بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیرمسلم‌سے‌تعلقات

نرگس‌اداکارہ‌کے‌مرتد‌ہونے‌سے‌اس‌کی‌نماز‌جنازہ‌جائز‌نہیں‌تھی

سوال:۔

سوال یہ ہے کہ کیا ایک مسلمان جو بعد میں کافر ہوجائے اور اسی حالت میں مرجائے تو اس کا جنازہ ہوتا ہے یا نہیں؟ اس کی تازہ مثال ابھی حال ہی میں بھارت میں ہوئی، جس کا اخباروں میں بہت چرچا ہوا ہے۔ بھارت کی مشہور فلمی ایکٹریس نرگس جو پہلے مسلمان تھی اور شادی ایک ہندو کے ساتھ کرلی اور شادی کے ساتھ ہی اس نے مذہب بھی بدل دیا اور ہندو مذہب کا نام نرملا رکھا، اور باقاعدہ پوجا پاٹ ادا کرتی تھی اور اسی حالت میں مرگئی، اور اس کی باقاعدہ نمازِ جنازہ ادا کرکے دفن کیا گیا اور ہندوؤں نے اس کی چتا بنائی اور اپنی پوری پوری رُسوم ادا کی ہیں۔ آپ خود سوچیں کہ اس کی نمازِ جنازہ کیسے اور کس طریقے سے ادا ہوسکتی تھی؟ اور کیا یہ اسلام کے ساتھ ایک مذاق نہیں ہے جس کو ان لوگوں نے اداکاری سمجھا ہوا ہے؟ آپ خدا کے لئے اس کا جواب دیں، کیونکہ ہم پاکستانیوں پر اس خبر کا گہرا اثر ہوا ہے اور ہم آپ کے جواب کا انتظار کریں گے۔

جواب:۔

غیرمسلم کا جنازہ جائز نہیں،(۱) اور مرتد تو شرعاً واجب القتل ہے،(۲) اس کا جنازہ کیسے جائز ہوگا؟ آپ نے صحیح لکھا ہے کہ جن لوگوں نے نرگس مرتدہ کا جنازہ پڑھا، انہوں نے اسلام کا مذاق اڑایا ہے، استغفر اللہ!

  1. (۱) ﵟ وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰٓ أَحَدٖ مِّنۡهُم مَّاتَ أَبَدٗا وَلَا تَقُمۡ عَلَىٰ قَبۡرِهِۦٓۖ ﵞ التوبة ٨٤۔ أیضًا أمر اللہ تعالٰی رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم أن یبرأ من المنافقین، وألّا یصلی علٰی أحد منھم اذا مات، وألّا یقوم علٰی قبرہ لیستغفر لہ أو یدعو لہ، لأنھم کفروا باللہ ورسولہ، وماتوا علیہ، وھٰذا حكم عام فی كل من عرف نفاقہ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۳ ص:۴۲۵، طبع کوئٹہ)۔ أیضًا: وشرطھا ستۃ: إسلام المیت وطھارتہ (قولہ وشرطھا) أی شرط صحتھا (قولہ إسلام المیت) أی ولو بطریق التبعیۃ لأحد أبویہ ۔۔۔إلخ۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج:۲ ص:۲۰۷، مطلب فی صلاۃ الجنازۃ)۔
  2. (۲) واذا ارتد المسلم عن الْإسلام والعیاذ باللہ! عرض علیہ الْإسلام، فان کانت لہ شبھۃ کشفت عنہ ۔۔۔ ویحبس ثلاثۃ أیام، فان أسلم، وإلّا قتل۔ وفی الجامع الصغیر: المرتد یعرض علیہ الْإسلام حرًّا کان أو عبدًا فان أبٰی قتل ۔۔۔الخ۔ (ہدایۃ ج:۲ ص:۶۰۰)۔