بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیرمسلم‌سے‌تعلقات

جہنم‌کے‌خواہش‌مند‌شخص‌سے‌تعلق‌نہ‌رکھیں

سوال:۔

ہمارے دفتر کے ایک ساتھی نے باتوں باتوں میں کہا کہ: ’’جہنم بڑی مزیدار جگہ ہے، وہاں بوٹیاں بھون کر کھائیں گے‘‘ ہم سب نے کہا کہ یہ کلمۂ کفر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام پیغمبر اس لئے بھیجے کہ مسلمانوں کو جہنم سے بچایا جائے، کیونکہ احادیث کی رُو سے جہنم بہت بُرا ٹھکانا ہے، جس کا تصوّر بھی محال ہے۔ اس طرح کے جملے سے اللہ اور رسولوں کی نفی ہوتی ہے جو کہ کفر کے مترادف ہے، لیکن موصوف کہنے لگے کہ: ’’مجھے تو وہیں (جہنم) جانا ہے، اس لئے پسند ہے ‘‘ ہم نے کہا کہ: مسلمان تو ایسی بات مذاق میں بھی نہیں کرسکتا، انتہائی گناہگار بھی اللہ سے رحمت کی اُمید رکھتا ہے، تمہیں ایسے کلمات کہنے پر اللہ سے معافی مانگنی چاہئے اور توبہ و اِستغفار کرنا چاہئے۔ ہم جب بھی ان سے یہ کہتے ہیں تو وہ ہنس کر کہتا ہے کہ: ’’میں نے تو وہیں جانا ہے (جہنم میں)‘‘ یہ بات ہوئے کافی دن ہوگئے اور ہم سب کے بار بار کہنے کے باوجود وہ ٹس سے مس نہیں ہوتا، حالانکہ اسے بہت پیار سے، آرام سے، تمام قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ دیا، لیکن وہ ہنس کر ٹال دیتا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ہمارا ایسے شخص سے کیسا برتاؤ ہونا چاہئے؟ مسلم والا یا غیرمسلم والا؟ یعنی اسلامی طریقے سے سلام کرنا، جواب دینا۔

جواب:۔

کسی مسلمان کے لئے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہو، ایسی باتیں کہنے کی گنجائش نہیں،(۱) آپ اس شخص سے کوئی تعلق نہ رکھیں، نہ سلام، نہ دُعا، نہ اس موضوع پر اس سے کوئی بات کریں۔

  1. (۱) وفی الفتاوی الخلاصۃ: ولو قال: باتو در دوزخ روم لیكن اندر نیایم! کفر۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ج:۵ ص:۳۴۱)۔