بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیرمسلم‌سے‌تعلقات

غیرمسلم‌رشتہ‌داروں‌سے‌معاملہ

سوال:۔

میرے سسر چھ سال سے غیرمسلم ہوگئے ہیں، کیا میرے سسر اور ساس کا نکاح قائم ہے؟ اور میری بیوی نے مجھ سے یہ بات چھپاکر رکھی، مجھے اپنے دُوسرے رشتہ داروں سے معلوم ہوا کہ میرے سسر چھ سال ہوئے غیرمسلم ہوگئے ہیں۔ میں اپنی بیوی کو ان کے والدین اور بہن بھائیوں سے ملنے جلنے دوں یا نہیں؟ اگر وہ اس معاملے میں میرا ساتھ دے تو ٹھیک ہے کہ میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے نہیں ملوں گی۔ اگر میری بیوی کہے کہ میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو نہیں چھوڑ سکتی ہوں، تو پھر مجھے کیا کرنا ہوگا؟ جبکہ میرے اس وقت پانچ بچے ہیں۔

جواب:۔

جو شخص پہلے مسلمان ہو، پھر مرتد ہوجائے، اس کا نکاح مسلمان عورت سے قائم نہیں رہتا۔ اگر آپ کی ساس مسلمان ہے تو اس کو مرتد سے الگ ہوجانا چاہئے، ان کا میاں بیوی کا تعلق نہیں رہا۔(۱) آپ کی اہلیہ کو چاہئے کہ اپنے باپ سے قطع تعلق کرے، کیونکہ ایمان کا رشتہ سب سے بڑا رشتہ ہے۔ مرتد، خدا اور رسول کے دُشمن ہیں، اور جو مسلمان اللہ و رسول کے دُشمنوں سے تعلق رکھے، وہ خدا کے قہر اور غضب کے نیچے آئے گا، آپ اپنی بیوی کو سمجھائیں۔(۲)

  1. (۱) ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح، وأولَادہ أولَاد الزنا۔ (در مختار ج:۴ ص:۲۴۶)۔ أیضًا واذا ارتد احد الزوجین عن الْإسلام وقعت الفرقۃ بغیر طلاق وھٰذا عند أبی حنیفۃ وأبی یوسف۔ (ہدایہ ج:۲ ص:۳۴۸)، أیضًا: ولو ارتد والعیاذ باللہ تحرم إمرأتہ ویجدد النکاح بعد إسلامہ ویعید الحج ولیس علیہ الصلاۃ والصوم۔ (فتاویٰ بزازیۃ علی الھندیۃ ج:۶ ص:۳۲۱، طبع بلوچستان)۔
  2. (۲)ﵟ لَّا يَتَّخِذِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ فَلَيۡسَ مِنَ ٱللَّهِ فِي شَيۡءٍ إِلَّآ أَن تَتَّقُواْ مِنۡهُمۡ تُقَىٰةٗۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفۡسَهُۥۗ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلۡمَصِيرُ ٢٨ ﵞ آل عمران ٢٨ ،نھٰی تبارك وتعالٰی عبادہ أن یوالوا الکافرین، وأن یتخذوھم أولیاء یسرّون إلیھم بالمودّۃ من دون المؤمنین۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۲۷)، أیضًا لأن الکفر من المرتد اغلظ من کفر مشرکی العرب۔ (الأشباہ والنظائر مع شرحہ للحموی ج:۲ ص:۲۴۹)، والمرتد اقبح من الکافر الأصلی۔ (أیضًا ج:۱ ص:۲۹۱)