قادیانیفتنہ
قادیانینوازوکلاءکاحشر
سوال:۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دِین و مفتیانِ دِینِ متین اس مسئلے میں کہ گزشتہ دنوں مردان میں قادیانیوں نے ربوہ کی ہدایت پر کلمۂ طیبہ کے بیج بنوائے، پوسٹر بنوائے اور بیج اپنے بچوں کے سینوں پر لگائے اور پوسٹر دُکانوں پر لگاکر کلمۂ طیبہ کی توہین کی، اس حرکت پر وہاں کے علمائے کرام اور غیرت مند مسلمانوں نے عدالت میں ان پر مقدمہ دائر کردیا، اور فاضل جج نے ضمانت کو مسترد کرتے ہوئے ان کو جیل بھیج دیا۔ اب عرض یہ ہے کہ وہاں کے مسلمان وکلاء صاحبان ان قادیانیوں کی پیروی کر رہے ہیں اور چند پیسوں کی خاطر ان کے ناجائز عقائد کو جائز کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں، ان وکلاء صاحبان میں ایک سیّد ہے۔ برائے کرم قرآن اور احادیثِ نبوی کی روشنی میں تفصیل سے تحریر فرمادیں کہ شریعتِ محمدی کی رُو سے ان وکلاء صاحبان کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔
قیامت کے دن ایک طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیمپ ہوگا اور دُوسری طرف مرزا غلام احمد قادیانی کا۔ یہ وکلاء جنھوں نے دِینِ محمدی صلی اللہ علیٰ صاحبہ وسلم کے خلاف قادیانیوں کی وکالت کی ہے، قیامت کے دن غلام احمد کے کیمپ میں ہوں گے اور قادیانی ان کو اپنے ساتھ دوزخ میں لے کر جائیں گے۔ واضح رہے کہ کسی عام مقدمے میں کسی قادیانی کی وکالت کرنا اور بات ہے، لیکن شعائرِ اسلامی کے مسئلے پر قادیانیوں کی وکالت کے معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مقدمہ لڑنے کے ہیں۔ ایک طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دِین ہے اور دُوسری طرف قادیانی جماعت ہے، جو شخص دِینِ محمدی کے مقابلے میں قادیانیوں کی حمایت ووکالت کرتا ہے وہ قیامت کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں شامل نہیں ہوگا، خواہ وہ وکیل ہو یا کوئی سیاسی لیڈر، یا حاکمِ وقت۔

