بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیرمسلم‌سے‌تعلقات

شیعوں‌کے‌ساتھ‌دوستی‌کرنا‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

سنی مسلمان اور شیعہ میں مذہبی طور پر مکمل اختلاف ہے، یعنی پیدائش سے مرنے کے بعد تک تمام مسائل میں فرق واضح ہے۔ دونوں کے ایمانیات، اخلاقیات، ارکانِ دِینِ اسلام مختلف ہیں، تو شیعہ مسلک کے ساتھ دوستی رکھنا کیسا ہے؟ جو دوستی رکھتا ہے اس کے متعلق اسلام کیا کہتا ہے؟ ان کے ساتھ مسلمان کا نکاح ہوسکتا ہے؟ ان کی خوشی غمی میں شرکت مسلمان کی جائز ہے یا نہیں؟ ان کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا جائز ہے؟ ان کی خیرات چاول روٹی وغیرہ کھانا حلال ہے یا نہیں؟ مسلمان اپنی شادی میں ان کو دعوت دے یا نہیں؟ اگر شیعہ پڑوسی ہوں تو ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا جائے؟ کیا ان کی پکی ہوئی چیز استعمال کی جائے یا نہیں؟

جواب:۔

شیعوں کے ساتھ دوستی اور معاشرتی تعلقات جائز نہیں،(۱) اگر کہیں ان کی چیزیں کھانے کا موقع آجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ اطمینان ہو کہ وہ حرام یا ناپاک نہیں۔(۲)

  1. (۱) قال تعالٰی: ﵟ وَلَا تَرۡكَنُوٓاْ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ ﵞهود ١١٤،ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمۡ أَوۡلِيَآءَ تُلۡقُونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ وَقَدۡ كَفَرُواْ بِمَا جَآءَكُم مِّنَ ٱلۡحَقِّ ﵞ الممتحنة ١ ۔۔۔الخ‘‘۔
  2. (۲) ولَا بأس بطعام المجوس كلہ اِلّا الذبیحۃ فان ذبیحتھم حرام ولم یذکر محمد رحمہ اللہ تعالٰی الأكل مع المجوسی ومع غیرہ من أھل الشرك انہ ھل یحل أم لَا؟ وحکی عن الحاكم الْإمام عبدالرحمٰن الکاتب أنہ ان ابتلی بہ المسلم مرۃ أو مرتین فلا بأس بہ وأما الدوام علیہ فیکرہ، كذا فی المحیط۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۴۷)۔ أیضًا فلا توكل ذبیحۃ أھل الشرك والمرتد۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۲۸۵)۔