غیرمسلمسےتعلقات
غیرمسلمکیامداد
سوال:۔
ایک غیرمسلم کی مدد کرنا اسلام میں جائز ہے؟ میرے ساتھ کچھ (کرسچین) عیسائی مذہب کے لوگ کام کرتے ہیں، جو اکثر و بیشتر مجھ سے مالی امداد کا تقاضا کرتے ہیں، یہ امداد کبھی بطورِ قرض ہوتی ہے، کبھی وہ روپیہ لے کر واپس نہیں کرتے، ایسی صورت میں کیا واقعی مجھے مدد کرنا چاہئے؟
جواب:۔
غیرمسلم اگر مدد کا محتاج ہو اور اپنے اندر مدد کرنے کی سکت ہو تو ضرور کرنی چاہئے، حسن سلوک تو خواہ کسی کے ساتھ ہو اچھی بات ہے، البتہ جو کافر، مسلمانوں کے درپے آزار ہوں، ان کی اعانت و مدد کی اجازت نہیں۔(۱)
- (۱) ولَا بأس بأن یصل الرجل المسلم والمشرك قریبًا کان أو بعیدًا، محاربًا کان أو ذمیًّا وأراد بالمحارب المستأمن، وأما اذا کان غیر المستأمن فلا ینبغی للمسلم أن یصلہ بشیء كذا فی المحیط۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۴۷، طبع بلوچستان)۔

