غیرمسلمسےتعلقات
غیرمسلمکاکھاناجائزہے،لیکناسسےدوستیجائزنہیں
سوال:۔
میرا ایک دوست عیسائی ہے، میرا اس کے گھر روزانہ کا آنا جانا ہے، اکثر وہ مجھے کھانا بھی کھلا دیتا ہے۔ کیا کسی غیرمسلم کے یہاں کھانا کھالینا جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ جس پلیٹ میں ہم کھانا کھاتے ہیں، ان میں اکثر وہ لوگ سور وغیرہ بھی کھاتے ہیں۔
جواب:۔
برتن اگر پاک ہوں اور کھانا بھی حلال ہو تو غیرمسلم کا کھانا جائز ہے،(۱) مگر غیرمسلم سے دوستی جائز نہیں۔(۲)
- (۱) قال محمد رحمہ اللہ: ویکرہ الأكل والشرب فی أوانی المشرکین قبل الغسل ومع ھٰذا لو أكل أو شرب منھا قبل الغسل جاز، ولَا یکون آكـلًا ولَا شاربًا حرامًا، وھٰذا اذا لم یعلم بنجاسۃ الأوانی۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۴۷)۔
- (۲) قال اللہ تعالٰی: ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمۡ أَوۡلِيَآءَ تُلۡقُونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ ﵞ الممتحنة ١ ۔۔۔الخ۔ وقال تعالٰی: ﵟ لَّا يَتَّخِذِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ فَلَيۡسَ مِنَ ٱللَّهِ فِي شَيۡءٍ إِلَّآ أَن تَتَّقُواْ مِنۡهُمۡ تُقَىٰةٗۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفۡسَهُۥۗ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلۡمَصِيرُ ٢٨ ﵞ آل عمران ٢٨۔

