بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیرمسلم‌سے‌تعلقات

مرتدوں‌کو‌مساجد‌سے‌نکالنے‌کا‌حکم

سوال:۔

اگر کوئی قادیانی، ہماری مسجد میں آکر الگ ایک کونے میں جماعت سے الگ نماز پڑھ لے، کیا ہم اس کو اس کی اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ ہماری مسجد میں اپنی مرضی سے نماز پڑھے؟

جواب:۔

کسی غیرمسلم کا ہماری اجازت سے ہماری مسجد میں اپنی عبادت کرنا صحیح ہے۔ نصاریٰ نجران کا جو وفد بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوا تھا، انہوں نے مسجدِ نبوی (عَلٰى صَاحِبِهٖ أَلْفُ أَلْفِ صَلَوٰةٍ وَسَلَامٍ) میں اپنی عبادت کی تھی۔ یہ حکم تو غیرمسلموں کا ہے۔(۱) لیکن جو شخص اسلام سے مرتد ہوگیا ہو، اس کو کسی حال میں مسجد میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اسی طرح جو مرتد اور زِندیق اپنے کفر کو اِسلام کہتے ہوں (جیسا کہ قادیانی، مرزائی) ان کو بھی مسجد میں آنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔(۲)

  1. (۱) قال ابن اسحاق: وفد علٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفد نصاریٰ نجران بالمدینۃ ۔۔۔ قال: لما قدم وفد نجران علٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دخلوا علیہ مسجدہ بعد صلاۃ العصر، فحانت صلاتھم فقاموا یصلون فی مسجدہ، فأراد الناس منعھم، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’دعوھم‘‘ فاستقبلوا المشرق فصلوا صلاتھم۔ (زاد المعاد فی ہدی خیر العباد ج:۳ ص:۶۲۹، طبع مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)۔ فصل فی فقہ ھٰذہ القصۃ ففیھا جواز دخول أھل الکتاب مساجد المسلمین وفیھا: تمکین أھل الکتاب من صلاتھم بحضرۃ المسلمین وفی مساجدھم أیضًا اذا کان عارضًا ولَا یمکنون من اعتبار ذٰلك۔ (زاد المعاد ج:۳ ص:۶۳۸، طبع بیروت)۔
  2. (۲) ﵟ إِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَسٞ ﵞ ۔۔۔‘‘ فمنع اللہ المشرکین من دخول المسجد الحرام نصًّا، ومنع دخولہ سائر المساجد تعلیـلًا بالنجاسۃ بوجوب صیانۃ المسجد من كل نجس وھٰذا كلہ ظاھر لَا خفاء فیہ۔ (اَحکام القرآن لمفتی محمد شفیع ج:۲ ص:۹۰۲)۔ أیضًا الکفر من المرتد اغلظ من کفر مشرکی العرب۔ (الأشباہ والنظائر مع شرحہ للحموی ج:۲ ص:۲۴۹) والمرتد أقبح کفرًا من الکافر الأصلی۔ (أیضًا ج:۱ ص:۲۹۱، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔