بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غیرمسلم‌سے‌تعلقات

غیرمسلم‌والدین‌اور‌عزیزوں‌سے‌تعلقات

سوال:۔

میری تمام برادری کا تعلق ۔۔۔ کافر طبقے سے ہے، اور میں الحمدللہ! حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ رحمت کے نمک خواروں میں سے ہوں۔ حنفی مسلک کی رُو سے مستند حوالہ جات سے فرمائیے کہ میرا ان لوگوں کے ساتھ ملنا جلنا، رشتہ داری، لین دین ہونا چاہئے کہ نہیں؟ عرصہ پانچ سال سے میرا اپنے دِل کی آواز سے ان لوگوں سے خاص طور پر میل ملاپ قطعاً بند ہے، شریعتِ مطہرہ کی رُو سے یہ بھی بتائیے کہ میرا اپنے والد کے ساتھ عمل کیسا ہونا چاہئے کہ جن کا تعلق بھی اسی کافر طبقے سے ہے؟ وہ قطعاً میری تبلیغ کا اثر نہیں لیتے بلکہ پیٹھ پیچھے مجھے بددُعائیں اور گالیاں نکالتے ہیں، کیا مذہبی فرق کے ناطے سے جو گالیاں، بددُعا مجھے پڑتی ہے کیا ان کی بھی کوئی حیثیت ہے کہ نہیں؟

جواب:۔

والدین اگر غیرمسلم ہوں اور خدمت کے محتاج ہوں تو ان کی خدمت ضرور کرنی چاہئے، لیکن ان سے محبت کا تعلق نہیں ہونا چاہئے۔(۱) اسی طرح ایسے عزیز و اقارب سے بھی دوستانہ و برادرانہ تعلق جائز نہیں۔(۲) آپ کے والدین کی بددُعاؤں اور گالیوں کا آپ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ وہ اس طرزِ عمل سے خود اپنے جرم میں اضافہ کرتے ہیں۔(۳)

  1. (۱) ﵟ وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ ۔۔۔ وَإِن جَٰهَدَاكَ عَلَىٰٓ أَن تُشۡرِكَ بِي مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٞ فَلَا تُطِعۡهُمَاۖ وَصَاحِبۡهُمَا فِي ٱلدُّنۡيَا مَعۡرُوفٗاۖ ﵞ لقمان ١٥۔ ’’فأمر بمصاحبۃ الوالدین المشرکین بالمعروف مع النھی عن طاعتھما فی الشرك لأنہ لَا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ (احکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۱۹۶، وایضًا تفسیر ابن کثیر ج:۵ ص:۱۰۶)۔ وفی الھندیۃ: اذا کان لرجل أو لِامرأۃ والدان کافران علیہ نفقتھما وبرّھما وخدمتھما وزیارتھما ۔۔۔الخ۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۴۸، الباب الرابع عشر فی أھل الذمۃ والأحکام التی تعود إلیھم)۔
  2. (۲) ﵟ لَّا تَجِدُ قَوۡمٗا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ يُوَآدُّونَ مَنۡ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَآءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَٰنَهُمۡ أَوۡ عَشِيرَتَهُمۡۚ ﵞ المجادلة ٢٢ الخ‘‘ ۔
  3. (۳) عن أبی الدرداء رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ان العبد اذا لعن شیئًا صعدت ۔۔۔ الی السماء ۔۔۔ أی وان لم یكن أھلًا بھا بأن کان مظلومًا رجعت الٰی قائلھا فانہ المستحق لھا وأھلھا۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۴ ص:۶۳۷)۔