومالکؒ، عکرمہؒ، حسن بصریؒ، قتادہؒ، ضحاکؒ اور دیگر حضرات سے مروی ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مضمون کی متواتر احادیث وارد ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کے قیامت سے قبل تشریف لانے کی خبر دی ہے۔‘‘(۲) (تفسیر ابن کثیر ج:۴ ص:۱۳۲)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ:

’’عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَقِیْتُ لَیْلَۃً اُسْرِیَ بِیْ إِبْرَاھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰی، قَالَ: فَتَذَاکَرُوْا أَمْرَ السَّاعَۃِ، فَرُدُّوْا أَمْرَھُمْ إِلٰی إِبْرَاھِیْمَ فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِیْ بِھَا، فَرُدُّوا الْأَمْرَ إِلٰی مُوْسٰی فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِیْ بِھَا، فَرُدُّوا الْأَمْرَ إِلٰی عِیْسٰی، فَقَالَ: اَمَّا وَجَبَتْھَا فَلَا یَعْلَمُھَا أَحَدٌ إِلّا اللہُ ذَالِکَ وَفِیْمَا عَھِدَ إِلَیَّ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ قَالَ وَمَعِیَ قَضِیْبَانِ فَإِذَا رَآنِی ذَابَ کَمَا یَذُوْبُ الرَّصَاصُ، قَالَ: فَیَھْلِکُہُ اللہُ حَتّٰی اَنَّ الْحَجَرَ وَالشَّجَرَ لَیَقُوْلَ: یَا مُسْلِمٌ! اِنَّ تَحْتِیْ کَافِرًا فَتَعَالْ فَاقْتُلْہُ، قَالَ: فَیَھْلِکُھُمُ اللہُ ثُمَّ یَرْجِعُ النَّاسُ إِلٰی بِلَادِھِمْ وَأَوْطَانِھِمْ، قَالَ: فَعِنْدَ ذَالِکَ یَخْرُجُ یَأْجُوْجُ وَمَأْجُوْجُ وَھُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ، فَیَطَؤُنَ بِلَادَھُمْ لَا یَأْتُوْنَ عَلٰی شَیْئٍ إِلّا أَھْلَکُوْہُ وَلَا یَمُرُّوْنَ عَلٰی مَاءٍ إِلّا شَرِبُوْہُ، ثُمَّ یَرْجِعُ النَّاسُ إِلَیَّ فَیَشْکُوْنَھُمْ فَأَدْعُو اللہَ عَلَیْھِمْ فَیُھْلِکَھُمُ اللہُ وَیُمِیْتُھُمْ حَتّٰی تَجْوِی الْأَرْضُ مِنْ فِتَنِ رِیْحِھِمْ، قَالَ: فَیَنْزِلُ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَطَرَ فَتَجْرُفُ أَجْسَادَھُمْ حَتّٰی یَقْذِفَھُمْ فِی الْبَحْرِ ۔۔۔ قَالَ فَفِیْمَا عَھِدَ إِلَیَّ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ ذَالِکَ إِذَا کَانَ کَذَالِکَ فَإِنَّ السَّاعَۃَ کَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ الَّتِیْ لَا یَدْرِیْ أَھْلُھَا مَتٰی تَفْجَؤُھُمْ بِوَلَادِھَا لَیْلًا أَوْ نَھَارًا۔‘‘ (مسند احمد ج:۱ ص:۳۷۵ واللفظ لہٗ، ابن ماجۃ ص:۲۹۹، مستدرک حاکم ج:۴ ص:۴۸۸، ۵۴۵، ابن جریر)

ترجمہ:۔ ’’شبِ معراج میں میری ملاقات حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (عَلَيْهِمُ الصَّلَوٰتُ وَالتَّسْلِيْمَاتُ) سے ہوئی تو آپس میں قیامت کا تذکرہ ہونے لگا کہ کب آئے گی؟ پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا، انہوں نے فرمایا کہ: مجھے اس کا علم نہیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، انہوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی باری آئی تو انہوں نے فرمایا کہ: قیامت کے وقوع کا ٹھیک وقت تو خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں، البتہ میرے رَبّ کا مجھ سے ایک عہد ہے کہ قیامت سے پہلے جب دجال نکلے گا تو میں اس کو قتل کرنے کے لئے نازل ہوں گا، وہ مجھے دیکھ کر اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے، پس اللہ تعالیٰ اس کو میرے ہاتھ سے ہلاک کردیں گے، یہاں تک شجر و حجر بھی پکار اُٹھیں گے کہ اے مسلم! میرے پیچھے کافر چھپا ہوا ہے، اس کو قتل کردے۔

قتلِ دجال کے بعد لوگ اپنے اپنے علاقے اور ملک کو لوٹ جائیں گے۔ اس کے کچھ عرصے بعد یاجوج ماجوج نکلیں گے، وہ جس چیز پر سے گزریں گے اسے تباہ کردیں گے، تب لوگ میرے پاس ان کی شکایت کریں گے، پس میں اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں بددُعا کروں گا، پس اللہ تعالیٰ ان پر یکبارگی موت طاری کردیں گے، یہاں تک کہ زمین ان کی بدبو سے متعفن ہوجائے گی، پس اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائیں گے جو ان کے اَجسام کو بہاکر سمندر میں ڈال دے گی، پس میرے رَبّ کا مجھ سے یہ عہد ہے کہ جب ایسا ہوگا تو قیامت کی مثال پورے دنوں کی حاملہ کی سی ہوگی، جس کے بارے میں اس کے مالک نہیں جانتے کہ اچانک دن میں یا رات میں کسی وقت اس کا وضع حمل ہوجائے۔‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس ارشاد سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نقل کیا ہے، معلوم ہوا کہ ان کی تشریف آوری بالکل قربِ قیامت میں ہوگی۔

جواب:۔

آپ کے زمانے کے جو واقعات، احادیثِ طیبہ میں ذکر کئے گئے ہیں، ان کی فہرست خاصی طویل ہے، مختصراً:

ت:۔ آپ سے پہلے حضرت مہدی کا آنا۔

ت:۔ آپ کا عین نمازِ فجر کے وقت اُترنا۔

ت:۔ حضرت مہدی کا آپ کو نماز کے لئے آگے کرنا اور آپ کا انکار فرمانا۔(۳)

ت:۔ نماز میں آپ کا قنوتِ نازلہ کے طور پر یہ دُعا پڑھنا: ’’قَتَلَ اللّٰهُ الدَّجَّالَ‘‘۔(۴)

ت:۔ نماز سے فارغ ہوکر آپ کا قتل دجال کے لئے نکلنا۔(۵)

ت:۔ دجال کا آپ کو دیکھ کر سیسے کی طرح پگھلنے لگنا۔(۶)

ت:۔ ’’باب لُدّ‘‘ نامی جگہ پر (جو فلسطین شام میں ہے) آپ کا دجال کو قتل کرنا،(۷) اور اپنے نیزے پر لگا ہوا دجال کا خون مسلمانوں کو دِکھانا۔(۸)

ت:۔ قتلِ دجال کے بعد تمام دُنیا کا مسلمان ہوجانا، صلیب کے توڑنے اور خنزیر کو قتل کرنے کا عام حکم دینا۔(۹)

ت:۔ آپ کے زمانے میں امن و امان کا یہاں تک پھیل جانا کہ بھیڑئیے، بکریوں کے ساتھ اور چیتے گائے بیلوں کے ساتھ چرنے لگیں اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلنے لگیں۔(۱۰)

ت:۔ کچھ عرصے بعد یاجوج ماجوج کا نکلنا اور چارسو فساد پھیلانا۔(۱۱)

ت:۔ ان دنوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اپنے رُفقاء سمیت کوہِ طور پر تشریف لے جانا اور وہاں خوراک کی تنگی پیش آنا۔(۱۲)

ت:۔ بالآخر آپ کی بددُعا سے یاجوج ماجوج کا یکدم ہلاک ہوجانا اور بڑے بڑے پرندوں کا ان کی لاشوں کو اُٹھاکر سمندر میں پھینکنا۔(۱۳)

ت:۔ اور پھر زور کی بارش ہونا اور یاجوج ماجوج کے بقیہ اَجسام اور تعفن کو بہاکر سمندر میں ڈال دینا۔(۱۴)

ت:۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا عرب کے ایک قبیلہ بنوکلب میں نکاح کرنا اور اس سے آپ کی اولاد ہونا۔(۱۵)

ت:۔ ’’فج الروحا‘‘ نامی جگہ پہنچ کر حج و عمرہ کا اِحرام باندھنا۔(۱۶)

ت:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر پر حاضری دینا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روضۂ اطہر کے اندر سے جواب دینا۔(۱۷)

ت:۔ وفات کے بعد روضۂ اطہر میں آپ کا دفن ہونا وغیرہ وغیرہ۔(۱۸)

ت:۔ آپ کے بعد ’’مقعد‘‘ نامی شخص کو آپ کے حکم سے خلیفہ بنایا جانا اور مقعد کی وفات کے بعد قرآنِ کریم کا سینوں اور صحیفوں سے اُٹھ جانا۔(۱۹)

ت:۔ اس کے بعد آفتاب کا مغرب سے نکلنا، نیز دابۃ الارض کا نکلنا اور مؤمن و کافر کے درمیان امتیازی نشان لگانا وغیرہ وغیرہ۔(۲۰)

جواب:۔

آپ کا یہ سوال عجیب دِلچسپ سوال ہے، اس کو سمجھنے کے لئے آپ صرف دو باتیں پیش نظر رکھیں:

اوّل:۔ کتبِ سابقہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پیش گوئی کی گئی تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات وعلامات ذکر کی گئی تھیں، جو لوگ ان علامات سے واقف تھے، ان کے بارے میں قرآنِ کریم کا بیان ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا پہچانتے ہیں جیسا اپنے لڑکوں کو پہچانتے ہیں۔(۲۱) اگر کوئی آپ سے دریافت کرے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے پہچانا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ تو اس کے جواب میں آپ کیا فرمائیں گے؟ یہی نا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات جو کتبِ سابقہ میں مذکور تھیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر منطبق کرنے کے بعد ہر شخص کو فوراً یقین آجاتا تھا کہ آپ وہی نبی آخر الزمان ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جو صفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کی ہیں ان کو سامنے رکھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت کی تعیین میں کسی کو ادنیٰ سا شبہ بھی نہیں ہوسکتا۔ ہاں! کوئی شخص ان ارشاداتِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ناواقف ہو یا کج فطری کی بنا پر ان کے چسپاں کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو، یا محض ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس سے پہلوتہی کرے تو اس کا مرض لاعلاج ہے۔

دوم:۔ بعض قرائن ایسے ہوا کرتے ہیں کہ ان کی موجودگی میں آدمی یقین لانے پر مجبور ہوجاتا ہے اور اسے مزید دلیل کی احتیاج نہیں رہ جاتی، مثلاً آپ دیکھتے ہیں کہ کسی مکان کے سامنے محلے بھر کے لوگ جمع ہیں، پورا مجمع افسردہ ہے، گھر کے اندر کہرام مچا ہوا ہے، درزی کفن بنا رہا ہے، کچھ لوگ پانی گرم کر رہے ہیں، کچھ قبر کھودنے جارہے ہیں، اس منظر کو دیکھنے کے بعد آپ کو یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں رہے گی کہ کیا یہاں کسی کا انتقال ہوگیا ہے؟ اور اگر آپ کو یہ بھی معلوم ہو کہ فلاں صاحب کافی مدّت سے صاحبِ فراش تھے اور ان کی حالت نازک تر تھی تو آپ کو یہ منظر دیکھ کر فوراً یقین آجائے گا کہ ان صاحب کا انتقال ہوگیا ہے۔

سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کی خاص کیفیت، خاص وقت، خاص ماحول اور خاص حالات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے، جب وہ پورا نقشہ اور سارا منظر سامنے آئے گا تو کسی کو یہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ یہ واقعی عیسیٰ علیہ السلام ہیں یا نہیں؟

تصور کیجئے۔۔۔! حضرت مہدی عیسائیوں کے خلاف مصروفِ جہاد ہیں، اتنے میں اطلاع آتی ہے کہ دجال نکل آیا ہے، آپ اپنے لشکر سمیت بہ عجلت بیت المقدس کی طرف لوٹتے ہیں، اور دجال کے مقابلے میں صف آرا ہوجاتے ہیں، دجال کی فوجیں اسلامی لشکر کا محاصرہ کرلیتی ہیں، مسلمان انتہائی تنگی اور سراسیمگی کی حالت میں محصور ہیں، اتنے میں سحر کے وقت ایک آواز آتی ہے: ’’قَدْ أَتَاكُمُ الْغَوْثُ!‘‘(تمہارے پاس مددگار آپہنچا!)، اپنی زبوںحالی کو دیکھ کر ایک شخص کے منہ سے بے ساختہ نکل جاتا ہے کہ: ’’یہ کسی پیٹ بھرے کی آواز معلوم ہوتی ہے‘‘ پھر اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے سفید منارہ کے پاس نزول فرماتے ہیں اور عین اس وقت لشکر میں پہنچتے ہیں جبکہ صبح کی اِقامت ہوچکی ہے اور اِمام مصلیٰ پر جاچکا ہے، وغیرہ وغیرہ۔(۲۲)

یہ تمام کوائف جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں جب وہ ایک ایک کرکے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آئیں گے تو کون ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شناخت سے محروم رہ جائے گا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی صفات و علامات، ان کا حلیہ اور ناک نقشہ، ان کے زمانۂ نزول کے سیاسی حالات اور ان کے کارناموں کی جزئیات اس قدر تفصیل سے بیان فرمائی ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ جب یہ پورا نقشہ لوگوں کے سامنے آئے گا تو ایک لمحے کے لئے کسی کو ان کی شناخت میں تردّد نہیں ہوگا۔ چنانچہ کسی کمزور سے کمزور روایت میں بھی یہ نہیں آتا کہ ان کی تشریف آوری پر لوگوں کو ان کے پہچاننے میں دِقت پیش آئے گی، یا یہ کہ ان کے بارے میں لوگوں میں اختلاف ہوجائے گا، کوئی ان کو مانے گا اور کوئی نہیں مانے گا، اس کے برعکس یہ آتا ہے کہ مسلمان تو مسلمان، دجال کے لشکر سے نمٹنے کے بعد غیرمذاہب کے لوگ بھی سب کے سب مسلمان ہوجائیں گے اور دُنیا پر صرف اسلام کی حکمرانی ہوگی۔(۲۳)

یہ بھی عرض کردینا مناسب ہوگا کہ گزشتہ صدیوں سے لے کر اس رواں صدی تک بہت سے لوگوں نے مسیحیت کے دعوے کئے اور بہت سے لوگ اصل و نقل کے درمیان تمیز نہ کرسکے، اور ناواقفی کی بنا پر ان کے گرویدہ ہوگئے، لیکن چونکہ وہ واقعتا ’’مسیح‘‘ نہیں تھے، اس لئے وہ دُنیا کو اسلام پر جمع کرنے کے بجائے مسلمانوں کو کافر بناکر اور ان کے درمیان اختلاف و تفرقہ ڈال کر چلتے بنے۔ ان کے آنے سے نہ فتنہ و فساد میں کمی ہوئی، نہ کفر و فسق کی ترقی رُک سکی، آج زمانے کے حالات ببانگِ دہل اعلان کر رہے ہیں کہ وہ اس تاریک ماحول میں اتنی روشنی بھی نہ کرسکے جتنی کہ رات کی تاریکی میں جگنو روشنی کرتا ہے۔ وہ یہ سمجھے کہ ان کی من مانی تأویلات کے ذریعے ان کی مسیحیت کا سکہ چل نکلے گا، لیکن افسوس کہ ان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمودہ علامات اتنی بھی چسپاں نہ ہوئیں جتنی کہ ماش کے دانے پر سفیدی، کسی کو اس میں شک ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد فرمودہ نقشے کو سامنے رکھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ارشاد فرمودہ ایک ایک علامت کو ان مدعیوں پر چسپاں کرکے دیکھے، اُونٹ سوئی کے ناکے سے گزرسکتا ہے مگر ان مدعیوں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفات و علامات منطبق نہیں ہوسکتیں۔ کاش! ان لوگوں نے بزرگوں کی یہ نصیحت یاد رکھی ہوتی:

بصاحب نظرے بنما گوہر خود را

عیسیٰ نتواں گشت بہ تصدیق خرے چند

ﵟ وَإِنَّهُۥ لَعِلۡمٞ لِّلسَّاعَةِ ﵞ أی اٰیۃ للساعۃ خروج عیسَی بن مریم قبل یوم القیامۃ، وھٰكذا روی عن أبی ھریرۃ وابن عباس وأبی العالیۃ وأبی مالك وعکرمۃ والحسن وقتادۃ والضحاك وغیرھم، وقد تواترت الأحادیث عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أنہ أخبر بنزول عیسٰی علیہ السلام قبل یوم القیامۃ اِمامًا عادلًا وحكمًا مقسطًا۔‘‘ (ابنِ کثیر ج:۴ ص:۱۳۲ طبع قدیم، ج:۵ ص:۵۳۰ طبع مکتبہ رشیدیہ)

  1. (۱) ﵟ وَإِنَّهُۥ لَعِلۡمٞ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِهَا وَٱتَّبِعُونِۚ ﵞ الزخرف ٦١ ۔۔۔ الخ‘‘
  2. (۲) ابنِ کثیرؒ کی عبارت یہ ہے:
  3. (۳) عن ابی اُمامۃ الباھلی قال: خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ وجلّھم ببیت المقدس وامامھم رجل صالح فبینما امامھم قد تقدم یصلی بھم الصبح اذ نزل علیھم عیسَی بن مریم الصبح فرجع ذٰلك الْإمام ینكص یمشی القھقری لیقدم عیسٰی یصلی فیضع عیسٰی یدہ بین کتفیہ ثم یقول لہ: تقدم فصلّ لنا فانھا لك اقیمت فیصلی بھم امامھم فاذا انصرف قال عیسٰی علیہ السلام: افتحوا الباب! فیفتح ورائہ الدَّجال ۔۔۔ فاذا نظر الیہ الدجال ذاب كما یذوب الملح فی الماء وینطلق ھاربًا ویقول عیسٰی علیہ السلام: ان لی فیك ضربۃ لن تسبقنی بھا، فیدرکہ عند باب اللُّد الشرقی فیقتلہ ۔۔۔الخ۔ (سنن ابن ماجۃ ص:۲۹۸، طبع نور محمد کراچی)۔
  4. (۴) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ وینزل عیسَی ابن مریم فیؤمّھم فاذا رفع من الرکوع قال: سمع اللہ لمن حمدہ قتل اللہ الدجال ۔۔۔الخ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص: ۱۷۷)۔
  5. (۵) عن عثمان بن أبی العاص رضی اللہ عنہ ۔۔۔ وینزل عیسَی ابن مریم علیہ السلام عند صلاۃ الفجر فیقول لھم أمیرھم: یا رُوح اللہ! تقدّم صلّ، فیقول: ھٰذہ الاُمّۃ أمراء بعضھم علٰی بعض، فیتقدم أمیرھم فیصلی فاذا قضی صلاتہ أخذ حربتہ فیذھب نحو الدَّجَّال فاذا رآہ الدَّجَّال ذاب كما یذوب الرصاص۔۔۔الخ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۶۴)۔
  6. (۶) ایضاً حاشیہ نمبر۱۔
  7. (۷) حوالہ بالا
  8. (۸) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ فلو ترکہ لَانذاب حتّٰی یھلك ولٰـكن یقتلہ اللہ بیدہ فیریھم دمہ فی حربتہ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۳۲)۔
  9. (۹) ۔۔۔ ویدعو الناس الی الْإسلام فیھلك اللہ فی زمانہ المِلَل كلھا إلّا الْإسلام ۔۔۔الخ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۹۶)۔ وفیہ أیضًا: ویظھر المسلمون، فیكسرون الصلیب ویقتلون الخنزیر۔ (التصریح ص: ۲۰۳)۔
  10. (۱۰) عن أبی اُمامۃ الباھلی قال: خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ یدق الصَّلیب ویذبح الخنزیر ویضع الجزیۃ ویترك الصّدقۃ فلا یسعٰی علٰی شاۃ ولَا بعیر وترفع الشحناء والتباغض وتنزع حمۃ كل ذات حمۃ حتّٰی یدخل الولید یدہ فیء الحیّۃ فلا تضرہ وتفر الولیدۃ الأسد فلا یضرھا ویکون الذئب فی الغنم کانہ كلبھا وتملأ الأرض من السلم فما یملأ الْإناء من الماء وتکون الكلمۃ واحدۃ فلا یعبد إلّا اللہ ۔۔۔الخ۔ (سنن ابن ماجۃ ص:۲۹۸)۔
  11. (۱۱) ثم یرجع الناس الٰی بلادھم وأوطانھم قال فعند ذٰلك یخرج یأجوج ومأجوج وھم من كل حدب ینسلون فیطأون بلادھم لَا یأتون علٰی شیء الّا أھلکوہ ولَا یمرّون علٰی ماء اِلّا شربوہ ثم یرجع الناس الیّ فیکشونھم فأدعو اللہ علیھم فیھلکھم اللہ تعالٰی ویمیتھم حتّٰی تجری الأرض من نتن ریحھم، قال فینزل اللہ عزّ وجلّ المطر فیجرف أجسادھم حتّٰی یقذفھم فی البحر۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۵۹)۔
  12. (۱۲) عن النواس بن سمعان ۔۔۔ فبینما ھو كذٰلك اذا أوحی اللہ الٰی عیسٰی ان قد خرجت عبادًا لی لَا یدان لأحد بقتالھم فحرّز عبادی الی الطور ۔۔۔ ویحصر نبی اللہ وأصحابہ حتّٰی یکون رأس الثور لأحدھم خیرًا من مائۃ دینار لأحدكم الیوم فیرغب نبی اللہ عیسٰی وأصحابہ ۔۔۔الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۳، ۴۷۴، باب العلامات بین یدی الساعۃ)۔
  13. (۱۳) ۔۔۔ فیرسل اللہ طیرًا کأعناق البخت فتحملھم فتطرحھم حیث شاء اللہ ۔۔۔إلخ۔ (مشكٰوۃ ص:۴۷۴)۔
  14. (۱۴) ثم یرجع الناس الٰی بلادھم وأوطانھم قال فعند ذٰلك یخرج یأجوج ومأجوج وھم من كل حدب ینسلون فیطأون بلادھم لَا یأتون علٰی شیء الّا أھلکوہ ولَا یمرّون علٰی ماء اِلّا شربوہ ثم یرجع الناس الیّ فیکشونھم فأدعو اللہ علیھم فیھلکھم اللہ تعالٰی ویمیتھم حتّٰی تجری الأرض من نتن ریحھم، قال فینزل اللہ عزّ وجلّ المطر فیجرف أجسادھم حتّٰی یقذفھم فی البحر۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۵۹)۔
  15. (۱۵) روی أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لوَفْد جذام: مرحبًا بقوم شعیب وأصھار موسٰی، ولَا تقوم الساعۃ حتّٰی یتزوج فیكم المسیح ویولد لہ۔ ذکرہ المقرینی فی الخطط۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۲۹۳)۔
  16. (۱۶) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: والذی نفسی بیدہ! لیھلّنّ ابن مریم بفجّ الروحاء حاجًّا أو معتمرًا أو لثنّینّھما۔ ص:۱۰۰، وأخرجہ الحاكم وصحّحہ كما فی الدر المنثور ولفظہ: ۔۔۔ ولیسلكنّ فجّا حاجًّا أو معتمرًا ولیأتینّ قبری حتّٰی یسلّم علیّ ولأردّنّ علیہ ۔۔۔الخ۔ ص:۱۰۲ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح)۔
  17. (۱۷) أیضا
  18. (۱۸) عن عبداللہ بن عمرو قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ ثم یموت فیدفن معی فی قبری، فأقوم أنا وعیسَی بن مریم فی قبر واحد بین أبی بکر وعمر۔ (مشکوٰۃ ص:۴۸۰، طبع قدیمی)۔
  19. (۱۹) عن أبی ھریرۃ قال ۔۔۔ فیستخلفون بأمر عیسٰی رجلًا من بنی تمیم یقال لہ: المقعد، فاذا مات المقعد لم یأت علی الناس ثلاث سنین حتّٰی یرفع القرآن من صدور الرِّجال ومصاحفھم۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۲۳۲)۔
  20. (۲۰) عن عبداللہ بن عمرو ۔۔۔ انّ اوّل الآیات خروجًا طلوع الشمس من مغربھا وخروج الدابۃ علی الناس ۔۔۔الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۲)۔ عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تخرج دابۃ الأرض ومعھا عصٰی موسٰی وخاتم سلیمان علیھما السلام فتخطم أنف الکافر بالعصا وتجلی وجہ المؤمن بالخاتم حتّٰی یجتمع الناس علٰی الخُوان یعرف المؤمن من الکافر۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۴ ص:۶۸۴، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
  21. (۲۱) ﵟ ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَعۡرِفُونَهُۥ كَمَا يَعۡرِفُونَ أَبۡنَآءَهُمۡۖ ﵞ البقرة ١٤٦۔
  22. (۲۲) عن عثمان بن أبی العاص ۔۔۔ فبینما ھم كذٰلك اذ نادیٰ مناد من السحر یا أیھا الناس! أتاكم الغوث، ثلاثًا، فیقول بعضھم لبعض: انّ ھٰذا لصوت رجل شبعان، وینزل عیسَی ابن مریم علیہ السلام عند صلاۃ الفجر ۔۔۔الخ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۶۴، طبع دارالعلوم کراچی)۔
  23. (۲۳) ویھلك اللہ فی زمانہ المِلَل كلھا إلّا الْإسلام ۔۔۔الخ۔ (ابوداوٗد، کتاب الملاحم، ج:۲ ص:۲۳۸، مسند احمد ج:۲ ص:۴۰۶، طبع بیروت)۔