بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیرمسلم‌سے‌تعلقات

غیرمسلم‌اُستاد‌کو‌سلام‌کہنا

سوال:۔

اگر اُستاد ہندو ہو تو کیا اس کو السلام علیکم کہنا چاہئے یا نہیں؟

سوال:۔

مباح علوم میں غیرمسلم اساتذہ کی شاگردی کرنی پڑتی ہے، وہ اس علم میں اور عمر میں بڑے ہوتے ہیں اور جیسا کہ رسمِ دُنیا ہے، شاگرد ہی سلام میں پیش قدمی کرتا ہے، تو ان کو کس طرح سلام کے قسم کی چیز سے مخاطب کرے؟ مثلاً: ہندوؤں کو ’’نمستے‘‘، یا عیسائیوں کو ’’گڈمارننگ‘‘ کہے یا کچھ نہ کہے اور کام کی بات شروع کردے۔ راہ چلتے ملاقات ہونے پر بغیر سلام دُعا کے پاس سے گزر جائے؟

جواب:۔

غیرمسلموں کو سلام نہیں کیا جاسکتا۔(۱)

جواب:۔

غیرمسلم کو سلام میں پہل تو نہیں کرنی چاہئے، البتہ اگر وہ پہل کرے تو صرف ’’وعلیک‘‘ کہہ دینا چاہئے،(۲) لیکن اگر کبھی ایسا موقع پیش آجائے تو سلام کے بجائے صرف اس کی عافیت اور خیریت دریافت کرتے ہوئے یوں کہہ دیا جائے: ’’آپ کیسے ہیں؟‘‘ ’’آئیے، آئیے! مزاج تو اچھے ہیں‘‘، ’’خیریت تو ہے‘‘ وغیرہ، سے اس کی دِل جوئی کرلی جائے۔

  1. (۱) وفی شرح البخاری للعینی فی حدیث: ’’أی الْإسلام خیر؟ ۔۔۔ قال: تقرأ السلام علٰی من عرفت ومن لم تعرف‘‘ قال: وھٰذا التعمیم مخصوص بالمسلمین، فلا یسلم ابتداءً علٰی کافر۔ (درمختار ج:۶ ص:۴۱۲، طبع ایچ ایم سعید)۔
  2. (۲) فلا یسلم ابتداءً علٰی کافر لحدیث: ’’لَا تبدؤا الیھود ولَا النصاریٰ بالسّلام ۔۔۔‘‘ ولو سلّم یھودی ۔۔۔ علٰی مسلم فلا بأس بالردّ ولٰـكن لَا یزید علٰی قولہ: ’’وعلیك‘‘۔ (الدر المختار ج:۶ ص:۴۱۲)۔