غیرمسلمسےتعلقات
غیرمسلمکےساتھکھاناپینااورملناجلنا
سوال:۔
ہم نے مسافروں کے پانی پینے کے لئے ٹھنڈے مٹکوں کی سبیل بنارکھی ہے، ایک دن ایک عیسائی نے ہمارے مٹکوں میں سے پانی نکال کر اپنے گلاس میں پیا اور ہم نے اس سے کہا کہ آئندہ یہاں سے پانی نہ پیا کریں۔ اس نے کہا: میں اس چیز کی معافی چاہتا ہوں۔ چنانچہ وہاں پر ایک عالم موجود تھا اور میں نے اس سے پوچھا کہ یہ واقعہ ابھی آپ کے سامنے ہوا ہے، کیا پانی گرادیا جائے یا نہیں؟ اس نے کہا کہ: پانی گرادیں۔ اور یہ بھی کہا کہ: اہلِ کتاب کے ساتھ آپ کھاپی سکتے ہیں۔ اب عیسائیوں کے ساتھ کھانا پینا اور ان کا ہمارے برتن کو ہاتھ لگانا کیسا ہے؟ خدا کے لئے اس کا جواب ضرور دیں، تاکہ ہماری اصلاح ہوجائے۔
جواب:۔
کسی غیرمسلم کے پانی لینے سے برتن اور پانی ناپاک نہیں ہوجاتا۔(۱) کسی غیرمسلم کو آپ اپنے دسترخوان پر کھانا بھی کھلاسکتے ہیں۔(۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر غیرمسلم بھی کھانا کھاتے تھے۔(۳) غیرمسلم سے دوستانہ اُلفت و محبت جائز نہیں۔(۴)
- (۱) ولو أدخل الکفار أو الصبیان أیدیھم لَا یتنجس اذا لم یكن علٰی أیدیھم نجاسۃ حقیقیۃ۔ (حلبی كبیر ص: ۱۰۳)۔
- (۲) ولَا بأس بأن یضیف کافرًا۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۴۳۷، طبع بلوچستان)۔
- (۳) وأنزل وفد عبدالقیس فی دار رملۃ بنت الحارث وأجریٰ علیھم ضیافۃ وأقاموا عشرۃ أیام۔ (طبقات ابن سعد ج:۱ ص:۳۱۵، طبع دار صادر، بیروت)۔
- (۴) ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمۡ أَوۡلِيَآءَ تُلۡقُونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ ﵞ الممتحنة ١ ۔۔۔الخ۔ وأیضًا: قال تعالٰی: ﵟ لَّا يَتَّخِذِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ ﵞ٠٠٠٠إلخ‘‘۔

