بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیرمسلم‌سے‌تعلقات

اہلِ‌کتاب‌ذمی‌کا‌حکم

سوال:۔

(سوال حذف کردیا گیا)۔

جواب:۔

جو غیرمسلم حضرات کسی اسلامی مملکت میں رہتے ہوں وہ خواہ اہلِ کتاب ہوں یا غیر اہلِ کتاب، انہیں ’’ذمی‘‘ کہا جاتا ہے۔ ’’ذمہ‘‘ عہد کو کہتے ہیں، چونکہ اسلامی حکومت کا ان سے عہد ہے کہ ان کی جان و مال اور عزّت و آبرو کی حفاظت کی جائے گی، اس لئے وہ ’’ذمی‘‘ یا ’’معاہد‘‘ کہلاتے ہیں۔(۱) تمام اہلِ ذمہ کے حقوق یکساں ہیں مگر اہلِ کتاب کو دو خصوصیتیں حاصل ہیں: ایک یہ کہ ان کا ذبیحہ مسلمان کے لئے حلال ہے، اور دُوسری یہ کہ اہلِ کتاب کی عورتوں سے مسلمان کا رشتہ ازدواج جائز ہے۔(۲) غیراہلِ کتاب کا نہ ذبیحہ حلال ہے،(۳) نہ ان کی عورتوں سے نکاح حلال ہے۔(۴)

  1. (۱) الذمی ھو المعاھد من الکفار، لأنہ أُومن علٰی مالہ ودمہ ودینہ بالجزیۃ۔ (قواعد الفقہ ص:۳۰۰)۔
  2. (۲) ﵟ وَطَعَامُ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ حِلّٞ لَّكُمۡ ﵞ ۔۔۔ (یعنی ذبائحھم) ۔۔۔ ﵟ وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ ﵞ ۔۔۔ الخ۔‘‘ (المائدۃ:۵، تفسیر ابنِ کثیر ج:۲ ص:۴۷۸، طبع رشیدیہ)۔
  3. (۳) وأیضًا ولَا تحل ذبیحۃ غیر کتابی ۔۔۔الخ۔ (فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۲۹۸، طبع ایچ ایم سعید)۔ ومنھا: ان یکون مسلمًا او کتابیًّا فلا تؤكل ذبیحۃ اھل الشرك والمرتد۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۲۸۵، طبع بلوچستان)
  4. (۴) وحرم نکاح الوثنیۃ بالْإجماع (وفی الشامیۃ) ویدخل فی عبدۃ الأوثان عبدۃ الشمس والنجوم والصور التی استحسنوھا والمعطلۃ والزنادقۃ والباطنیۃ والْإباحیۃ، وفی شرح الوجیز وكل مذھب یکفر بہ معتقدہ۔ (ردّ المحتار ج:۳ ص:۴۵)۔