بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیرمسلم‌سے‌تعلقات

غیرمسلم‌کی‌میّت‌پر‌تلاوت‌اور‌دُعا‌و‌اِستغفار‌کرنا‌گناہ‌ہے

سوال:۔

آج دبئی کے ٹی وی اسٹیشن پر اسپیشل پروگرام اندراگاندھی کی آخری رُسومات دِکھائی جارہی تھیں تو ایک بات جو زیرِ غور آئی وہ یہ کہ سورۂ فاتحہ کی تلاوت سنی گئی، ہم چونک گئے کہ وہاں پر ہندوؤں کی کتاب گیتا پڑھی جارہی تھی اور دُوسری طرف تلاوتِ قرآنِ کریم پڑھی جارہی تھی، اور سامنے چتا جل رہی تھی، لہٰذا ہم آپ سے یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مطلع فرمائیں کہ غیرمذہب کی میّت پر قرآنِ کریم کی آیات پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:۔

غیرمسلم کے لئے نہ دُعا و اِستغفار ہے، نہ ایصالِ ثواب کی گنجائش،(۱) بلکہ جان بوجھ کر پڑھنے والا گناہگار ہوگا۔

  1. (۱) ﵟ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن يَسۡتَغۡفِرُواْ لِلۡمُشۡرِكِينَ وَلَوۡ كَانُوٓاْ أُوْلِي قُرۡبَىٰ ﵞ التوبة ١١٣ ۔۔۔ الآیۃ۔۔ ﵟ وَمَا كَانَ ٱسۡتِغۡفَارُ إِبۡرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوۡعِدَةٖ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥٓ أَنَّهُۥ عَدُوّٞ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنۡهُۚ ﵞ التوبة ١١٤۔۔۔إلخ ۔ والحق حرمۃ الدعاء بالمغفرۃ للکافر ۔۔۔إلخ۔ (درمختار ج:۱ ص:۵۲۲، ۵۲۳)۔