بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیرمسلم‌سے‌تعلقات

کیا‌غیرمسلم‌کے‌ساتھ‌کھانا‌کھانے‌سے‌ایمان‌تو‌کمزور‌نہیں‌ہوتا؟

سوال:۔

میرا مسئلہ کچھ یوں ہے کہ میں ایک بہت بڑے پروجیکٹ پر کام کرتا ہوں، جہاں پر اکثریت مسلمانوں کی ہی کام کرتی ہے، مگر اس پروجیکٹ میں ورکروں کی دُوسری بڑی تعداد مختلف قسم کے عیسائیوں کی ہے، وہ تقریباً ہر ہوٹل سے بلاروک ٹوک کھاتے ہیں اور ہر قسم کا برتن استعمال میں لاتے ہیں، برائے مہربانی شرعی مسئلہ بتائیے کہ ان کے ساتھ کھانے پینے میں کہیں ہمارا ایمان تو کمزور نہیں ہوتا؟

جواب:۔

اسلام چھوت چھات کا قائل نہیں، غیرمسلموں سے دوستی رکھنا، ان کی شکل، وضع اختیار کرنا اور ان کے اطوار وعادات کو اَپنانا حرام ہے،(۱) لیکن اگر ان کے ہاتھ نجس نہ ہوں تو ان کے ساتھ کھالینا بھی جائز ہے۔(۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کافروں نے بھی کھانا کھایا ہے۔(۳) ہاں! طبعی گھن ہونا اور بات ہے۔

  1. (۱) وعنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من تشبہ بقوم فھو منھم۔ (مشکوٰۃ ص:۳۷۵) وفی المرقاۃ: من تشبہ بقوم أی: من شبہ نفسہ بالکفار مثلًا فی اللباس وغیرہ أو بالفساق أو الفجار أو بأھل التصوف والصلحاء الأبرار (فھو منھم) أی فی الْإثم والخیر۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۴ ص:۴۳۱ طبع اصح المطابع، بمبئی)۔
  2. (۲) ولو أدخل الکفار أو الصبیان أیدیھم لَا یتنجس اذا لم یكن علٰی أیدیھم نجاسۃ حقیقیۃ۔ (حلبی كبیر ص:۱۰۳)
  3. (۳) وأنزل وفد عبدالقیس فی دار رملۃ بنت الحارث وأجرٰی علیھم ضیافۃ وأقاموا عشرۃ أیام۔ (طبقات ابن سعد ج:۱ ص:۳۱۵)۔