بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیرمسلم‌سے‌تعلقات

غیرمسلموں‌کے‌مندر‌یا‌گرجا‌کی‌تعمیر‌میں‌مدد‌کرنا

سوال:۔

اسلام میں اس چیز کی گنجائش ہے کہ مسلمان حضرات اقلیتوں کو گرجا یا مندر وغیرہ بنانے میں مدد دیں، اور اس قسم کی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں؟ اس کو غیرمتعصبانہ رویہ اور اقلیتوں سے تعلقات بہتر بنانے کا نام دیا جائے، گو کہ اسلام میں غیرمسلموں کو مذہبی آزادی حاصل ہے، لیکن ان کی حوصلہ افزائی کرنا کہاں تک ٹھیک ہے؟

جواب:۔

اسلامی مملکت میں غیرمسلموں کو مذہبی آزادی ہے، مگر اس کی بھی حدود ہیں، جن کی تفصیلات فقہ کی کتابوں میں درج ہیں۔(۱) خلاصہ یہ ہے کہ غیرمسلموں کی مذہبی آزادی مسلمانوں کی مذہبی بے عزتی کی حد تک نہیں پہنچنی چاہئے،(۲) اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایمان و عقل نصیب فرمائیں۔

  1. (۱) تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو:عالمگیری ج:۵ ص:۳۴۶، شامی ج:۴ ص:۲۰۲، ہدایۃ ج:۲ ص:۵۹۷، البحر الرائق ج:۵ ص:۱۲۱، البدائع الصنائع ج:۷ ص:۱۱۳، الأشباہ والنظائر مع شرحہ للحموی ج:۲ ص:۱۷۷۔
  2. (۲) ولَا یجوز احداث بِیعَۃ ولَا كنیسۃ فی دار الْإسلام لقولہ علیہ السلام لَا خِصَاءَ فی الْإسلام ولَا كنیسۃ والمراد إحداثھا وإن انھدمت البِیَع والكنائس القدیمۃ أعادوھا ۔۔۔ ولھٰذا فی الأمصار دون القریٰ لأن الأمصار ھی التی تقام فیھا الشعائر فلا تعارض بإظھار ما یخالفھا ۔۔۔الخ۔ (ہدایۃ ج:۲ ص:۵۹۷، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔