بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیرمسلم‌سے‌تعلقات

کرسمس‌کے‌موقع‌پر‌عیسائیوں‌یا‌کسی‌دُوسرے‌کے‌تہوار‌پر‌کھانا‌وغیرہ‌کھانا

سوال:۔

کرسمس کے موقع پر ۲۵؍دسمبر سے ایک دو دن قبل ہر سال دفتری اوقات میں عیسائی ملازمین کرسمس پارٹی کا بندوبست کرتے ہیں، جس میں ہم مسلمان لوگوں کو بھی اخلاقاً کھانے، کیک وغیرہ کھانا پڑتے ہیں۔ کیا مسلمان ملازمین کے لئے کرسمس پارٹی کے یہ کھانے وغیرہ کھانا صحیح ہیں، جبکہ پارٹی دفتری اوقات میں دفتر کے اندر ہوتی ہے؟

سوال:۔

اسی طرح اگر دیگر مذاہب کے لوگ (قادیانی نہیں) ان کے کسی مذہبی تہوار کی وجہ سے دفتر میں دفتری اوقات کے دوران دفتر کے سب اسٹاف کے لئے کچھ مٹھائی وغیرہ لائیں تو کیا مسلمان کے لئے اس کا کھانا جائز ہے؟

سوال:۔

کرسمس پارٹی کے موقع پر سب لوگ گھر سے پکاکر یا بازار سے خرید کر کھانے کی کوئی چیز لاتے ہیں، اس طرح مل کر پارٹی بن جاتی ہے۔ چونکہ دفتر والے سب سے کہتے ہیں کہ ہر شخص کوئی نہ کوئی کھانے کی چیز لائے تو ہمارے مسلمان ساتھی بھی کھانے پینے کی کوئی نہ کوئی چیز اخلاقاً لے آتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا ایک مسلمان کا کرسمس منانے کے مترادف ہوگا؟

جواب:۔

جائز ہے۔(۱)

جواب:۔

یہ بھی جائز ہے۔(۲)

جواب:۔

جائز ہے۔(۳)

(۱و۲) لَا بأس بطعام الیھود والنصاریٰ كلہ من الذبائح وغیرھا ۔۔۔ الخ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۵ ص:۳۴۷)۔

لَا بأس بطعام الیھود والنصاریٰ كلہ من الذبائح وغیرھا ۔۔۔ الخ۔

(فتاویٰ عالمگیری ج:۵ ص:۳۴۷، طبع بلوچستان)۔ أیضًا ولو اھدی لمسلم ولم یرد تعظیم الیوم بل جری علٰی عادۃ الناس لَا یکفر وینبغی أن یفعلہ قبلہ أو بعدہ نفیا للشبھۃ ۔۔۔الخ۔ (الدر المختار مع ردّ المحتار ج:۶ ص:۷۵۴، طبع ایچ ایم سعید)۔

  1. (۳) اگر کفار کے تہواروں کی تعظیم مقصود نہ ہو اور ان تہواروں سے ایک دن پہلے یا بعد، کھانے پینے کی پارٹی کرلی جائے تو اگرچہ جائز ہے اور فتویٰ اسی پر ہے، تاہم تشبہ کی بنا پر اِحتراز میں زیادہ اِحتیاط ہے۔