غیرمسلمسےتعلقات
عیسائیکےہاتھکےدُھلےکپڑےاورجھوٹےبرتن
سوال:۔
میرے گھر میں ایک عیسائی عورت (جمعدارنی) کپڑے دھوتی ہے، یہ لوگ گندا کام نہیں کرتے، شوہر مل میں نوکر ہے اور بیوی لوگوں کے کپڑے دھوتی ہے، کیا اس کے دھوئے ہوئے کپڑوں کو میرے لئے دوبارہ پاک کرنا ہوگا یا وہ اس کے ہاتھوں کے قابلِ استعمال ہوں گے، جبکہ میں بفضلِ خدا پانچوں وقت کی نماز پڑھتی ہوں۔ اور کیا ان کے لئے علیحدہ برتن رکھنا چاہئے یا کہ انہیں برتنوں کو دھوکر استعمال کرنا صحیح ہے؟
جواب:۔
اگر کپڑوں کو تین بار دھوکر پاک کردیتی ہے تو اس کے دُھلے ہوئے کپڑے پاک ہیں،(۱) دوبارہ پاک کرنے کی ضرورت نہیں۔ غیرمسلم کے جھوٹے برتنوں کو دھوکر استعمال کرنا صحیح ہے۔(۲)
وقال محمد رحمہ اللہ تعالٰی: ویکرہ الأكل والشرب فی اوانی المشرکین قبل الغسل ومع ھٰذا لو أكل أو شرب فیھا قبل الغسل جاز ولَا یکون آكلًا ولَا شاربًا حرامًا وھٰذا اذا لم یعلم بنجاسۃ الأوانی ۔۔۔الخ۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۴۷)۔
- (۱) (الفصل الأوّل فی تطھیر الْانجاس) ما یطھر بہ النجس عشرۃ (منھا) الغسل یجوز تطھیر النجاسۃ بالماء وبكل مائع طاھر ۔۔۔ وازالتھا ان کانت مرئیۃ بازالۃ عینھا وأثرھا ان کانت شیئًا یزول أثرہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۴۱)۔
- (۲) عن أبی ثعلبۃ الخشنی انہ قال: یا رسول اللہ! أنا بأرض أھل کتابٍ فنطبخ فی قدورھم ونشرب فی آنیتھم، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان لم تجدوا غیرھا فارحضوھا بالماء ۔۔۔ (ترمذی ج:۲ ص:۲، باب ما جاء فی الأكل فی آنیۃ الکفار)۔

