غیرمسلمسےتعلقات
غیرمسلمکےمرنےپر’’اِنَّاللّٰہِوَاِنَّآاِلَیْہِرَاجِعُوْنَ‘‘پڑھنا
سوال:۔
جس طرح انسان مسلمان کے مرنے پر ’’اِنَّا للّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘ دُعائیہ کلمات پڑھتے ہیں، کیا دُعائیہ کلمات غیرمسلم کے مرنے پر پڑھ سکتا ہے؟ کوئی شخص یہ کہے کہ: ’’یہ دُعا ہر شخص کے لئے پڑھی جاسکتی ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا غیرمسلم، کوئی یہ کہے کہ میں اس چیز کو نہیں مانتا کہ یہ دُعا صرف مسلم کے لئے ہی پڑھی جائے‘‘ اس کے ایمان کی کیا حالت ہوگی؟ اس کا جواب حدیث کی رُو سے یعنی حدیث کے تحت دیا جائے۔
جواب:۔
میرے علم میں نہیں کہ کسی کافر کی موت پر ’’اِنَّا للّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘ پڑھی گئی ہو، قرآنِ کریم میں اس دُعا کا پڑھنا مصیبت کے وقت بتایا گیا ہے،(۱) اگر کوئی شخص کسی غیرمسلم کے مرنے کو بھی اپنے حق میں مصیبت سمجھتا ہے تب تو واقعی اس دُعا کو پڑھے، مگر حدیث شریف میں تو یہ ہے کہ فاجر کے مرنے سے اللہ کی زمین اور اللہ کے بندے راحت پاتے ہیں۔(۲)
- (۱) قال تعالٰی: ﵟ ٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَٰبَتۡهُم مُّصِيبَةٞ قَالُوٓاْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيۡهِ رَٰجِعُونَ ١٥٦ ﵞ البقرة ١٥٦۔
- (۲) عن ابی قتادۃ أنہ کان یحدث ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرّ علیہ بجنازۃ فقال: مستریح أو مستراح منہ، فقالوا: یا رسول اللہ! مال المستریح والمستراح منہ؟ فقال: العبد المؤمن یستریح من نصب وأذاھا إلٰی رحمۃ اللہ، والعبد الفاجر یستریح منہ العباد والبلاد والشجر والدواب۔ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۱۳۹، باب تمنی الموت)۔

