بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قادیانی‌فتنہ

خود‌کو‌قادیانی‌ظاہر‌کرکے‌الیکشن‌لڑنے‌اور‌ووٹ‌بنوانے‌والے‌کا‌شرعی‌حکم

سوال:۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے پر کہ کافی آدمیوں نے قادیانیوں کی مقرّرہ قومی و صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر ضلع سانگھڑ کے علاقے بوبی گوٹھ میں اپنے آپ کو قادیانی ظاہر کرکے اُمیدوار بن کر انتخابات میں حصہ لیا، اور قادیانیوں کے جعلی شناختی کارڈ بنواکر ووٹ ڈالے، جبکہ یہ تمام افراد مسلمان تھے۔ ۱:۔اُمیدوار (کینڈیڈیٹ) مسلمان رہا یا مرتد؟ ۲:۔جن مسلمان افراد نے قادیانیوں کے جعلی شناختی کارڈ بنواکر ووٹ ڈالے، وہ مرتد ہیں یا مسلمان؟ ۳:۔اگر یہ تمام افراد خاموشی سے توبہ کرلیں تو مسلمان ہوں گے یا نہیں؟ ۴:۔بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جس شان سے گناہ کریں، اسی شان سے توبہ کریں، اسی طرح گھر میں خاموشی سے توبہ ہوگی یا نہیں؟ ۵:۔بعض ووٹر کہتے ہیں کہ جعلی ووٹ ڈالنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا، اس لئے توبہ کی ضرورت نہیں، اس لئے ان کے بارے میں کیا رائے ہے کہ وہ مرتد اور واجب القتل ہیں یا نہیں؟ ۶:۔بعض احباب ان کی وکالت کر رہے ہیں کہ یہ قادیانی نہیں ہوئے، وکالت کرنے والوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ۷:۔ بعض افراد کہتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمان بھی ہندوؤں کو ووٹ دیتے ہیں، کیا وہ بھی ہندو ہوتے ہیں یا نہیں؟ ۸:۔پاکستان کی جن پارٹیوں نے ان افراد (اُمیدوار) کی حمایت کی، ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب:۔

خود کو قادیانی ظاہر کرکے ان کی سیٹ پر کھڑے ہونا گناہ ہے، اور اس پر اندیشہ ہے کہ وہ قیامت کے دن مرتد اُٹھائے جائیں گے۔ یہی حکم قادیانیوں کے نام سے ووٹ بنوانے کا ہے، ان کو توبہ کرنی چاہئے اور توبہ کے لئے شرط ہے کہ آئندہ گناہ نہ کریں، چونکہ یہ کام چھپ کر کئے جاتے ہیں، اس لئے اپنے طور پر توبہ کرلینا کافی ہے، لیکن اگر علی الاعلان یہ گناہ کیا گیا تو اس کا اظہار کردینا چاہئے اور اس سے توبہ بھی علی الاعلان کرنی چاہئے۔ اگر مسلمان ہوتے ہوئے ہندو کو ووٹ دیتا ہے تو وہ کافر نہیں ہوگا۔(۱)

  1. (۱) ﵟ مَّن يَشۡفَعۡ شَفَٰعَةً حَسَنَةٗ يَكُن لَّهُۥ نَصِيبٞ مِّنۡهَاۖ وَمَن يَشۡفَعۡ شَفَٰعَةٗ سَيِّئَةٗ يَكُن لَّهُۥ كِفۡلٞ مِّنۡهَاۗ ﵞ النساء ٨٥۔ وفی التفسیر: أی من یسعٰی فی أمر فیترتب علیہ خیر کان لہ نصیب من ذٰلك ومن یشفع شفاعۃ سیئۃ یكن لہ کفل منھا أی یکون علیہ وزر من ذٰلك الأمر الذی ترتب علٰی سعیہ ونیتہ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۳۳۵)۔ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلنَّصَٰرَىٰٓ أَوۡلِيَآءَۘ ﵞ ۔۔۔ وفی ھٰذہ الآیۃ دلَالۃ علٰی ان الکافر لَا یکون ولیًّا للمسلم لَا فی التصرف ولَا فی النصرۃ، ویدل علٰی وجوب البراءۃ والعداوۃ لھم۔ (أحکام القرآن للجصَّاص ج:۲ ص:۴۴۴، جواہر الفقہ ج:۲ ص: ۲۹۵)۔