بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قادیانی‌فتنہ

عورت‌کی‌خاطر‌دِین‌کو‌چھوڑ‌کر‌قادیانی‌ہونا

سوال:۔

میرے دادا قادیانی تھے، لیکن ابو مسلمان ہوگئے تھے، پھر انہوں نے شادی بھی مسلمانوں میں کی۔ اب میں اپنی پھوپھی کی لڑکی سے شادی کا خواہش مند ہوں، اور مسئلہ یہ ہے کہ اس کی ماں کہتی ہے کہ: پہلے قادیانی بنو، پھر رشتہ ملے گا۔ لڑکی کہتی ہے کہ: تم فرضی قادیانی بن کر مجھ سے شادی کرلو، میں بعد میں مسلمان ہوجاؤں گی۔ وہ سچی ہے اور میرے ساتھ گھر تک چھوڑنے کو تیار ہے، مگر میں نہیں چاہتا کہ وہ اپنے ماں باپ کی بدنامی کا باعث بنے۔ کیا میں ایک لڑکی کو مسلمان کرنے کی خاطر قادیانی بن جاؤں اور اس کو نکاح کے بعد مسلمان کرلوں؟ کیا اسلام اجازت دیتا ہے کہ قادیانی سے شادی کرلی جائے، بعد میں یعنی نکاح کے بعد میں اس کو مسلمان بنالوں گا۔ اگر یہ تمام غلط باتیں ہیں اور اسلام میں جائز نہیں ہیں تو پھر مجھے اس کا حل بتائیں۔

جواب:۔

اگر وہ لڑکی واقعی آپ کے کہنے پر مسلمان ہونے کو تیار ہے تو پہلے مسلمان ہوجائے، پھر اس سے نکاح کرلیں۔ اس کا یہ کہنا کہ پہلے آپ نکاح کے لئے فرضی طور پر قادیانی بن جائیں، بعد میں وہ مسلمان ہوجائے گی، قطعاً غلط اور ناجائز ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ پہلے کافر بن جائیں، بعد میں وہ مسلمان ہوجائے گی۔(۱) ایک عورت کی خاطر اپنے دِین و ایمان کو چھوڑ دینا، کیا کوئی مسلمان اس کا تصوّر کرسکتا ہے۔۔۔؟

  1. (۱) ومن أضمر الکفر أو ھمّ بہ فھو کافر ۔۔۔ ولو قال ان کان غدًا كذا فأنا أکفر قال ابو القاسم: ھو کافر من ساعتہ۔ (فتاویٰ تاتارخانیۃ ج:۵ ص:۳۱۳، أحکام المرتدین)۔