قادیانیفتنہ
مرزائیوںکےساتھتعلقاترکھنےوالامسلمان
سوال:۔
ایک شخص مرزائیوں (جو بالاجماع کافر ہیں) کے پاس آتا جاتا ہے اور ان کے لٹریچر کا مطالعہ بھی کرتا ہے، اور بعض مرزائیوں سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ یہ ہمارا آدمی ہے، یعنی مرزائی ہے، مگر جب خود اس سے پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ہرگز نہیں بلکہ میں مسلمان ہوں اور ختمِ نبوّت اور حیاتِ عیسیٰ ابنِ مریم علیہما السلام و نزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرحمۃ و فرضیتِ جہاد وغیرہ تمام عقائد اسلام کا قائل ہوں اور مرزائیوں کے دونوں گروہوں کو کافر، کذّاب، دجال، خارج از اسلام سمجھتا ہوں۔ تو کیا وجوہِ بالا کی بنا پر اس شخص پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے گا؟ اگر از رُوئے شریعت وہ کافر نہیں ہے تو اس پر فتویٰ لگانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ جبکہ ان کے عقائدِ مذکورہ معلوم ہوجانے پر بھی تکفیر کرتا ہو اور کفار والا ان کے ساتھ سلوک کرتا ہو اور اس کی نشر و اشاعت کرتا ہو۔
جواب:۔
ایسے شخص سے اس کے مسلمان رشتہ دار بائیکاٹ کریں، سلام و کلام ختم کریں، اس کو علیحدہ کردیں،(۱) اور بیوی اس سے علیحدہ ہوجائے تاکہ یہ شخص اپنی حرکات سے باز آجائے، اگر باز آگیا تو ٹھیک ہے، ورنہ اس کو کافر سمجھ کر کافروں جیسا معاملہ کیا جائے۔(۲)
- (۱) قال الخطابی: رخص للمسلم أن یغضب علٰی أخیہ ثلاث لیال لقلۃ ولَا یجوز فوقھا الّا اذا کان الھجران فی حق من حقوق اللہ فجوز فوق ذٰلك۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۹ ص:۲۶۲، طبع امدادیۃ، ملتان)۔
- (۲) ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمۡ أَوۡلِيَآءَ تُلۡقُونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ ﵞ الممتحنة ١ ۔۔ الخ۔‘‘ ’’ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلنَّصَٰرَىٰٓ أَوۡلِيَآءَۘ ﵞ۔۔۔ﵟ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَإِنَّهُۥ مِنۡهُمۡۗ ﵞ المائدة ٥١۔

