بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قادیانی‌فتنہ

قادیانی‌کی‌دعوت‌اور‌اِسلامی‌غیرت

سوال:۔

ایک ادارہ جس میں تقریباً پچّیس افراد ملازم ہیں، اور ان میں ایک قادیانی بھی شامل ہے، اور اس قادیانی نے اپنے احمدی (قادیانی) ہونے کا برملا اظہار بھی کیا ہوا ہے، اب وہی قادیانی ملازم اپنے ہاں بچے کی پیدائش کی خوشی میں تمام اسٹاف کو دعوت دینا چاہتا ہے اور اسٹاف کے کئی ممبران اس کی دعوت میں شریک ہونے کو تیار ہیں۔ جبکہ چند ایک ملازمین اس کی دعوت قبول کرنے پر تیار نہیں، کیونکہ ان کے خیال میں چونکہ جملہ قسم کے مرزائی مرتد، دائرۂ اسلام سے خارج اور واجب القتل ہیں اور اسلام کے غدار ہیں تو ایسے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی دعوت قبول کرنا دُرست نہیں ہے۔ آپ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت کردیں کہ کسی بھی قادیانی کی دعوت قبول کرنا ایک مسلمان کے لئے کیا حیثیت رکھتا ہے؟ تاکہ آئندہ کے لئے اسی کے مطابق لائحہ عمل تیار ہوسکے۔

جواب:۔

مرزائی کافر ہونے کے باوجود خود کو مسلمان اور دُنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر اور حرامزادے کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ: ’’میرے دُشمن جنگلوں کے سوَر ہیں اور ان کی عورتیں ان سے بدتر کتیاں ہیں(۱)‘‘ جو شخص آپ کو کتا، خنزیر، حرامزادہ اور کافر یہودی کہتا ہو، اس کی تقریب میں شامل ہونا چاہئے یا نہیں؟ یہ فتویٰ آپ مجھ سے نہیں بلکہ خود اپنی اسلامی غیرت سے پوچھئے۔۔۔!

  1. (۱) انوار اسلام ص:۳۰۔ رُوحانی خزائن ج:۹ ص:۳۱۔