غیرمسلمسےتعلقات
غیرمسلمکےگھرکاکھاناکھانا
سوال:۔
کیا ہم مسلمانوں کے لئے یہ جائز ہے کہ کسی غیرمسلم کے یہاں سے اگر کھانا آئے تو اسے نہیں کھانا چاہئے اور اگر کوئی مسلمان ایسا کرے گا تو وہ کافروں میں شمار ہوگا؟
جواب:۔
غیرمسلموں کا کھانا اگر پاک اور حلال ہو تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔(۱) ہاں! کافروں سے دوستی کا تعلق نہیں رکھنا چاہئے۔(۲)
- (۱) ولَا بأس بطعام الیھود والنصاریٰ كلہ من الذبائح وغیرھا ویستوی الجواب بین أن یکون الیھود والنصاریٰ من أھل الحرب۔۔۔ الخ۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۴۷)۔
- (۲) قال اللہ تعالٰی: ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمۡ أَوۡلِيَآءَ تُلۡقُونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ ﵞ الممتحنة ١ وقال تعالٰی: ﵟ لَّا يَتَّخِذِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ فَلَيۡسَ مِنَ ٱللَّهِ فِي شَيۡءٍ إِلَّآ أَن تَتَّقُواْ مِنۡهُمۡ تُقَىٰةٗۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفۡسَهُۥۗ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلۡمَصِيرُ ٢٨ ﵞ نھٰی تبارك وتعالٰی عبادہ أن یوالوا الکافرین، وأن یتخذوھم أولیاء یسرّون الیھم بالمودّۃ من دون المؤمنین۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۲۷ طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)

