بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قادیانی‌فتنہ

اگر‌کوئی‌جانتے‌ہوئے‌قادیانی‌عورت‌سے‌نکاح‌کرلے‌تو‌اس‌کا‌شرعی‌حکم

سوال:۔

اگر کوئی شخص کسی قادیانی عورت سے یہ جاننے کے باوجود کہ یہ عورت قادیانی ہے، عقد کرلیتا ہے تو اس کا نکاح ہوا کہ نہیں؟ اور اس شخص کا ایمان باقی رہا یا نہیں؟

جواب:۔

قادیانی عورت سے نکاح باطل ہے،(۱) رہا یہ کہ قادیانی عورت سے نکاح کرنے والا مسلمان بھی رہا یا نہیں؟ اس میں یہ تفصیل ہے کہ:

الف:۔ اگر اس کو قادیانیوں کے کفریہ عقائد معلوم نہیں۔ یا ۔۔۔

ب:۔ اس کو یہ مسئلہ معلوم نہیں کہ قادیانی مرتدوں کے ساتھ نکاح نہیں ہوسکتا۔۔۔ تو ان دونوں صورتوں میں اس شخص کو خارج از ایمان نہیں کہا جائے گا، البتہ اس شخص پر لازم ہے کہ مسئلہ معلوم ہونے پر اس قادیانی مرتد عورت کو فوراً علیحدہ کردے اور آئندہ کے لئے اس سے ازدواجی تعلقات نہ رکھے، اور اس فعل پر توبہ کرے۔ اور اگر یہ شخص قادیانیوں کے عقائد معلوم ہونے کے باوجود ان کو مسلمان سمجھتا ہے، تو یہ شخص بھی کافر اور خارج از ایمان ہے، کیونکہ عقائدِ کفریہ کو اِسلام سمجھنا خود کفر ہے،(۲) اس شخص پر لازم ہے کہ اپنے ایمان کی تجدید کرے۔(۳)

  1. (۱) وحرم نکاح الوثنیۃ بالْإجماع۔ (وفی الشامی) ویدخل فی عبدۃ الأوثان ۔۔۔ والمعطلۃ والزنادقۃ والباطنیۃ والْإباحیۃ، وفی شرح الوجیز: وكل مذھب یکفر بہ معتقدہ۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۴۵، کتاب النکاح)۔
  2. (۲) والأصل ان من اعتقد الحرام حلالًا، فإن کان حرامًا لغیرہ كمال الغیر لَا یکفر، وان کان لعینہ فان کان دلیلہ قطعیًا کفر، وإلّا فلا۔ (فتاویٰ شامیہ ج:۴ ص:۲۲۳، باب المرتد، مطلب فی منکر الْإجماع)۔
  3. (۳) ما یکون کفرًا اتفاقًا یبطل العمل والنکاح ۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤمر بالاِستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (فتاویٰ شامیہ ج:۴ ص:۲۴۶، باب المرتد)۔