بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیرمسلم‌سے‌تعلقات

بتوں‌کی‌نذر‌کا‌کھانا‌حرام‌ہے

سوال:۔

ہندوؤں کے تہواروں پر ’’پرشاد‘‘ نام کی خوراک تقسیم کی جاتی ہے، جس میں پھل اور پکے پکائے کھانے بھی ہوتے ہیں، اور یہ خوراک مختلف بتوں کی نذر کرکے تقسیم کی جاتی ہے، اس کو بعض مسلمان بھی کھاتے ہیں۔ ازراہ کرم! بتائیے کہ یہ مسلمانوں کے لئے مطلق حرام ہے یا جائز ہے؟

جواب:۔

بتوں کے نام کی نذر کی ہوئی چیز شرعاً حرام ہے، کسی مسلمان کو اس کا کھانا جائز نہیں۔(۱)

پس نذر کردن برائے اولیاء جائز نیست کہ نذر عبادت است۔ (ارشاد الطالبین از قاضی ثناء اللہ پانی پتی ص:۱۸)۔

  1. (۱) ﵟ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةَ ٠٠٠ وَمَآ أُهِلَّ بِهِۦ لِغَيۡرِ ٱللَّهِۖ ﵞ البقرة ١٧٣ ۔۔۔ ۔ وكذٰلك حرم علیھم ما أھل بہ لغیر اللہ وھو ما ذبح علٰی غیر اسمہ تعالیٰ من الأنصاب والأنداد والأزلَام ونحو ذٰلك مما کانت الجاھلیۃ ینحرون لہ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۱ ص:۴۲۱)۔