غیرمسلمسےتعلقات
مختلفمذاہبکےلوگوںکااکٹھےکھاناکھانا
سوال:۔
اگر سو آدمی اکٹھے کھانا کھاتے ہیں اور برتن اسٹیل کے ہیں یا چینی کے، اور ان کو صرف گرم پانی سے دھویا جاتا ہے، سو آدمیوں میں عیسائی، ہندو، سکھ، مرزائی ہیں۔ برتن ایک دُوسرے سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں، اگر عیسائی، سکھ، ہندو، مرزائی کا برتن کسی مسلم کے پاس آجائے تو کیا جائز ہے؟ اگر نہیں تو مسلح افواج میں ایسا ہوتا ہے، حکومت اس سے پرہیز کرتی ہے تو فوج میں انتشار پیدا ہوسکتا ہے، یا فوجیوں کے دِل میں ایک دُوسرے کے خلاف کوئی بات بیٹھ سکتی ہے۔
جواب:۔
غیرمسلم کے ہاتھ پاک ہوں تو اس کے ساتھ کھانا بھی جائز ہے،(۱) اور اس کے استعمال شدہ برتنوں کو دھوکر استعمال کرنے میں بھی مضائقہ نہیں۔(۲) ہمارا دِین اس معاملے میں تنگی نہیں کرتا، البتہ غیرمسلموں کے ساتھ زیادہ دوستی کرنے اور ان کی عادات و اطوار اپنانے سے منع کرتا ہے۔(۳)
ولو أدخل الکفار أو الصبیان أیدیھم لَا یتنجس اذا لم یكن علٰی أیدیھم نجاسۃ حقیقیۃ۔ (حلبی كبیر ص:۱۰۳)۔
- (۱) وأما نجاسۃ بدنہ فالجمھور علٰی أنہ لیس بنجس البدن والذات، لأن اللہ تعالٰی أحلّ طعام أھل الکتاب۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۳۴۶، طبع سہیل اکیڈمی)۔
- (۲) قال محمد رحمہ اللہ تعالٰی ویکرہ الأكل والشرب فی اوانی المشرکین قبل الغسل ومع ھٰذا لو أكل أو شرب فیھا قبل الغسل جاز ولَا یکون آكلًا ولَا شاربًا حرامًا وھٰذا اذا لم یعلم بنجاسۃ الأوانی ۔۔۔الخ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۵ ص:۳۴۷)۔
- (۳) وفی الجصاص: ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلنَّصَٰرَىٰٓ أَوۡلِيَآءَۘ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَإِنَّهُۥ مِنۡهُمۡۗ ﵞ ۔۔۔ ویدل علٰی وجوب البرائۃ من الکفار والعداوۃ لھم، لأن الولَایۃ ضد العداوۃ فاذا امرنا بمعاداۃ الیھود والنصاریٰ لکفرھم وغیرھم من الکفار بمنزلتھم ۔۔۔الخ۔ (احکام القرآن للجصاص ج:۲ ص:۴۴۴، سھیل اکیڈمی، لَاھور)۔

