بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیرمسلم‌سے‌تعلقات

غیرمسلم‌اور‌کلیدی‌عہدے

سوال:۔

ایک گروہ کہتا ہے کہ: ’’کافر کو کافر نہ کہو‘‘ کیا ان کا یہ قول دُرست ہے؟

سوال:۔

کیا اسلامی مملکت میں کفار و مرتدینِ اسلام کو کلیدی عہدے دئیے جاسکتے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہو تو یہ بتائیے کہ ان لوگوں کے اسلامی مملکت میں کلیدی عہدوں پر فائز ہونے کی صورت میں اس اسلامی مملکت پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں؟

جواب:۔

قرآنِ کریم نے تو کافروں کو کافر کہا ہے!(۱)

جواب:۔

غیرمسلموں کو اسلامی مملکت میں کلیدی عہدوں پر فائز کرنا بنصِ قرآن ممنوع ہے۔(۲)

نیز تفصیل کے لئے دیکھیں: جواہر الفقہ ج:۲ ص:۱۹۵ طبع مکتبۃ دارالعلوم کراچی۔

  1. (۱) ﵟ قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ ١ ﵞ الكافرون ١۔
  2. (۲) ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلنَّصَٰرَىٰٓ أَوۡلِيَآءَۘ ﵞ المائدة ٥١۔ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ بِطَانَةٗ مِّن دُونِكُمۡ ﵞ ۔۔۔الخ۔ وفی ھٰذہ الآیۃ دلَالۃ علٰی انہ لَا تجوز الْإستعانۃ بأھل الذمۃ فی اُمور المسلمین من العمالَات والکتبۃ۔ (احکام القرآن للجصاص ج:۲ ص:۳۷)۔