بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیرمسلم‌سے‌تعلقات

’’میثاقِ‌مدینہ‘‘‌سے‌غیرمسلموں‌کی‌دوستی‌کا‌جواز‌پکڑنا

سوال:۔

بعض حضرات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہودیوں سے ایک معاہدہ میثاقِ مدینہ کے حوالے سے یہودیوں کی دوستی و معاونت کو جائز قرار دینے کی بات کرتے ہیں۔ دریافت طلب یہ ہے کہ سورۂ مائدہ کی متذکرہ بالا آیات میثاقِ مدینہ سے پہلے نازل ہوئیں یا بعد کو؟ قیاس و گمان یہ ہے کہ یہ آیات بعد کو نازل ہوئیں، اگر پہلے نازل ہوتیں تو میثاقِ مدینہ کی نوبت ہی نہیں آتی، اور جب بعد کو نازل ہوئیں تو پھر اس کے بعد ایسی دوستی اور معاونت کا جواز باقی نہ رہا، بلکہ واضح آیات کے تحت حکمِ قرآنی کی کھلی خلاف ورزی ہی ہوسکتی ہے۔ تقسیمِ برِصغیر ہند کے وقت سے ہم لوگوں کے لئے تجربات و مشاہدات بھی یہی ثابت کرتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ کی دوستی اور معاونت محض ظاہری سطح پر ہوتی ہے، حقیقت میں یہ اسلام اور مسلمانوں سے دُشمنی بڑی گہری اور دُوررس ہوتی ہے اور ہو رہی ہے، اور ہوتی رہے گی۔ خلیج عرب ممالک میں بھی برسوں پُرانی دوستی کا انجام اسرائیل کی شکل میں ظہور پذیر ہوا، دوستی کا یہی اِنعام ملا۔

جواب:۔

میثاقِ مدینہ نزولِ مائدہ سے پہلے کا ہے۔(۱) علاوہ ازیں کسی قوم سے سیاسی معاہدہ کرلینا دوستی کے ضمن میں نہیں آتا۔(۲)

البدایہ والنہایہ ج:۳ ص:۲۲۴-۲۲۶۔ اور نزول کے اعتبار سے سورت مائدہ سب سے آخری سورت ہے:

’’المائدۃ من آخر القرآن تنزیلًا‘‘ (روح المعانی ج:۶ ص:۳۰۱، طبع خیریہ، ایضاً معارف القرآن ج:۳ ص:۱۰ مائدۃ)۔

  1. (۱) کیونکہ یہ ۱ ھ کا واقعہ ہے، تفصیل کے لئے دیکھیں:
  2. (۲) تفصیل ملاحظہ فرمائیں: جواہر الفقہ (ج:۲ ص:۱۹۵، طبع کراچی)۔