بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قادیانی‌فتنہ

دِین‌دار‌انجمن‌کے‌پیروکار‌مرتد‌ہیں

سوال:۔

ہمارے محلے میں دِین دار انجمن کے نام سے ایک تنظیم کام کر رہی ہے، جس کے نگران اعلیٰ سعید بن وحید صاحب ہیں جو کہ ہمارے علاقے میں ہی رہائش رکھتے ہیں، ان کے صاحب زادے کا حال ہی میں حادثے کی وجہ سے انتقال ہوگیا، علاقے کے مسلمانوں کے رَدِّعمل کی وجہ سے اس کی نمازِ جنازہ علاقے میں نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے قبرستان میں نمازِ جنازہ پڑھانے کے بعد اسی قبرستان میں تدفین کردی گئی، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب:۔

دِین دار انجمن کے حالات و عقائد پروفیسر الیاس برنی مرحوم نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ میں ذکر کئے ہیں، اور جناب مفتی رشید احمد لدھیانوی نے اس فرقے کے عقائد پر مستقل رسالہ ’’بھیڑ کی صورت میں بھیڑیا‘‘ کے نام سے لکھا ہے۔

یہ جماعت، قادیانیوں کی ایک شاخ ہے، اور اس جماعت کا بانی بابو صدیق دِین دار ’’چن بسویشور‘‘ خود بھی نبوّت بلکہ خدائی کا مدعی تھا۔ بہرحال یہ جماعت مرتد اور خارج اَز اسلام ہے، ان سے مسلمانوں کا سا معاملہ جائز نہیں، ان کا جنازہ نہ پڑھا جائے، نہ ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ ان مرتدین کا جو مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردیا گیا ہے، اس کو اُکھاڑنا ضروری ہے،(۱) اس کے خلاف احتجاج کیا جائے اور ان سے کہا جائے کہ مسلمانوں کے قبرستان کو اس مردار سے پاک کریں۔

  1. (۱) اذا مات (المرتد) أو قتل علٰی ردّتہ لم یدفن فی مقابر المسلمین، ولَا أھل ملۃ وانما یلقی فی حفرۃ کالكلب۔ (الأشباہ والنظائر ج:۱ ص:۲۹۱، الفن الثانی، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔ أیضًا عن انس بن مالك قال ۔۔۔ فأمر النبی صلی اللہ علیہ وسلم بقبور المشرکین فنبشت ۔۔۔ الخ۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۶۱، طبع نور محمد کراچی)، وفی عمدۃ القاری: فان قلت کیف یجوز اخراجھم من قبورھم والقبر مختص بمن دفن فیہ فقد حازہ فلا یجوز بیعہ ولَا نقلہ عنہ، قلت: تلك القبور التی أمر النبی صلی اللہ علیہ وسلم بنبشھا لم تكن أملاكًا لمن دفن فیھا بل لعلھا غصبت فلذٰلك باعھا ملاکھا وعلٰی تقدیر التسلیم انھا حبست فلیس بلازم انما اللازم تحبیس المسلمین لَا الکفار ولھٰذا قالت الفقھاء اذا دفن المسلم فی أرض مغصوبۃ یجوز اخراجہ فضلًا عن المشرك۔ (عمدۃ القاری ج:۲ جزء:۴ ص:۱۷۹، طبع دار الفکر، بیروت)۔