غیرمسلمسےتعلقات
چینیاوردُوسرےغیرمسلموںکےہوٹلوںمیںغیرذبیحہکھانا
سوال:۔
کچھ عرصے سے میرے دِماغ میں ایک بات کھٹک رہی ہے، وہ یہ کہ ہمارے ہاں بیشتر لوگ شوقیہ طور پر چائینز ریسٹورنٹس میں کھانا کھاتے ہیں، لیکن اس بات کی تحقیق نہیں کرتے کہ جو کھانا وہ کھاتے ہیں آیا وہ حلال ہوتا ہے یا حرام؟ میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ جب اس نے معلومات کیں تو پتہ چلا کہ یہ ہوٹل والے نہ صرف جانور اپنے ہاتھ سے کاٹتے ہیں بلکہ بعض اوقات مری ہوئی مرغیاں بھی کاٹ دیتے ہیں۔ میری عرض ہے کہ کیا غیرمسلم کے ہاتھ سے کٹا ہوا جانور حلال ہوتا ہے یا نہیں؟
جواب:۔
ایسے ہوٹل میں کھانا نہیں کھانا چاہئے جہاں پاک وناپاک، حلال و حرام کی تمیز نہ کی جاتی ہو۔(۱) اہلِ کتاب کا ذبیحہ حلال ہے بشرطیکہ وہ اہلِ کتاب بھی ہوں، اہلِ کتاب کے علاوہ باقی غیرمسلموں کا ذبیحہ حرام ہے۔(۲)
- (۱) ان ما اشتبہ أمرہٗ فی التحلیل والتحریم ولَا یعرف لہ أصل متقدم فالورع أن یترکہ ویجتنبہ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۶ ص:۳۷، طبع مکتبہ امدادیۃ ملتان)۔۱۳۴
- (۲) لَا تحل ذبیحۃ غیر کتابی من وثنی ومجوسی ومرتد ۔۔۔ الخ۔ (در مختار ج:۶ ص:۲۹۸، طبع ایچ ایم سعید)۔

