غیرمسلمسےتعلقات
برتناگرغیرمسلماستعمالکرلیںتوکیاکروں؟
سوال:۔
آپ سے ایک مسئلہ عرض کرنا چاہتا ہوں، جواب اخبار میں دے کر سینکڑوں مسلمان غیرملکیوں کا مسئلہ حل فرمائیں، تاحیات دُعاگو رہوں گا۔ گزارش ہے کہ یہاں کے لوگ سوَر کا گوشت اور کتے کا گوشت مرغوب غذا کے طور پر بے حد زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ میرے ساتھ دیگر کورین کام کرتے ہیں، جبکہ کمپنی کا میس ایک ہی ہے، جن برتنوں میں وہ پکاتے ہیں، میرے برتن علیحدہ ہیں، مگر کوشش کے باوجود بھی پاکیزگی برقرار نہیں رکھ سکتا ہوں، زبان کا بھی مسئلہ ہے۔ بعض اوقات کورین میرے برتنوں کو استعمال کرلیتے ہیں، اب روز روز تو برتن خریدے بھی نہیں جاسکتے کہ یہاں مہنگائی انتہائی حد تک زیادہ ہے۔ آپ فرمائیں، ان ناگریز حالات میں کون سا عمل کروں کہ دِل و ضمیر مطمئن رہ سکے، تاحیات دُعاگو رہوں گا۔
جواب:۔
یہ تو بہت اچھا ہے کہ آپ کے استعمال کے برتن الگ ہیں، اس پر تو مکمل پابندی ہونی چاہئے کہ ان کے نجس کھانے کے کسی ذرّے کے ساتھ بھی آپ کے برتن ملوّث نہ ہوں۔ مثلاً جو چمچہ ان کے برتن کے لئے استعمال ہو رہا ہے، وہ آپ کے برتن میں استعمال نہ ہو۔
ویسے آپ کے خالی برتنوں کو اگر وہ لوگ استعمال کرلیتے ہیں (اگرچہ ان کو ایسا نہیں کرنا چاہئے، اور جہاں تک ممکن ہو، اس میں بھی احتیاط کرنی چاہئے، اس کے باوجود اگر وہ آپ کا برتن اُٹھاکر استعمال کرلیں) تو آپ دھوکر اور پاک کرکے ان کو استعمال کرسکتے ہیں، پاک کرلینے کے بعد آپ کا ضمیر قطعاً مطمئن رہنا چاہئے۔(۱)
- (۱) عن أبی ثعلبۃ الخشنی انہ قال: یا رسول اللہ! أنا بأرض أھل کتابٍ فنطبخ فی قدورھم ونشرب فی آنیتھم، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان لم تجدوا غیرھا فارحضوھا بالماء ۔۔۔ (ترمذی ج:۲ ص:۲، باب ما جاء فی الأكل فی آنیۃ الکفار)۔

